فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی زندگی کے آخری ایام

فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی زندگی کے آخری ایام
 فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال کی زندگی کے آخری ایام

  


ڈاکٹر جاوید اقبال کا انتقال 3 اکتوبر 2015ء کو ہوا۔ اپنے انتقال سے تقریباً ایک ماہ قبل ڈاکٹر صاحب نے معروف سیرت نگارپروفیسر ڈاکٹر انور محمود خالد سے رابطہ کیا اور کہا کہ زندگی کا بھروسہ نہیں، میری خواہش ہے، میں اپنے چیدہ اور چنیدہ دوستوں کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کروں اور کچھ بھولی بسری باتوں کو تازہ کر لوں۔

آپ فیصل آباد سے اپنے چند دوستوں کو ساتھ لے کر آئیے۔ڈاکٹر انور محمود خالد نے اس کا تذکرہ اپنے دوست اقبال فیروز او رراقم سے کیا۔ مجھ سے فرمایا ’’ آپ تیار رہیں، ڈاکٹر جاوید اقبال سے ملاقات کے لئے چلنا ہے‘‘ یہ میرے لئے سعادت کی بات تھی۔ ہم اقبال فیروز کی معیت میں ان کی گاڑی میں لاہورکی طرف چلے۔ گاڑی اقبال فیروز کے فرزند احمد فیروز نے چلائی۔اس طرح چار افراد پر مشتمل مختصر قافلہ لاہور روانہ ہوا۔ ہم تقریباً چار بجے کے قریب لاہور پہنچے۔یہ گھر کرنل منصور کاتھا۔ جہاں دبستانِ اقبال کا دفتر بھی قائم تھااور آج بھی ہے۔دبستانِ اقبال علامہ اقبالؒ کے نام سے موسوم اور منسوب تنظیم ہے جو ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنی حیات کے آخری ایام میں قائم کی۔ اس کے تاسیسی اجلاس میں راقم سمیت یہی چار حضرات شریک ہوئے تھے۔ہمارے علاوہ جو دوسرے لوگ وہاں موجود تھے ان میں ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا شامل ہیں۔ تھوڑی دیر میں لاہور کے چند دیگر محبانِ اقبال بھی آگئے۔ سب کو ڈاکٹر جاوید اقبال کی آمد کا انتظار تھا۔ دس پندرہ منٹ کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال بھی تشریف لے آئے۔ موجود حضرات نے کھڑے ہو کر ڈاکٹر جاوید اقبال کا استقبال کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے گفتگوکا آغاز کیا، فرمانے لگے’’کسی خاص موضوع پر اظہار خیال کا ارادہ نہیں تھا، نہ ہے۔ میری خواہش بس یہ تھی کہ اپنے محبان سے سوال و جواب کی ایک نشست ہو جو آپ حضرات نے پوری کر دی۔ زندگی کا کچھ پتہ نہیں، بس باہم مل بیٹھنے کی تمنا تھی جو پوری ہوئی۔ میں آپ سب حضرات کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے زحمت فرمائی، میری دعوت پر سفر کیا لاہور تشریف لائے۔ میں اپنے دوستوں کا شکر گزار ہوں۔ اب آپ لوگ اپنی مرضی سے کچھ پوچھیں‘‘۔ اس طرح گفت و شنید کا سلسلہ جاری ہوا۔ پہلا سوال یہ ہوا کہ جاوید نامے میں آپ نے الہام کی بحث کی ہے، اس بارے میں کچھ مزید بتلائیے۔

ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے ابلاغ کی تین قسمیں ہیں۔پھر ’’الہام،کشف اور القاء، اس موضوع پر ڈاکٹر جاوید اقبال نے کچھ تفصیلی اور کچھ مختصر گفتگو فرمائی۔ درمیان میں دیگر موجود حضرات بھی بحث میں حصہ لیتے رہے۔ اقبال فیروز علامہ اقبالؒ کے شیدائی ہیں،بلکہ فدائی ہیں، اقبال پرفدائیت کا یہ عالم ہے کہ ہر سال یوم اقبال انتہائی اہتمام سے مناتے ہیں۔ انتہائی نامی گرامی اقبال پسندوں کو جمع کرتے ہیں، جن کی تعدادسینکڑوں نہیں، ہزاروں سے بھی تجاوز کرجاتی ہے۔ یہ اجلاس عموماً اتوار کو منعقد ہوتا ہے، جبکہ اہل اسلام آباد اس چھٹی کے دن خوب فراغت کے ساتھ ہفتے بھر کی نیند پوری کرتے ہیں، خوب سوتے ہیں، کہیں جانا پسند نہیں کرتے، لیکن رباط اقبال کے تحت منعقد ہونے والا یہ اجلاس اتنا دلکش اور دل پسند ہوتا ہے کہ لوگ خوب ذوق و شوق سے کھنچے چلے آتے ہیں۔ کشش کا ایک سبب یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر شریک اجلاس کو کلیاتِ اقبال کا خوبصورت نسخہ رباط اقبال کے منتظم کی طرف سے ہدیہ کیا جاتا ہے۔اسی فدائیت کو انہوں نے اپنی اولاد میں بھی منتقل کیا ہے۔ ان کے بیٹے مرکزی حکومت میں محکمہ زراعت کے سیکرٹری ہیں۔ ان کا نام ڈاکٹر احسن اقبال ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں رباط اقبال کے نام سے ایک ادبی تنظیم قائم کر رکھی ہے۔ جس کے اجلاس پابندی سے منعقد ہوتے ہیں۔اقبال فیروز نے ڈاکٹر جاوید اقبال سے استفسار کیا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے اقبال کو کچھ خطوط لکھے تھے، ان خطوط کا سراغ نہیں ملتا۔وہ خطوط ظاہر ہے بہت اہم تھے۔ آپ چونکہ علامہ اقبالؒ کے علمی وارث ہیں۔ آپ کو اس بارے میں یقیناًکچھ علم ہو گا۔ براہ کرم اس بارے میں اپنی معلومات سے آگاہ فرمائیے۔ ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: میں اس وقت نوعمر تھا، مجھے زیادہ علم نہیں، اتنا جانتا ہوں کہ چودھری محمد حسین والد مرحوم کی علمی دستاویزات کے کسٹوڈین تھے۔ایک حوالے سے مجھے معلوم ہواہے کہ ان خطوط کو علامہؒ نے خود جلا دیا تھا۔ شنید یہ بھی ہے کہ کسی موقعہ پر خود قائد اعظمؒ نے پوچھا کہ میرے علامہ کے نام بھیجے گئے خطوط کہاں ہیں؟ چودھری صاحب نے جواب میں کہا وہ محفوظ نہیں رہے۔ ایک شنید یہ بھی ہے ان خطوط کو دیمک کھا گئی تھی، اس لئے تلف کر دئیے گئے ۔

امراؤ سنگھ علامہ کے دوست ہیں ۔ ان کی بیٹی امرتا شیر دل نے ان کی تصاویر لی تھیں۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا علامہ ؒ کو آخری دنوں میں شدت کی کھانسی ہو گئی تھی۔ کسی کروٹ چین نہیں آتا تھا۔ کسی نے مشورہ دیا کہ تھوڑی سی برانڈی پی لیجئے، آرام آ جائے، گا مگر علامہ اقبال نے برانڈی پینے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس گفتگو میں فرمایا مجھے صدر پاکستان ضیاء الحق مرحوم نے خط لکھا تھا جس میں علامہ مرحوم کے علمی نوادرات کو اکٹھا کرنے کوکہا تھا تاکہ حکومت ان نوادرات کو محفوظ کرے اور آئندہ نسل ان سے علمی فائدہ اٹھا سکے۔ڈاکٹر جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ وہ خط میرے پاس محفوظ ہے۔ اثنائے گفتگو ڈاکٹر صاحب نے کہا اہل عرب میں علامہ کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اظہارخیال کرتے ہوئے فرمایا میں نے محسوس کیا ہے کہ عربوں میں علامہ اقبالؒ کی نسبت مولانا مودودیؒ کا تعارف زیادہ ہے۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا یہ بڑے فکر کی بات ہے کہ ہر صوبے میں وہاں کی زبان پڑھانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ اس سے صوبائی عصبیت پھیلے گی جو اجتماعی حیات کے لئے زہر ہے، جس کاکوئی تریاق نہیں۔اس روش کو روکنا ضروری ہے۔ نشست کے آخر میں راقم الحروف نے سوال کیاکہ آپ نے یوم اقبال کے موقعہ پرخطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں فرمایا تھامیں صبح کے وقت ہی پانچوں نمازیں ادا کر لیتا ہوں۔ کیا آپ کے نزدیک یہ عمل درست ہے، جبکہ قرآن میں اللہ کا حکم ہے:

’’ان الصلوۃ کانت علی المؤمنین کتاباً موقوتا‘‘ ۔

’’بے شک نماز مومنوں پر مقررہ اوقات میں فرض ہے۔‘‘

ڈاکٹر صاحب نے جواباً کہا کہ قرآن کا حکم ہی اصل ہے اورنماز کو وقت کی پابندی کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے، لیکن میں سمجھتا ہوں نما زپڑھ لینا نہ پڑھنے سے بہرحال بہتر عمل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھاآج کل مصروفیات زیادہ ہوگئی ہیں اور اوقات کے اعتبار سے مصروفیات بھی بدل گئی ہیں، اس لئے اگر وقت کی پابندی نہیں ہو سکتی تو نماز کو بالکل چھوڑ دینے سے بہرحال پڑھ لینا ہی ہر صورت میں بہتر عمل ہے۔ ایک سوال کے جوا ب میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا: علامہ اقبالؒ کا جنازہ دو مرتبہ پڑھا گیا۔ ایک مرتبہ تمام مسلمانوں نے ادا کیا، جبکہ دوسرا قادیانیوں نے پڑھا، جس میں صرف قادیانی شریک ہوئے۔اس نشست میں ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ایک مرتبہ قائداعظم والد مرحوم کو ملنے آ رہے تھے۔ علامہؒ صاحب نے مجھ سے فرمایا: آج مسلمانوں کے ایک عظیم لیڈرمجھے ملنے آ رہے ہیں۔ ان کانام قائد اعظم محمد علی جناح ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی، والد مرحوم نے مجھے آٹوگراف بک دی اور میں نے اس پر قائداعظم کے دستخط لئے ۔ڈاکٹر صاحب نے ایک صاحب کے استفسار پر اپنے بچپن کے احوال کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایاوالدین کی طرف سے سختی سے پابندی تھی کہ میں سینما دیکھنے نہ جاؤں، حالانکہ ان دنوں میری عمر کے لڑکوں کو اس کا بہت شوق ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ ہی مجھے والدہ محترمہ کی طرف سے خاص طور پر حکم تھا کہ میں شام کو جلدی گھر آ جاؤں،میں اس کی پابندی بھی کرتا تھا۔سوال و جواب کی یہ مجلس بڑی دلچسپ تھی۔ یہ مجلس تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ اب چونکہ مغرب کا وقت بھی ہو چکا تھااس لئے یہ علمی مجلس برخاست ہو گئی۔ اس مجلس کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال نے کسی بھی عام مجمع میں خطاب وغیرہ نہیں فرمایاتاآنکہ 3اکتوبر کو ان کے انتقال کی خبر ٹیلی ویژن پر نشر ہوئی۔ ان کے انتقال پر فیصل آباد کے کئی حضرات جنازے میں شرکت کے لئے لاہور آ گئے۔ جس میں راقم الحروف بھی شریک ہوا۔جنازے میں اہل علم کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔ ہائی کورٹ، سپریم کورٹ کے جج صاحبان، وکلاء، یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے علاوہ اخبارات کے ایڈیٹر حضرات اور زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے اقبالی لوگ شریک ہوئے۔ اس طرح فرزند اقبال کو سپرد خاک کر دیا گیا۔۔۔ ’’کل من علیھا فان۔ویبقٰی وجہ ربک ذوالجلال والاکرام‘‘ ۔۔۔!

مزید : کالم