کشمیر بزور شمشیر:کب تک؟

کشمیر بزور شمشیر:کب تک؟
 کشمیر بزور شمشیر:کب تک؟

  

کشمیر کے ساتھ پاکستان کا سب سے بڑا رشتہ ایمانی رشتہ ہے ویسے پنجاب اور کشمیر کا آپس میں ثقافتی رشتہ بھی بڑا پرانا ہے کیونکہ پنجاب (مغربی) گلگت اور بلتستان صدیوں تک کشمیر کا حصہ رہے ہیں۔ سیالکوٹ، جہلم، گجرات اور دیگر ملحقہ اضلاع کئی عشروں تک کشمیر کہلاتے رہے۔طویل عرصہ تک لاہور سے کشمیرکا انتظام و انصرام چلایا جاتا رہا ہے ۔کشمیر کے لاکھوں مسلمان ہجرت کر کے پنجاب میں آباد ہوئے پنجاب کے تقریباً ہر شہر اور قصبے میں محلہ کشمیریاں ،چاہ کشمیری اور کشمیر روڈ پائے جاتے ہیں۔ خطہ کشمیر قدرتی حسن کی وادی، ایمانی اور روحانی اقدار کا مسکن،شاہ ہمدان کی سرزمین ہے اس دیس کے باسیوں کے مزاج پر اولیاء اللہ کے فیضان کے گہرے نقوش ثبت ہیں لیکن یہاں کے مسلمانوں کو مدتوں سے آزادی کی صبح کا انتظار ہے۔

قیام پاکستان سے پہلے کشمیریوں نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرنے کی جدو جہد کی، پاکستان معرض و جود میں آیا تو 27 اکتوبر 1947 ء میں بھارتی فوجیں سرینگر میں داخل ہو گئیں اور کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس جموں کشمیر پر قبضہ جما لیا ۔اب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو 85 سال مکمل ہو چکے ہیں۔ کشمیریوں کی پانچویں نسل آزادی کے سورج کے طلوع ہونے کی منتظر بھارتی مظالم کا مقابلہ کر رہی ہے۔

1962ء کی چین بھارت جنگ کے نتیجے میں کشمیرکے ایک بڑے حصہ سے بھارتی افواج پسپا ہوئیں اور کشمیر کے وہ علاقے چین کے قبضے میں چلے گئے چین کے نقشے میں اس حصے کو AKSI-CHIN (سفید پتھروں کے صحرا )کے نام سے ظاہر کیا گیا ہے۔ ایسے ہی Dem Chang اور Kem Chang بھی بھارت سے آزاد ہو کر چین کے قبضے میں جانے والے کشمیر ہی کے علاقے ہیں اب بھی کشمیر کا 50513 مربع میل علاقہ بھارت کے قبضے میں ہے۔ جموں کشمیر میں 92 فیصد مسلمان ہیں کشمیر کے تنازعہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان چار جنگیں لڑی جا چکی ہیں۔ طویل جدو جہد آزادی میں چھ لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے تحریک آزادی کچلنے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا ہے اور ہر طرح کے مہلک ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ انڈین آرمی سپیشل پاور ایکٹ کے ذریعے کشمیریوں پرحد درجے کا تشدد کر رہی ہے

1989ء سے شروع ہونے والی تحریک میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں ۔پہاڑوں کے دامن میں آتش و آہن کے استعمال اور چناروں کے دیس میں بارود کے کھیل سے ایک لاکھ سات ہزار چھ سو بچے یتیم ہو چکے ہیں، 23 ہزارخواتین بیوہ ہو چکی ہیں، ایک لاکھ بتیس ہزار سے زائد افراد بھارتی عقوبت خانوں میں ہیں اور 13 ہزار لاپتہ ہیں، ایک لاکھ سے زائد گھر خاکستر ہو چکے ہیں ۔مقبوضہ وادی میں 9 ہزار سے زائد گمنام قبریں ملی ہیں ۔کشمیریوں نے آزادی کی فصل اگانے کے لیے کشمیر کے چپے چپے کو اپنے خون سے سیراب کر دیا ہے۔ کشمیر کی مٹی شہیدوں کے خون سے گندھی ہو ئی ہے ،کشمیر کی فضاؤں میں ہر طرف شہادتوں کی خوشبو رچی بسی ہے ۔سلام ہو کشمیری ضمیر کو جو جبر و استبداد کے مقابلے میں کھڑا ہے اور دنیا کو بتا رہا ہے۔کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

اب 8 جولائی کو بھارتی فورسز نے جواں سال کشمیری حریت پسند محمد برہان وانی کو گرفتار کیا اور جعلی مقابلے میں انہیں شہید کر دیا اس کے نتیجے میں پوری مقبوضہ وادی بھڑک اٹھی ہے آزادی کی اس تازہ لہر کو دبانے کے لیے دو ہفتوں میں اگرچہ بھارتی درندوں نے آزادی کے 52 متوالوں کو شہید کیا اور 3500 کو زخمی کر دیا ہے، مگر آزادی کی تحریک دن بدن زور پکڑ رہی ہے حالیہ ظالمانہ کا روائیوں میں بھارتی فوجی Pellet guns (پیلٹ گنز)کا استعمال کر رہے۔ ان گنز کا استعمال مظاہر ین کو منتشر کرنے کے لیے کیا جا رہاہے اس کے ایک کارتوس میں 500 لوہے کے چھرے ہوتے ہیں اس سے مظاہرین کی آنکھوں اور چہروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔جس کے نتیجے میں بہت سے لوگ بینائی سے محروم ہو چکے ہیں ۔مظاہرین کو ان بندوقوں کے ذریعے زندہ نعشیں بنایا جا رہاہے ۔مقبوضہ وادی میں 80 لاکھ آبادی والے خطے میں 8 لاکھ بھارتی فوج تعینات کر دی گئی گویاکہ ہر 10 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی بندوق تانے کھڑا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ جب کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں تو اس وقت ہمارا کردار کیا ہے ۔عالمی ضمیر تو مردہ ہے ہی اور اس کی مجرمانہ خاموشی تو ہمارے سامنے ہے لیکن ایمان اور پڑوس کے ناطے ہمارا ضمیر کہاں ہے ؟کشمیرکے بیٹے اور بیٹیاں آج بھی بھارتی فورسز کے سامنے پاکستانی پرچم لہرا رہی ہیں محمد برہان وانی شہید کا تابوت پاکستانی پرچم میں لیٹ کر سپرد خاک کیا گیا ۔ ہمارے غیر ملکی فنڈڈ دانشور ،امن کی آشاکے متوالے لکھاری، اکھنڈ بھارت مزاج اینکر ،لبرل سٹائل تجزیہ نگار کشمیری حریت پسند ہر دہشت گرد کا لیبل لگانا چاہتے ہیں کہاں ہیں آج انسان حقوق کے چیمپئن؟ کہاں ہیں آج سول سوسائٹی کے ارکان؟ کہاں ہے موم بتی جلانے والا گروپ؟انہیں مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی اڑتی دھجیاں کیوں نہیں نظر آرہیں؟ حقوق نسواں کے نام پر امپورنڈ ایجنڈوں کے سوداگر بھارتی درندوں میں گھری کشمیر کی بیٹی کے پہلو سے چھنا بچہ اور سر سے کھینچا دوپٹہ کیوں نہیں واپس کر وار ہے ۔

سالہا سال سے کشمیر لہو لہان ہے مگر ہمارے حکمران اور تنظیمیں اقوام متحدہ کو یادداشت پیش کر کے، قرار دادیں منظور کر کے اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باند ھ کر اپنے فریضہ سے سبکدوش ہو جاتی ہیں 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منا کر سمجھا جاتا ہے کہ فرزندان کشمیر کے تڑپتے لاشوں کا ہم نے حق ادا کر دیا ہے۔ کچھ جماعتیں کشمیر کے نام پر فنڈز، قربانی کی کھالیں جمع کر کے اور غائبانہ نماز جنازہ کے اجتماعات منعقد کر کے بھی اپنے تئیں سمجھتی ہیں کہ ہم نے زخمی کشمیر کا حق ادا کر دیا ہے ۔ ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کیا حل کرائیں گے، جب جنوری 1988ء میں بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے پاکستان کا دورہ کیا تو اسلام آباد میں کشمیر ہاؤس کے بورڈ کو ڈھانپ دیا گیا تھا ، تاکہ ان کی طبع نازک پر گراں نہ گزرے۔ حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے سلسلہ میں اپنی غفلتوں کا کفارہ ادا کرنے کے لیے کشمیر کمیٹی قائم کر رکھی ہے۔

مزید :

کالم -