اف یہ چاچے مامے تائی وغیرہ!

اف یہ چاچے مامے تائی وغیرہ!
اف یہ چاچے مامے تائی وغیرہ!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج مجھے وہ تمام شادیاں یاد آ رہی ہیں جن میں شرکت کا احسان کرنے والے دور اور قریب کے بزرگ ماضی کے وہ تمام قصے اور قضیے نکال نکال کے لے آتے ہیں جن کا شادی کی تقریب سے دور دور کا لینا دینا نہیں ہوتا۔وہ تلخ و شیریں ماضی جس میں اس بے چارے لڑکے یا لڑکی کا ذرا برابر کردار نہیں کہ جو اپنی شادی میں ان تمام پیشہ ور خاندانی پھڈے بازوں اور پھڈے بازنیوں کو صرف اس لئے مدعو کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ ان کی دعاؤں کے سائے میں ایک نئی زندگی شروع کر سکیں جن کے سامنے وہ بچے سے اتنے بڑے ہو گئے۔مثلاً پھوپھی ویسے تو ہر دم واری صدقے جائے گی، مگر جیسے ہی بھتیجا یا بھتیجی دعوت نامہ لے کر جاتے ہیں تو پہلا تیر یہ چلتا ہے ’ آ گئے سب طے کر کے؟ جب ہمیں رشتے کا نہیں بتایا تو اب شادی میں بلانے کا تکلف کیوں کر رہے ہو۔ سمجھ لو مر گئی تمہاری پھوپھی۔ اللہ تعالی تمہیں اور خوشیاں دے۔ ہماری کیا اوقات۔ آج مرے کل دوسرا دن۔تمہارے پھپھا تو ویسے بھی جوڑوں کی تکلیف سے ہل نہیں سکتے۔ صحت نے اجازت دی تو کوشش کریں گے شریک ہونے کی۔ جاؤ اپنی ماں کو ہماری طرف سے مبارک بادی دے دینا۔‘

پھر یہی لڑکا یا لڑکی ماموں کے گھر جاتے ہیں اور ماموں کے منہ کھولنے سے پہلے ہی ممانی تلوار سونت لیتی ہیں۔مبارک ہو شادی خانہ آبادی۔ سلمیٰ کی شادی میں اگرچہ تم لوگ نہیں آئے، مگر ہم تمہاری طرح چھوٹے ذہن کے نہیں۔ ضرور آئیں گے، لیکن ایک آدھ گھنٹے کے لئے، کیونکہ اگلے ہی دن گڈو کے پیپر ہیں۔‘پھر یہی لڑکا یا لڑکی خالہ کا کواڑ کھٹکھٹاتے ہیں اور خالو انھیں دیکھتے ہی بھالے پہ رکھ لیتے ہیں۔ بھئی سنا ہے منشی اکرم کے ہاں تمہارا رشتہ طے ہوا ہے۔ آگے پیچھے، ذات اور خون کی تحقیق بھی کر لی یا تمہارے ابا اماں چمک دمک دیکھ کر رشتے کی ہاں کر بیٹھے۔اب کسی سے ذکر مت کرنا تمہارے ہونے والے سسر اسی منشی اکرم کا باپ اللہ بخشے ہمارے دادا کا سائیس تھا۔ بہرحال جو ہوا سو ہوا۔ اس میں تم بچوں کا کیا قصور۔ مبارک ہو۔ کوشش کریں گے کہ کم ازکم نکاح میں تو شرکت ہو جائے۔

اس موقع پر خالہ ایک آہ بھرتے ہوئے سلگتے انگاروں پر اور تیل ڈال دیتی ہیں ’ارے بیٹا ہماری اتنی اوقات کہاں کہ کوئی کسی فیصلے میں شریک کر لے۔ بہرحال ہمیں کیا۔ زندگی تمہیں گزارنی ہے۔ تم لوگوں نے ٹھیک ہی فیصلہ کیا ہوگا۔ باجی صاحبہ کو میری طرف سے مبارک باد دے دینا۔ اگر بارش نہ ہوئی تو آنے کی کوشش کریں گے۔ نہ آسکے تو یہ نہ سمجھنا کہ خدانخواستہ کوئی ناراضی ہے۔‘پھر یہی لڑکا یا لڑکی نیوتا لے کر تایا، چچا کے ہاں جاتے ہیں اور وہاں سے بھی ایسی ہی جلی کٹی مبارک بادی سمیٹ کے لوٹتے ہیں۔المختصر ایک درجن پھیروں، نصف درجن رونے دھونے کے ادوار اور تین چار بار ہاتھ پاؤں جوڑنے کے نتیجے میں بالآخر یہ سب پنگے باز بزرگ شادی میں شریک ہوتے ہیں تو ایک اور وبال کھڑا ہو جاتا ہے۔

ارے نہیں میاں کوئی اندھی تھوڑا مچی ہے حق مہر صرف 32 روپے چار آنے عین شرعی ہو گا۔صاحبزادے شیروانی تو اچھی سلی ہے، مگر اس پر سنہری پٹی جچ نہیں رہی لگتا ہے ماشکیوں کی شادی ہے ہا ہا ہا۔ یقیناً تمہاری ماں نے پسند کی ہو گی یہ شیروانی۔

بھئی تمہارے تایا تو شادی کا مرغن کھانا نہیں کھا سکتے۔ ان کے لئے الگ سے پتلی دال اور چپاتی بنوا دینا ورنہ گھر جا کے کھا لیں گے کوئی مسئلہ نہیں۔معاف کرنا جلدی میں ہم کوئی اچھا سا تحفہ نہ خرید پائے۔ یہ لو لفافہ اس میں پورے ایک ہزار ایک روپے ہیں۔ تمہارے خالو تو کہہ رہے تھے کہ رقیہ کی شادی میں پانچ سو ایک روپے دیے تھے تم لوگوں نے، مگر میں نے کہا کہ نہیں بھئی ہمارے گھر کا بچہ ہے کوئی غیر تھوڑی ہے۔ ہم تو ایک ہزار ایک ہی دیں گے۔ ان کا ایمان وہ جانیں۔

اے ہے دلہن کا جوڑا لال رنگ کا کیوں سلوا لیا؟ آج کل تو نائی قصائی بھی اپنی بچیوں کو یہ نہیں پہنواتے۔ ارے مجھ سے ہی کہہ دیتیں تو مسز سارہ کے بوتیک سے اتنے ہی پیسوں میں شاندار ماڈرن جوڑا دلوا دیتی، مگر ہم اس قابل ہی کہاں کہ کوئی پھوٹے منہ پوچھ ہی لے۔ پھر بھی اللہ رکھے ہماری فرح اس لال جوڑے میں بھی حور پری سے کم تھوڑی ہے۔اللہ اور خوشیاں دے۔اب آپ پوچھ سکتے ہیں کہ مجھے اس وقت یہ قصے کیوں سوجھ رہے ہیں؟ 25 جولائی سے لے کر اب تک متحدہ اپوزیشن کے کنبے میں شامل چاچے مامے تائے، خالائیں، پھپھیاں جس طرح باہمی معاملات طے کر رہے ہیں۔ انھیں دیکھتے ہوئے خاندان کی شادیاں اور اپنے بزرگوں کے طور اطوار یاد نہ آویں تو کیا یاد آوے ؟

مزید : رائے /کالم