پاکستان کا وہ حلقہ جہاں مردوں سے زیادہ خواتین نے ووٹ ڈالا ، کونسے شہر میں ہے ؟ جواب کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا

پاکستان کا وہ حلقہ جہاں مردوں سے زیادہ خواتین نے ووٹ ڈالا ، کونسے شہر میں ہے ؟ ...
پاکستان کا وہ حلقہ جہاں مردوں سے زیادہ خواتین نے ووٹ ڈالا ، کونسے شہر میں ہے ؟ جواب کوئی پاکستانی سوچ بھی نہیں سکتا

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)2018 کےعام انتخابات میں این اے 1 چترال میں خواتین نے مردوں کو پیچھے چھوڑ دیاہے کیونکہ اس حلقہ میں سب سے زیادہ ووٹ خواتین نے ڈالے ہیں ۔خواتین کی جانب سے ڈالے جانے والے ووٹ 61.58 فیصد ہیں جبکہ مردوں کی تعداد میں معمولی سا فرق ہے جو کہ 60.49 فیصد ہے تاہم دلچسپی سے بھر پور امریہ ہے کہ اس حلقہ میں مردوں کی تعداد خواتین رجسٹرڈ ووٹرز کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن خواتین نے سب سے زیادہ ووٹ ڈالے ۔

تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018کے الیکشن میں کل271قومی اسمبلی کے حلقوں میں سے 270حلقوں پر الیکشن ہوئے جبکہ دو پر الیکشن منسوخ کیے گئے۔ قومی اسمبلی کے الیکشن میں 19حلقوں میں خواتین نے مردوں کے مقابلے میں زیادہ تناسب سے ووٹ ڈالے جن میں سے قومی اسمبلی کا حلقہ 56اٹک IIبھی شامل ہے جس میں خواتین نے 63.03فیصد اور مردوں نے 62.19فیصد ووٹ ڈالے اور مجموعی طور پر 53.20فیصد ووٹ ڈالے گئے اور تحریک انصاف کے میجر (ر) طاہر صادق کامیاب ہوئے ۔

دوسرا حلقہ این اے 58راولپنڈی IIگوجر خان جہاں سے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف پی پی پی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے اس حلقہ میں خواتین نے 54.76فیصد اور مردوں نے 52.94فیصد ووٹ ڈالے ۔این اے 64چکوال Iپر 60-72فیصد خواتین اور 55.67فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے اور پی ٹی آئی کے امیدوار ذوالفقار علی خان کامیاب ہوئے اور کل 58.14فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے۔ این اے 65چکوال IIمیں 59.01فیصد خواتینی اور 55.81فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے، کل 57.35فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے اور یہاں سے مسلم لیگ (ق) کے  چوہدری پرویز الہٰی کامیاب ہوئے ۔این اے 66جہلم پر 52.88فیصد خواتین اور 51.07مردوں نے ووٹ ڈالے اور کل 51.87فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا اور یہاں سے تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری کامیاب ہوئے ۔

این اے 68گجرات Iپر خواتین نے 56.31فیصد اور 50.31فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے اور مجموعی طور پر 53فیصد ووٹ ڈالے گئے اور یہاں سے مسلم لیگ (ق) کے حسین الہٰی کامیاب ہوئے ۔این اے 70گجرات IIIمیں خواتین نے 51.85فیصد اور مردوں نے 47.99فیصد ووٹ ڈالے اور مجموعی طور پر 49.37فیصد ووٹ ڈالے گئے اور یہاں سے تحریک انصاف کے سید فیض الحسن کامیاب ہوئے ہیں۔ این اے 71میں خواتین نے 52.69فیصد اور مردوں نے 49.28فیصد جبکہ مجموعی طور پر 50.87فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالا اور یہاں پر مسلم لیگ (ن) کے چودھری عابد رضا کوٹلہ کامیاب ہوئے این اے 72سیالکوٹ Iمیں 59.34فیصڈ خواتین اور 57.16فیصد مردوں جبکہ مجموعی طو رپر 58.10فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈالے اور یہاں سے مسلم لیگ ن کے چودھری ارمغان سبحانی کامیاب ہوئے۔

این اے 74سیالکوٹ IIIمیں 56.09فیصد خواتین 54.85فیصد مردوں اور مجموعی طور پر 55.43فیصد ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور یہاں سے مسلم لیگ ن کے علی زاہد کامیاب ہوئے۔ این اے 76سیالکوٹ Vمیں 58.10فیصد خواتین اور 57.33فیصد مردوں اور مجموعی طور پر 57.67فیصد ووٹ ڈالے گئے ،یہاں سے مسلم لیگ ن کے رانا شمیم احمد خان کامیاب ہوئے ۔

این اے 77ناروال Iمیں 56.32فیصد خواتین اور 53.78فیصد مردوں نے جبکہ مجموعی طور پر 54.86فیصد ووٹ ڈالے گئے یہاں سے مسلم لیگ ن کے مہناز اکبر عزیز کامیاب ہوئیں۔ این اے 186مظفر گڑھ میں 61.85فیصد خواتین اور 58.85فیصد مردوں اور مجموعی طور پر 60.12فیصد ووٹ ڈالے گئے اور یہاں سے پاکستان تحریک انصاف کے عامر طلال خان کامیاب ہوئے ۔این اے 192ڈیرہ غازی خان IVمیں 55.19فیصد خواتین اور 54.65فیصد مردوں اور مجموعی طور پر 54.88فیصد ووٹ ڈالے گئے اور یہاں سے تحریک انصاف کے سردار محمد خان لغاری کامیاب ہوئے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے دو حلقوں میں پہلا حلقہ این اے 1چترال جہاں پر 61.57فیصد خواتین اور 60.49فیصد مردوں نے ووٹ ڈالا ، مجموعی طور پر 60.96فیصد ووٹ ڈالے گئے اور متحدہ مجلس عمل کے امیدوار مولانا عبدالاکبر چترالی کامیاب ہوئے ۔این اے 46اپر کرم ایجنسی میں 43.87فیصد خواتین اور 42.63فیصد مردوں جبکہ مجموعی طور پر 43.17فیصد ووٹ ڈالے گئے جبکہ یہاں سے پیپلز پارٹی کے ساجد حسین طوری کامیاب ہوئے ہیں۔ صوبہ سندھ کے حلقہ این اے 221تھرپارکرIمیں خواتین نے 72.83فیصد خواتین اور 65.39فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے، مجموعی طور پر 68.68فیصد ووٹ ڈالے گئے جہاں سے پیپلز پارٹی کے امیدوار پیر نور محمد شاہ جیلانی کامیاب ہوئے۔ حلقہ این اے 222تھرپارکر IIمیں خواتین نے 71.40فیصد اور 70.51فیصد مردوں نے ووٹ ڈالے ،مجموعی طور پر 70.91فیصد ووٹ ڈالے گئے اور یہاں سے پیپلز پارٹی کے مہیش کمار میلانی کامیاب ہوئے ۔صوبہ بلوچستان کا کوئی حلقہ ایسا نہیں ہے جہاں پر خواتین نے مردوں سے زیادہ ووٹ ڈالے ہوں۔

مزید : قومی /الیکشن