پنجاب بزنس مین سمپوزیم

پنجاب بزنس مین سمپوزیم
پنجاب بزنس مین سمپوزیم

  

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے انتخابات میں کلین سویپ کرنے کے بعد نئی قیادت نے صنعت و تجارت کے مسائل حل کرنے کے لئے پوری قوت سے کام شروع کردیا ہے، اس سلسلہ میں ایک مقامی ہوٹل میں یونائیٹڈ بزنس گروپ اور فیڈریشن کے تعاون سے پنجاب بزنس مین سمپوزیم کا انعقاد کیا گیا، اس اہم تقریب میں پنجاب کے تمام چیئرمین اور ٹریڈ باڈیز کے نمائندوں کے علاوہ پورے پاکستان سے بھی صنعت و تجارت کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔

ایس ایم منیر مہمان خصوصی تھے اور یونائیٹڈ بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ تقریب کے کو آرڈینیٹر وقار احمد میاں نے بہت موثر اور کامیاب کمپیئرنگ کی۔ سابق صدر فیڈریشن میاں ادریس پروگرام چیئرمین تھے۔

پنجاب بزنس مین سمپوزیم کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کے جواب میں بزنس گروپ کے چیئرمین افتخار علی ملک نے بتایا، جب فیڈریشن کے انتخابات کی کنویسنگ کرتے ہوئے میں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پورے پاکستان کی بزنس کمیونٹی سے ووٹ لینے کے لئے دورے کئے تو ہر طرف سے صنعت و تجارت کو درپیش مسائل پیش کئے گئے اور ساتھ ہی کہا گیا کہ ہمارا ووٹ یونائیٹڈ بزنس گروپ کے لئے ہے، کیونکہ ماضی میں صرف اسی گروپ نے بزنس کمیونٹی کے جائز مسائل حل کئے اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وقار میں اضافہ کرتے ہوئے صنعت و تجارت کو ڈرپیش مسائل حل کروائے۔

ہم نے ان سے وعدہ کیا کہ انتخابات کے بعد آپ سب کو دعوت دی جائے گی کہ آپ ایک چھت کے نیچے جمع ہوں۔ اپنی اپنی انڈسٹری اور ٹریڈ کے مسائل آپس میں افہام و تفہیم کے ساتھ اس اجلاس میں پیش کریں تاکہ انہیں آئندہ بجٹ تجاویز کا حصہ بنایا جاسکے۔

پنجاب بزنس مین سمپوزیم کا یہ طویل اجلاس بہت کار آمد ثابت ہوا۔ صنعت و تجارت کے تمام مسائل تفصیل سے بیان کئے گئے۔ کچھ مسائل ایسے تھے، جو جزوی طور پر تو حل کروائے جاچکے ہیں، لیکن ریفنڈ کی طرح بقایا جات ادا ہونے ضروری ہیں۔

حکومت کے ساتھ یونائیٹڈ بزنس گروپ اور فیڈریشن کے تعلقات ماضی کی نسبت زیادہ خوشگوار ہوچکے ہیں۔ بعض اوقات سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بغیر کچھ قوانین جاری کردیئے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے بزنس کمیونٹی وقتی طور پر پریشان ہوجاتی ہے۔

اب بزنس کمیونٹی کے تمام سٹیک ہولڈرز کو یہ اعتماد دیا گیا ہے کہ وہ باقاعدگی سے اپنے مسائل پیش کریں اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر حکومت کے ساتھ بیٹھ کر ان جائز مسائل کو حل کروانے کی پوری کوشش کریں گے۔

اس وقت دنیا میں معاشی بقا کی جنگ میں شدت پیدا ہو چکی ہے ہر قوم اور ملک اپنی معیشت کی بہتری اور نشوونما کے لئے ہر سطح پر کام کررہا ہے۔ ڈیووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم میں چالیس سے زیادہ سربراہوں کے علاوہ پرائیویٹ سیکٹر کے بڑے بڑے نام بھی شامل ہیں۔

اگرچہ ان دنوں وہاں غضب کی برف باری ہورہی ہے، لیکن پاکستان سے لے کر امریکہ تک کے سربراہ اور اعلیٰ حکام ایک چھت کے نیچے اکٹھے ہو کر خوب سے خوب ترکی کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم نے بڑی بڑی کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کی ہے اور خوشی کی بات ہے کہ انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری بڑھانے کی بات کی ہے دراصل قسمت کی دیوی اس وقت پاکستان پر مہربان ہے، کیونکہ سی پیک کے منصوبوں کی وجہ سے پاکستان کا انفراسٹرکچر بہت مضبوط ہوتا جارہا ہے جو معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔

ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے پہلے دن آئی ایم ایف کی سربراہ نے دنیا کا معاشی جائزہ پیش کیا تو پاکستان کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں بہت اچھا مقام دیا گیا۔ یہاں تک کہ انڈیا کی معاشی نمو نسبتاً پاکستان سے کم ہے۔

گوادر سے پاکستان کی معاشی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہونے جارہا ہے۔ اب اسی مہینے کے آخری دنوں میں وہاں ایک زبردست نمائش کا انعقاد کیا جارہا ہے اور وہاں نئے تجارتی زونز کا افتتاح بھی ہورہا ہے۔

سی پیک کا دوسرا مرحلہ بہت اہم ہے، کیونکہ انفراسٹرکچر کی تکمیل، بجلی اور گیس کی کمی کا مسئلہ حل ہونے وجہ سے پاکستان اپنی سستی لیبر کی وجہ سے سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش ملک بن چکا ہے۔

چین کی مزید سرمایہ کاری کے علاوہ اب پاکستانی سرمایہ کار بھی میدان میں آرہے ہیں، اب وہ دور ختم ہوتا جارہا ہے، جب سب سے زیادہ سرمایہ کاری زمینوں کی خریدوفروخت پر ہوتی تھی۔

یونائیٹڈ بزنس نے سرمایہ کاروں کو پیداواری یونٹس لگانے کے لئے باقاعدہ مہم شروع کررکھی ہے، جس کے مثبت نتائج برآمد ہونے شروع ہوچکے ہیں۔

پاکستان ہر قسم کی دولت سے مالا مال ہے، صرف بے روز گاری اور مناسب منصوبہ بندی نہ ہونے کی وجہ سے روز گار کے مواقع کم تھے، لیکن اب پاکستان کی شرح نمو تیز ہونے اور پاکستانیوں کی سرمایہ کاری کی وجہ سے بے روز گاری میں روز بروز کمی آرہی ہے۔ زراعت کے شعبہ کو بھی جدید بنانے کی ضرورت ہے، دنیا میں خوراک کی کمی ہے، لیکن ہمارے پاس بہترین زرخیز زمین ہے، جہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ فی ایکٹر دوگنی پیداوار لینے والی فصلوں کے بیچ فراہم کئے جائیں۔ گارڈ رائس نے چین سے ہائی بریڈ ٹیکنالوجی ٹرانسفر کرکے چاول کی فی ایکٹر پیداوار میں حیرت انگیز اضافہ کیا ہے، چین پاکستان کو ہر قسم کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے لئے تیار ہے۔

ان شاء اللہ پنجاب بزنس مین سمپوزیم میں پیش کردہ بجٹ تجاویز کو آئندہ بحث میں شامل کروانے کی پوری کوشش کریں گے، تاکہ پاکستان کی بزنس کمیونٹی مسائل سے آزاد ہو کر پاکستان کی معاشی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکے۔

مزید : رائے /کالم