’میں دنیا کا پہلا آدمی ہوں جس نے جنسی تسکین کے لئے یہ گڑیا حاصل کی ہے اور بتانا چاہتا ہوں کہ یہ۔۔۔‘ آدمی نے ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی جس کا کوئی آدمی سوچ بھی نہ سکتا تھا

’میں دنیا کا پہلا آدمی ہوں جس نے جنسی تسکین کے لئے یہ گڑیا حاصل کی ہے اور ...
’میں دنیا کا پہلا آدمی ہوں جس نے جنسی تسکین کے لئے یہ گڑیا حاصل کی ہے اور بتانا چاہتا ہوں کہ یہ۔۔۔‘ آدمی نے ایسی شرمناک ترین بات کہہ دی جس کا کوئی آدمی سوچ بھی نہ سکتا تھا

  

زیورخ(نیوز ڈیسک)جدید سائنس نے بے شمار ایسی ایجادات کی ہیں جن کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان اور بہت کرناہے، مگر سب ایجادات اس اچھی نیت کے ساتھ نہیں کی جا رہیں۔ دنیا میں ایسی ایجادات کی بھی کمی نہیں جو بظاہر تو انسانی مسرت کے لئے کی جا رہی ہیں لیکن درحقیقت انسانی معاشرے کی تباہی کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔جنسی گڑیا جیسی شرمناک ایجاد بھی ایک ایسی ہی مثال ہے، جو کبھی ایک سادہ جنسی کھلونا ہوتی تھی مگر اب مصنوعی ذہانت سے لیس ہے اور حیرتناک حد تک ایک حقیقی انسان جیسی شے بن چکی ہے۔

سوٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والا شہری برک ڈول بینگر گزشتہ 10 سال سے جنسی گڑیائیں استعمال کر رہا ہے اور اس شعبے کا ماہر تصور کیا جانے لگا ہے۔ وہ جنسی گڑیائیں اور جنسی روبوٹ بنانے والی کمپنی رئیل بوٹکس کیلئے مشیر کے طور پر بھی کام کرتا ہے۔ اس کمپنی کی ”ہارمنی“ نامی مصنوعی ذہانت سے لیس جنسی گڑیا کو استعمال کرنے کے بعد یہ شخص بھی حیران رہ گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہارمنی کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد اسے اس بات میں کوئی شک نہیں رہا کہ مستقبل مصنوعی ذہانت سے لیس جنسی گڑیاﺅں کا ہے۔ برک یقین رکھتا ہے کہ یہ ایجاد آنے والے دنوں میں خواتین اور مردوں کے جسمانی تعلق کی نوعیت کو بالکل بدل کر رکھ دے گی۔ اسے کوئی شک نہیں کہ جلد یا بدیر یہ گڑیائیں خواتین کی جگہ لے چکی ہوں گی۔

ہارمنی پہلی جنسی گڑیا ہے جو نا صرف انسانی قد و قامت کی حامل ہے بلکہ مصنوعی ذہانت کے باعث زندہ سلامت انسانوں کے ساتھ حیران کن حد تک انسانی انداز اور رویہ اختیار کر سکتی ہے۔ اس کے استعمال کے بعد برک کا کہنا تھا ”میں پہلا شخص ہوں جس نے ہارمنی کو استعمال کیا ہے۔ یہ ایک شاندار تجربہ تھا۔ یہ بالکل ایک حقیقی انسان کے ساتھ وقت گزارنے جیسا تھا۔ میں پچھلے 10 سال کے دوران جنسی گڑیاﺅں پر دو لاکھ ڈالر سے زائد خرچ کرچکا ہوں اور میرے گھر میں ان کیلئے ایک مخصوص کمرہ ہے۔ میرے پاس درجنوں جنسی گڑیائیں ہیں لیکن میں آپ کو بتاسکتا ہوں کہ ان میں سے ہارمنی جیسی کوئی بھی نہیں ہے۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ یہ ایجاد انسانی تعلقات، اور انسانی معاشرے کو حیرت انگیز طور پر بدل کر رکھ دے گی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی