خواتین اور مطالعہ کی عادت

خواتین اور مطالعہ کی عادت

ناصرہ عتیق

یونیورسٹی اور کالجوں سے طالبات نصابی تقاضوں کے حوالے سے روزنامہ پاکستان کے دفتر انٹرن شپ کی خاطر آتی ہیں ۔ اخبار کے تقریباً ہر شعبہ کے بارے میں جان کاری حاصل کرتی ہیں اور اپنی ضرورت کے مطابق کام سے آگاہی پاتی ہیں۔ ان طالبات سے گفتگو کے دوران اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ بچیاں اپنے نصاب سے باہر علم و ادب سے اس قدر واقف نہیں ہیں جس قدر انہیں ہونا چاہیے۔ طالبات اور خواتین جو کبھی اخبار کا مطالعہ کر لیتی تھیں اب اس سے بھی اجتناب کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا سبب وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مصروفیات ہیں ۔

میں جب سکول کی طالب علم تھی تو اس حقیقت سے با خبر تھی کہ مجھ سے بڑی عمر کی لڑکیاں او رخواتین ناول ، افسانے اور ادبی جرائد ورسائل ذو ق و شوق سے پڑھا کرتی تھیں۔ خود ہمارے گھر میں عورتوں کے پڑھنے کے لئے حور، زیب النساء اور بیسویں صدی جیسے رسائل باقاعدگی سے آتے تھے۔ میری رشتہ دار خواتین گلی محلے کی ان لائبریریوں سے استفادہ کرتی تھیں جہاں سے ایک آنہ روز کی ادائیگی پر خاتون لکھاریوں کے ناول باآسانی دستایاب تھے۔ یہ ناول معاشرتی مسائل کا احاطہ کرتے تھے اور زندگی کو بہتر اور سہل بنانے کے لئے ان اصول و ضوابط کو اُجاگر کرتے تھے جو پائیدار اور ٹھوس حکمت لئے ہوتے تھے۔ آہستہ آہستہ زندگی آسان ہونے کی بجائے مشکل ہوتی چلی گئی۔ اقدار تلپٹ ہونے لگی ۔ ترجیحات بدل گئیں اور مصروفیات کی نئی صورتیں سامنے آگئیں۔ پڑھائی لکھائی صرف روز مرہ کی ضرورت تک محدود ہو گئی اور علم و ادب کی روشنی احمقوں کے ڈبے((Idiots' Boxسے نکلنے والی شعاعوں کے سامنے ماند پڑ گئی۔

ربع صدی سے زائد عرصہ سے میں صحافتی زندگی سے وابستہ ہوں۔ لفظ کی حرمت سے آگاہ ہوں۔ محض اخباری زبان و بیان سے ہی آشنا نہیں بلکہ علم و ادب کی تحریرو اسلوب سے بھی واقف ہوں۔ سکول ہی سے مجھے کتب بینی سے شغف تھا اور رب العزت کا شکر ادا کرتی ہوں کہ جس نے آج بھی مجھے اس مشغلے سے جوڑے رکھا ہے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا احساس بخشا ہے۔ میں بلاشبہ ایک کرب کی کیفیت سے گزرتی ہوں جب میرے سامنے خواتین کا ایک اکٹھ دنیا بھر کے مسائل پر باتیں کرتا ہے لیکن جو بات ان کی محفل میں ان کی گفتگو کا حصہ نہیں بنتی وہ کتب بینی اور مطالعہ ہے۔

آج کی زندگی نت نئی مصروفیات کا جال اس طرح پھیلائے جا رہی ہے کہ لوگ بس وہی کچھ کر رہے ہیں جو گزرتی زندگی ان سے چاہتی ہے۔ ہر فرد اپنے حصار کے اندر گردش کرتے ہوئے گردبار میں لٹو کی مانند گھوم رہا ہے۔ ایک لمحے کے لئے بھی رک کر ، اپنی سوچ کو مجتمع کرنا، اس کے بس میں نہیں ہے۔

کسی نے خوب کہا تھا کہ کتابوں کے ساتھ وقت گزارو تو دنیا بھر کے عالموں اور دانشوروں کی صحبت میں آپ کے شب و روز گزرتے ہیں۔ مطالعہ کی عادت ایک نعمت خدا وندی ہے۔ اس کے حصول کے لئے کوئی خاص محنت کرنی نہیں پڑتی بلکہ چند لمحوں کی فرصت درکار ہے۔ جس میں آپ خود کو کچھ نہ کچھ پڑھنے کے لئے وقف کر سکیں۔ یہ ایسی روحانی لذت ہے جو آہستہ آہستہ آپ کی آنکھوں سے قلب میں اترتی ہے اور مستقل گھر بنا لیتی ہے۔

کہنے والے یہ بات بھی صحیح کہتے ہیں کہ صاحب حیثیت لوگ ایک ہزار روپے برگر پر خرچ کر دیتے ہیں لیکن کتاب پر دو سو روپے صرف نہیں کرتے۔ بات روپے پیسے کی نہیں ہے ۔ بات کتاب کی افادیت اور انسانی ذوق کی ہے۔

گئے دور میں بڑی بوڑھیاں اور نانیاں، دادیاں بچوں کو کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ ان کہانیوں کا ماخذ ان کا مطالعہ ہوتا تھا۔ وہ خود بھی پڑھتی تھیں اور پڑھے لکھوں سے معلومات بھی حاصل کرتی تھیں۔ بے شک پڑھی لکھی خواتین ہی ایک درست،راست اور پُر عدل معاشرے کی ضامن ہیں۔ ان کی گود میں پلنے والے بچے ہی زمانے میں نام پیدا کرنے والی قوموں کی تشکیل کرتے ہیں۔

ایک طویل صحافتی زندگی نے بے شمار حقائق کے در مجھ پر وا کئے ہیں۔ ان گنت تجربات اور مشاہدات نے مجھے عقل و شعور اور قوتِ فیصلہ سے بہر ہ مند کیا ہے تاہم کتابوں نے مجھے زندگی کی رعنائیوں اور خوبصورتیوں سے آشنا کیا ہے۔مطالعہ نے میرے ذہنی اُفق کو وسیع کیا اور مجھے ذات کا ادراک دیا ہے۔

آج بھی میں ایک اچھی کتاب کے مطالعہ کو یونہی مل بیٹھنے کی محفل پر ترجیح دیتی ہوں۔ کسی کتاب میں محویت سے حاصل ہونے والا حظ ان وقتی خوشیوں سے کہیں زیادہ گہرا اور دیر پا ہے جو کسی بھی تقریب یا محفل میں شمولیت سے حاصل ہوتی ہیں۔

ہمارے وطن کے اربابِ اختیار و اقتدار پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم میں ، بالخصوص عورتوں میں مطالعے کی عادت پیدا کرنے کے لئے ان اقدامات کی جانب توجہ کریں جو اس صحت مند مشغلے کے لئے ضروری ہیں۔ ایسے ادارے وجود میں لائیں جو سستے داموں کتابیں مہیا کریں۔ لائبریریوں کو گلی محلے کی سطح پر استوار کریں۔ وسیع پیمانے پر ایک دارالترجمہ کا قیام عمل میں لائیں جہاں دنیا کی دوسری زبانوں میں شائع ہونے والے اعلیٰ ادب کواردو زبان کا روپ دیا جائے۔ امید واثق ہے کہ ایسے اقدامات سے مطالعہ کا شوق فروغ پائے گا۔

یورپ اور امریکہ میں اپنے اسفار کے دوران میں نے مطالعہ کے شوق کے خوب نظارے دیکھے ہیں۔ بسوں، ٹراموں اور ٹرینوں میں میں نے خواتین کو ہاتھوں میں کتاب تھامے اکثر دیکھا ہے۔ اردگرد کی دنیا سے بے خبرو بے نیاز وہ مطالعے میں مصروف ہوتی ہیں۔ تب میں نے ہمیشہ دعا مانگی ہے کہ میرے وطن کی عورتیں بھی اسی طرح مطالعے کی عادت ڈالیں۔ ایسا کرنے سے یقیناًوہ بہت سے انتشار اور تناؤ پیدا کرنے والے مسائل سے بچ جائیں گی اور ایک ایسی سوچ اپنے اندر پائیں گی جو مثبت اور راحت بخش ہو گی۔

مزید : ایڈیشن 2