کپتان او ر ٹیم

کپتان او ر ٹیم
کپتان او ر ٹیم

  

کپتان بہادر ہونا چاہئے۔۔۔بالکل ہونا چاہئے، کمزور ٹیم میں بھی جان ڈال دیتا ہے، لیکن بہادر کپتان بھی اس وقت کچھ نہیں کر سکتا جب، اس کی ٹیم بے شک تگڑی ہو، لیکن کھلاڑی ٹیم کے لئے نہیں، بلکہ اپنی ذاتی اننگز کھیل رہے ہوں، ٹیم سے زیادہ انہیں اپنی ذات کی فکر ہو اور صرف مفاد کو سامنے رکھ کر میدان میں اتریں۔

ٹیپو سلطان کیا بہادر نہیں تھا؟ ایسا بہادر کہ ماؤں نے کم ہی ایسے شیر جوان پیدا کئے ہوں گے، جو موت کے سامنے بھی ایسا فقرہ بول گیا کہ موت بھی اسے نہ مار سکی دنیا کو کوئی مورخ اس کو بزدل ،بے ایمان اور مفادپرست نہ لکھ سکا، مگر اس بہادر انسان کے ساتھ کیا ہوااس کی ٹیم کے ہروال دستے کے دو اہم کھلاڑی اپنے مفاد کا کھیل کھیل گئے اور تاریخ انسانی کے بہادرترین راہنما کو قربان کردیا۔

عمران خان بلاشبہ بہادر انسان ہے۔ کپتان کی بہادری پر کسی کو شک نہیں۔کرکٹ کا میدان ہو یا سیاست کا کھیل اس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ڈر کر مقابلے سے بھاگنے والا نہیں،مگر کپتان کے ہراول دستے کے جرنیل تو وقت سے پہلے ہی اس کا قلعہ مسمار کرنے پر تلے نظر آتے ہیں۔

کپتان نے اپنی ٹیم کا چناؤ نظریہ کی بجائے کھلاڑیوں کی دیگر صلاحیتوں کو سامنے رکھ کر کیا ہے۔ نظریہ اور مفاد دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ نظریہ اصول و ضوابط کا پابند کرتا ہے، جبکہ مفاد کا رستہ ہی دوسرا ہے۔بے ایمانی،دھونس،دھاندلی موقعہ پرستی اور بے وفائی جو لوگ نظریہ کی بجائے مفاد پر چلتے ہیں، ان کا سفر دیرپا ہوتا ہے، نہ کامیاب۔۔۔دانا کہتے ہیں۔ ہزاروں خواہشیں قربان کردو،لیکن نظریہ کی موت کبھی نہ ہونے دو۔کپتان نے نظریہ پر خواہشات کو غالب کر لیا ہے، اس لئے اس کے ارد گرداقتدار کے بھوکے گروہ اکٹھے ہورہے ہیں، خدشہ ہے اسی کو ہڑپ نہ کرجائیں۔ان کا ٹریک ریکارڈ اس کام میں ان کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کپتان نے سرزمین پاک سے چن چن کر نایاب ہیرے اکٹھے کر لئے ہیں۔الیکٹ ایبلزکی بھاری تعداد اس کو وزیراعظم بنانے کے لئے اس کی پارٹی میں شامل ہوچکی۔ہمیشہ اپنی ٹیم خود سلیکٹ کرنے کا دعویٰ کرنے والے کپتان نے جب تبدیلی کے نظریہ کی بجائے اقتدار کے نظریہ کو اپنایا تو اقتدار کے اصل ٹیم میکرز نے اسے الیکٹ ایبلز کی روائتی تگڑی ٹیم کی فہرست دیدی۔ان کھلاڑیوں کے ناموں پر غور کیا جائے تو یہ ٹیم قطعاً کپتان کی سلیکٹ کردہ نہیں ہے یہ ٹیم کہیں اور سے سلیکٹ کی گئی ہے اور کپتان اس کے ساتھ کھیلنے پر مجبور ہے کہ اقتدارکی خواہش کپتان پر اس قدر شدت سے غلبہ پاچکی کہ وہ نظریہ کو مارنے پر تیار ہوگیا۔کپتان کو اپنے لاکھوں نظریاتی کارکنوں کے جذبات کا خیال کرنا چاہئے تھا جو دو دہائی سے تبدیلی کی امید لئے اس کے ساتھ چل رہے ہیں، ان کی امید توڑنے سے پہلے کپتان کو یاد رکھنا چاہئے تھا کہ انسان اس وقت تک ہار نہیں مانتا، جب تک اس کی امید نہ ٹوٹ جائے۔پی ٹی آئی کے لاکھوں کمٹڈ کارکن آج ناامید دکھائی دیتے ہیں۔نظریاتی کارکنوں کا مایوس ہونا کسی لیڈر کے لئے ایسے ہی ہوتا ہے جیسے برگد کے پیڑ کی جڑیں اس کا ساتھ چھوڑنا شروع کردیں۔

فرض کریں کپتان جیت جاتا ہے۔ہماری دعا ہے وہ جیت جائے۔ذرا ایک لمحے کے لئے اس منظر کو ذہن میں لائیں، جب کپتان وزیراعظم بن جائے گا تو اس کی کابینہ کن درخشندہ ستاروں پر مشتمل ہوگی۔سکند ر بوسن،نذر محمد گوندل،ندیم افضل چن،خسرو بختیار،فردوس عاشق اعوان،رضا حیات ہراج ،رانا نذیراور فواد چودھری۔۔۔ پاکستان تحریک انصاف پیپلز انصاف لیگ کا مکس اچار اورکپتان میاں عمران زرداری کا روپ دھارے ہوں گے۔ کپتان کی ممکنہ کابینہ دیکھ کر جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں اور پچھلی دو دہائیوں کے تین اداور کے حکمرانوں کا اس ٹیم کے ساتھ انجام سامنے آتا ہے تو کپتان پر بہت ترس آتا ہے کہ کپتان کی برسوں کی تپسیا کو یہ ہرے جھنڈے کی گاڑی کے خواہشمند چالیس پچاس لوگ کچلنے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں،ان وزیروں مشیروں کے ساتھ کپتان کے مستقبل سے خوف آنے لگتا ہے۔

اقتدار سنبھالنے کے بعد امیر تیمور نے اپنے مرشد سے نصیحت چاہی تو مرشد نے ایک خط لکھ بھیجا ’’ اے ابو المنصور تیمور امور جہانبانی میں چار باتیں تم سے نظر انداز نہ ہونے پائیں۔غور و فکر، باہمی مشاورت،دور اندیشی اور احتیاط۔

‘‘ امیر تیمور کہتا ہے یہ رہنما اصول میں نے ہمیشہ یاد رکھے اس سے یہ حقیقت مجھ پر واضح ہو گئی کہ امور مملکت کے دس میں سے نو امور باہمی مشاور ت اور فکرو تامل ہیں اور باقی ایک شمشیرپر۔۔۔باہمی مشاورت کے نتیجے میں تدبیرسے کام لے کر ایسے ملک بھی فتح کئے جا سکتے ہیں اور ایسی فوجوں کو بھی شکست دی جاسکتی ہے، جنہیں تلوار سے زیر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔‘‘

کپتان کی ممکنہ کابینہ کو دیکھ کر اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ کیسے صائب مشورے دے سکتے ہیں اور ماضی میں کیسے مشورے دے کر حکمرانوں کی ناؤ بیچ سمندر ڈبوتے رہے ہیں ۔دوسرا خود کپتان کا ٹریک ریکارڈ دیکھ لیں تو اس نے اپنی دانست سے جو فیصلے کئے ان پر ہمیشہ یو ٹرن لینے پر مجبور ہوا۔مسقبل میں کپتان کے فیصلوں سے سبکی ہونا معمول کا عمل ہوگا۔پاکستانیوں کو امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلوں جیسی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

وزیراعظم بننے کی خواہش کا اسیر کپتان لیکٹ ایبلز کو اپنے نظریاتی ورکرز پر ترجیح دے چکا۔نظریاتی کارکنوں کے لئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے ہر دلعزیز کپتان کے لئے نیک خواہشات اور کامیابی کی دعا دے سکیں۔

مخلص کارکنوں کی حالت اس وقت ان والدین جیسی ہے، جن کی اولاد اپنی مرضی سے باہرہی شادی کر لیتی ہے اور ماں باپ اولاد سے محبت کی وجہ سے ناپسندیدگی کے باوجوددعا دینے پر مجبور ہوتے ہیں ۔میرے سامنے اس وقت پی ٹی آئی کے ٹکٹ ہولڈرز کی فہرست پڑی ہے۔میں ایک ایک کرکے نام پڑھ رہا ہوں اورساتھ میں نے عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا گانا بھی لگا لیا ہے ’’ بنے گا نیا پاکستان۔۔۔

دھرتی سے فصلی بٹیروں کو بھگائیں گے۔۔۔ ظالموں کو چوروں کو ، لٹیروں کو بھگائیں گے۔پورا کریں گے سب نقصان، تم دیکھنا میری جان۔۔۔ بنے گا، نیا پاکستان ناجانے کیوں اچانک ہی میں قہقہہ لگانے پر مجبور ہوگیا اور ہنستے ہنستے دل سے ایک ہوک سی اٹھی۔۔۔یو ں لگا جیسے پی ٹی آئی کے نظریاتی کارکن کہہ رہے ہوں۔

ہم ماتم کناں ہیں، تم ہنس رہے ہو دیکھو تو

امیدوں کی چتائیں جلی ہیں

نظریہ بے لباس پڑا ہے

جنوں کوزر کا زہر ملا ہے

جذبوں کے لاشے بکھرگئے ہیں

یہ کیسا ظلم ہوا ہے ہم پر

سبھی آس کے نالے اتر گئے ہیں

خواب آنکھوں میں ہی مرگئے ہیں

مزید : رائے /کالم