بک شیلف

  بک شیلف
  بک شیلف

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 نام کتاب: پنجاب میں واپسی (1961-75ء)

مصنف: پرکاش ٹنڈن

مترجم: محمد اطہر مسعود

پبلشرز: فکشن ہاؤس، لاہور

اشاعت:2024ء

صفحات: 360

قیمت: 1200روپے

……………………

اگلے روز اخئی مکرم محمد اطہر مسعود صاحب کی طرف سے درجِ بالا کتاب کی ایک کاپی موصول ہوئی۔ یہ کتاب چونکہ انگریزی زبان سے اردو میں ترجمہ ہے اور جناب مترجم کو شاید یہ خوش گمانی ہے کہ میں انگریزی کتب کا اردو میں ترجمہ کرنے والوں کے قبیلے کا ایک فرد ہوں اور ترجمہ نگاری کا ذوق رکھتا ہوں اس لئے انہوں نے مناسب سمجھا ہوگا کہ میں ان کی اس کاوش پر دوچار حروف قلم بند کر دوں۔

گمان غالب ہے کہ میری طرح بہت سے قارئین کو معلوم نہ ہوگا کہ پرکاش ٹنڈن کون تھے اور انہوں نے یہ کتاب جو لکھی تو اس کی شانِ نزول کیا تھی۔ ان دونوں سوالوں کا مسکت اور تفصیلی جواب مترجم نے اپنے ’پیش لفظ‘ میں دے دیا ہے اور وہ وجوہات بھی بیان کر دی ہیں کہ جو زیرِ نظر کتاب کے ترجمے کا سبب بنیں۔ اس کے بعد پانچ صفحات پر مشتمل ’عرضِ مترجم‘ میں اس کوشش کے بارے میں بھی وہ بہت کچھ ’عرض‘  کر دیا ہے جو قارئین کے لئے اخذِ معلومات کا باعث بنا ہے۔

یہ کتاب مصنف پرکاش کی تین کتابوں میں سے آخری کتاب ہے۔ پہلی دو کتابوں کا اردو ترجمہ جناب رشید ملک مرحوم نے کر دیا تھا جو مترجم کے احباب میں سے تھے۔ انگریزی کی اس کتاب کا نام ’پنجابی ساگا‘ ہے جس کا اردو ترجمہ ’پنجابی داستان‘ کیا جا سکتا ہے۔ مصنف خود پنجابی تھا اور نہ چاہتے ہوئے بھی شاید اس نے اپنی تین حصوں میں لکھی جانے والی اس خودنوشت کو ’پنجابی ساگا‘ کا نام دیا ہے…… پہلے حصے ’پنجاب کے سو سال‘ میں اس خطے کی تاریخ اور اس کے رسوم و رواج پر تبصرہ کیا گیا ہے۔ دوسرے حصے میں پنجاب کا تاریخی ذکر کم کیا گیا ہے جبکہ تیسرے حصے میں کہ جس کا ترجمہ،زیرِ تبصرہ ہے ان 15برسوں کا ذکر ہے جو 1961ء سے لے کر 1975ء تک کے عرصے کو محیط ہے۔

پرکاش ٹنڈن (1911-2004ء)گزشتہ صدی کے نصف آخر میں انڈیا کے ایک مشہور اور بااثر کاروباری شخص تھے۔ یوں تو ہندوستان میں بہت سے ارب پتی کاروباری اشخاص آج بھی موجود ہیں اور ان کی سوانح بھی شاید مارکیٹ میں دستیاب ہوں گی۔ لیکن ان میں سے بہت ہی کم لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے مولد کی تاریخ، جغرافیہ اور معاشرت پرکوئی سیر حاصل تصنیف لکھی ہوگی۔ پرکاش نے البتہ پنجاب پر یہ کتاب لکھ کر اپنی جنم بھومی میں اپنی تولید کا حق ادا کر دیا ہے۔ اس کتاب کے تین حصے ہیں:

1-Punjabi Century

2-Beyond Punjab

3-Return to Punjab

راقم السطور 1963ء میں رحیم یارخان کے گورنمنٹ ڈگری کالج میں بطور لیکچرارتعینات تھا،  وہاں معلوم ہوا کہ لکس، رکسونہ صابن اور پونڈز ٹیلکم پاؤڈر بنانے کی فیکٹری اس شہر میں موجود ہے۔ میں ایک دن وہاں چلا گیا تو وہاں کے جنرل منیجر نے اس کارخانے ”لیور برادرز“ (یا یونی لیور) کی تاریخ بیان کی۔ اس میں پرکاش ٹنڈن کا ذکر بھی آیا۔ لیکن مجھے ہرگز معلوم نہ تھا کہ ’یونی لیور‘ میں کام کرنے والے اس ہندوستانی شخص کا ماضی اور حال کیا ہے…… بس ان کا نام یاد رہ گیا ہے…… بعض نام  ایسے ہوتے ہیں کہ برسوں یاد رہتے ہیں اور مجھے اس لئے بھی یاد ہیں کہ جنرل منیجر نے جاتے ہوئے ایک ایک درجن لکس، رکسونہ اور پونڈز پوڈر کے ڈبے بطور ’تحفہ‘ میری گاڑی میں رکھوا دیئے تھے!

میں نے تقریباً درجن بھر سے زیادہ ملٹری کلاسیک کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ ان کے علاوہ لتا منگیشکر اور محمد رفیع کی سوانح حیات کا ترجمہ بھی کیا ہے۔ ترجمہ نگاری کوئی آسان مشغلہ نہیں بلکہ ایک حد درجہ مشکل کام ہے۔ اس کتاب ”پنجاب میں واپسی“ کے مترجم نے بہت اچھا کیا ہے کہ متن میں ذکر کئے جانے والے مقامات و افراد کا تعارف بھی کروا دیا ہے۔

مجھے چونکہ پرکاش کی اولین دو کتابوں ’پنجاب کے سو سال‘ اور  ’بیرونِ پنجاب‘ پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا اس لئے نہیں کہہ سکتا کہ ان میں تصنیف و تالیف کی گہرائیاں اور گیرائیاں کس درجہ کی ہیں۔ لیکن زیرِ نظر تیسرے حصے میں جہاں کہیں بھی پنجاب کا ذکر آیا ہے مصنف نے اس کا تذکرہ بہت دلنشیں انداز میں کیا ہے۔اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ اس کتاب کا ترجمہ اگر حد سے زیادہ نہیں تو بہت حد تک مشکل تھا۔ اس مشکل چیلنج کو مترجم نے جس دِقتِ نگاہ سے سلجھایا ہے یہ واقعی ایک قابلِ تحسین بات ہے۔ پرکاش نے اپنے پیشے کے لحاظ سے اپنی تحریر میں جن اصطلاحات اور الفاظ و تراکیب کو انگریزی زبان میں بیان کیا تھا ان کا اردو ترجمہ کرنا اور پھر اس میں تسلسل اور لسانی بہاؤ کو قائم رکھنا آسان نہیں تھا۔ اس حوالے سے بھی میری نظر میں مترجم بے حد داد کے مستحق ہیں۔

جہاں تک مجھے معلوم ہے جناب اطہر مسعود صاحب بنیادی طور پر فارسی زبان کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے فارسی نظم و نثر (بالخصوص نثر) کے بعض شہ  پاروں کا جو اردو ترجمہ کیا ہے، وہ تو قابلِ داد تھا ہی لیکن اس انگریزی کتاب میں جس موضوع پر اظہار خیال کیا گیا وہ نظم و نثر کا کوئی سلیس یا آسان اسلوب نہیں بلکہ بہت مشکل اور ادق معاملہ تھا۔

پرکاش کو پنجاب سے محبت ضرور تھی لیکن شادی ایک سویڈش خاتون سے کی۔ اس کی وجہ ’دل کی مجبوری‘ ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اُن کا دل اگر اپنے پنجاب کی فضاؤں میں دھڑکتا تھا تو یہی دل ان کو امرتسر سے اٹھا کر سویڈن کے کسی شہر میں لے گیا اور وہیں اس دل کی بے قراری کو قرار آیا! 

مترجم نے اپنے ”عرض مترجم“ میں یہ لکھا ہے: ”پرکاش ٹنڈن محض ایک کتاب کے مصنف ہیں لیکن ان کا اندازِ تحریر انتہائی دلچسپ ہے۔ وہ باقاعدہ ڈائری لکھنے کے عادی معلوم ہوتے ہیں“۔ لیکن مجھے یہ پڑھ کر حیرت ہوئی کہ ایک ایسا شخص کہ جو باقاعدہ ڈائری لکھتا ہے وہ ’تاریخ‘کی یہ غلطی کیسے کر سکتا ہے جس کا ذکر کرنے لگا ہوں۔

کتاب کا نواں باب صفحہ 147 سے شروع ہوتا ہے۔ اس باب کا افتتاحی پیراگراف یہ ہے: ”یکم مارچ 1962ء کو میں اسپی مودی کے ساتھ بذریعہ ہوائی جہاز لکھنوء سے دہلی آ رہا تھا۔ روائتی طور پر فروری کے آخری دن بجٹ پیش کیا جا چکا تھا۔ اخباروں میں سرخیاں لگی تھیں۔ میں نے بجٹ تقریر میں وزیرخزانہ کے ابتدایئے پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور عروج کی طرف جاتے جاتے ایک فیصلہ کن مرحلے پر رک گیا تھا…… نئے ٹیکسز!…… مجھے پہلے ہی شک تھا۔ یہ ایک مشکل بجٹ تھا جس میں چین کے ساتھ جنگ کے شاخسانے کے طور پر نئے وسائل پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور وہ بھی ایک ہی ہلّے میں ……“

لیکن انڈیا اور چین کی یہ جنگ تو اکتوبر 1962ء میں شروع ہوئی تھی اور ایک ماہ بعد نومبر 1962ء میں چین خودبخود واپس چلا گیا تھا۔ مارچ 1962ء میں کسی کو بھی خبر نہ تھی کہ چین، انڈیا پر حملے کے ایک ماہ بعد واپس چلا جائے گا۔ اگر پرکاش ڈائری لکھنے کے عادی تھے تو وہ مارچ 1962ء  میں انڈیا پر اکتوبر 1962ء میں چینی حملے کی خبر کیسے ’بریک‘ کر سکتے تھے؟…… کیا اسے ایک سہو سمجھا جائے؟…… لیکن ڈائری لکھنے والا اس طرح کی غلطی کبھی نہیں کر سکتا۔

آخر میں یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مشکل انگریزی کتاب کو جس کے بعض حصے اور الفاظ خشک اور نامانوس تھے، اس کا رواں اور برجستہ ترجمہ انگریزی محاورے کے مطابق ایک Uphill ٹاسک تھا جسے اطہر مسعود صاحب نے نہایت محنت اور شستگی سے مکمل کیا ہے۔ اللہ کریم ان کو اس کارِ مشکل کے انجام دہی کے لئے اجر عظیم عطا فرمائے۔ اردو ترجمہ نگاری کے باب میں ایسے نامانوس موضوعات پر ایسا رواں ترجمہ خال خال نظر آتا ہے۔ مجھے امید ہے قارئین اس کتاب کو نہائت معلومات افزاء پائیں گے۔ ساڑھے تین سو سے زیادہ صفحات کی اس مجلد کتاب کی قیمت صرف 1200 روپے رکھی گئی ہے جو عام قاری کی جیب پر کوئی ناروا بوجھ نہیں ہوتی۔”فکشن ہاؤس“ لاہور کے جناب ظہور احمد خان صاحب کو بھی یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی کتاب کا ترجمہ اس اہتمام سے شائع کیا اور یہ ان کی اردو ادب سے وابستگی اور دلچسپی کا ایک بڑا ثبوت ہے۔

مزید :

رائے -کالم -