قتل جمہوریت

قتل جمہوریت
قتل جمہوریت
کیپشن: noshad ali

  

یہ دو ہزار ایک یا دو کی بات ہو گی جب ایک مشہور انگریزی اخبار میں رپورٹرز اور نیوزروم کے صحافی حضرات کے لیے انٹرنیٹ کا استعمال بند کر دیا گیا اور صرف آفیشل ای میل بذریعہ آ ﺅ ٹ لُک چیک کرنے کی اجازت دی گئی۔ انتظامیہ کا موقف تھا کہ انٹر نیٹ کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے ۔ ایڈیٹرصاحب سے عرض کی گئی کہ جناب جو یہ کام کر رہا ہے، انتظامیہ اُس کا انٹرنیٹ بند کرے نہ کہ سب کا ۔ ایڈیٹرصاحب کو بات سمجھ میں آئی اور اُنہوں نے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹرصاحب کو طلب کر لیا۔ جب اُن سے پوچھا گیا تواُنہوں نے بتایا کہ انٹرنیٹ کے غلط استعمال سے پورے اخبار کے نیٹ ورک پر وائرس کا حملہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے بڑی مشکلات پیش آتی ہیں اور اخبار کے بہت سے شعبے متاثر ہوتے ہیں اس لیے وہ کسی قسم کا رسک نہیں لے سکتے ۔ وہ چند مثالوں کے ساتھ مارشل لاءلگائے رکھنے پر مصر رہے۔ آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر صاحب سے عرض کی گئی کہ جناب آپ نیٹ ورک کو صحیح طرح ڈیزائن کریں تو آپ کو یہ مسئلہ نہیں آئے گا اور اُس شخص کا پکڑا جانا بھی ضروری ہے جو ایسی حرکتیں کر رہا ہے ۔

دلیل کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو، یہاں کوئی کسی کی مانتا ہی کب ہے سو وہ بھی اپنی بات پر اڑے رہے اور ایڈیٹر صاحب کو یہ کہہ کر بلیک میل کر لیا گیا کہ ایسا کوئی رسک نہیں لیاجا سکتا جس کے نتیجے میں اخبار کے کام کو کسی مسئلے سے دوچار ہونا پڑے۔ اُنہیں کون سمجھاتا کہ جس سے ڈرایا گیا وہ حالات تو جوں کے توں تھے کیونکہ صحافیوں نے متبادل ڈھونڈ لیے تھے اور وہ انٹر نیٹ استعمال کر رہے تھے۔ جانتا تھا کہ نالائق آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر کی بدولت اخبار کو ایک د ن ڈرائے جانے والے مسائل سے ضرور دو چار ہونا پڑے گا۔ آئی ٹی کی شوقیہ پڑھائی اور تجربہ کام آیا ، اخبار کی ورکنگ کی بھی سمجھ تھی اس لیے ایک نیٹ ورک ڈیزائن کر کے ایک سینئر دوست کے ذریعے گروپ آئی ٹی ڈائریکٹر کو بھجوا دیا۔ صاحب سمجھدار تھے فون پر مسئلہ پوچھا اور حل تجویز کرنے کا شکریہ ادا کر کے فون رکھ دیا۔ اگلے ہی روز ہیڈ آفس سے ایک سمجھدار آئی ٹی ایڈمنسٹریٹرصاحب تشریف لائے اور مجوزہ نیٹ ورک چند گھنٹوں کی محنت کے بعد لاگو کر دیا گیا۔ اب نالائق ایڈمنسٹریٹر چونکہ جانتا نہیں تھا اس لیے بنانا تو درکنار چلانا بھی اُس کے بس میں نہیں تھا سو چند ہی روز میں ایک قابل شخص نے وہ ذمہ داری سنبھال لی۔ آج تک اُس اخبار میں وہی نیٹ ورک بھرپور طریقے سے کام کر رہا ہے۔

ایک دن مینجمنٹ کے ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ یہ سب آپ نے کیوں کیا تو میں نے عرض کی جناب مسائل آنکھ چرانے سے نہیں بلکہ مسئلے کی صحیح تشخیص اور پھر بہتر علاج کے ذریعے ہی حل کیے جا سکتے ہیں۔ پرانے آئی ٹی ایڈمنسٹریٹر صاحب نے مسئلے کو دراصل حل نہیں کیا تھا بلکہ ایک نیا مسئلہ کھڑا کر دیا تھا کیونکہ وہ وقتی طور پر ایڈہاکزم کے ذریعے کام چلانا چاہ رہے تھے جو ممکن نہیں تھا۔ انٹرنیٹ استعمال کرنے کے لیے ہوتا ہے بند کرنے کے لیے نہیں۔

اسی طرح اچانک ایک دن پتہ چلا کہ رپورٹنگ کو دیے گئے ڈائریکٹ ٹیلیفونوں سے موبائل فونز کی کال کرنے کی سہولت ختم کر دی گئی ہے۔ رپورٹر کی ذرائع کمیونیکیشن پر قدغن اُس کے کام پر کاری ضرب کی طرح ہوتی ہے اور بقول خواجہ نصیر جو اُس وقت ہمارے ساتھ رپورٹنگ کرتے تھے یہاں فونوں پر تالا پڑا ہے۔۔۔عجب ماں کے’سپوتوں ‘سے پالا پڑا ہے۔خیر قصہ مختصر، سبھی رپورٹرز سٹپٹائے لیکن بات بن کے نہیں دی البتہ کافی لڑائی کے بعد مینجمنٹ نے اُ سکا حل یہ نکالا کہ آپریٹرز کے ذریعے کال ملوائی جائے تاکہ پتہ چل سکے کون کسے اور کب کتنی دیر کال کر رہا ہے۔ رپورٹرز سے بات کہاں چھپی رہتی تو پتہ چلا کہ موبائل کالز اس لیے بند کی گئیں کہ نیوز روم کے کسی صاحب نے کراچی کے موبائل نمبر (اُس زمانے میں دوسرے شہر کے موبائل کی کال زیادہ مہنگی ہو کرتی تھی) پر کا ل کر کے مسلسل تقریباً نو گھنٹے بات کی ۔سب حیران اورپریشان تھے کہ کوئی نو گھنٹے مسلسل کیسے بات کر سکتا ہے؟ جو بھی صاحب تھے اُنہوں نے کام نہیں کیا؟ وہ کہیں آئے گئے نہیں کہ مسلسل سیٹ پر چپکے رہے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مزید تفتیش پر پتہ چلا کہ ایسی کئی کالزہیں جو گھنٹوں پر محیط ہیں کیونکہ سیٹ پر بیٹھتے ہی لوگ موبائل نمبروں پر کال ملا کر ساتھ ساتھ کام کرتے ہیں۔ایک اور انکشاف یہ بھی ہوا کہ رپورٹنگ کے نمبروں سے بھی گھنٹوں لمبی کالیں کی گئیں اور یہ کالیں رات دو تین بجے کے بعد سے لیکر صبح نو اور دس بجے کے درمیان تک کی جاتی ہیں جب رپورٹنگ میں کوئی رپورٹر موجود نہیں ہوتا۔ اس لیے رپورٹنگ کے ڈائریکٹ ٹیلیفون نمبرز بھی اسی لیے بند کیے گئے۔ مینیجمنٹ سے کافی مغز ماری کے بعد معاملہ یوں حل ہوا کہ رپورٹرز نے رپورٹنگ کے ڈائریکٹ نمبروںکے کوڈزلے کر ذمہ داری لے لی اورجاتے ہوئے تمام ڈائریکٹ نمبرموبائل یا دوسرے شہر وں کی ڈائلنگ کے کوڈز لگا کر بند کر دیے جاتے ۔

یہ دو مختلف ذاتی تجربات شیئر کرنے کا مقصد یہ زیر بحث لانا تھا کہ اللہ کی قدرت ہے کہ اِس ملک میں جب ،جب جس کو جو ،جو ملا ،اُس نے اُس سے ایسا انصاف کیا۔۔۔ اللہ کی پناہ!!! اور اُس سے بھی بڑا اجتماعی مسئلہ یہ ہے کہ افسران بالا مسائل کو ہمیشہ ’جڑ سے اُکھاڑ‘ پھینکنا توچاہتے ہیں لیکن کوئی بھی باتحقیق مسائل کی تشخیص اور پھر علاج کرنے کو تیار نہیں کہ اِس کام پر لگتی ہے محنت زیادہ ۔

اب افسر شاہی کا محنت سے کیا واسطہ کہ اُنہوں نے تو حکم چلانے کے سوا کچھ سیکھا ہی نہیں ۔ کار ِسرکار میں یہ فلسفہ تو اس حد کو چھو چکا کہ معاملات ناسور بنتے جا رہے ہیں اور اگر بن رہے ہےں تو بنتے رہیں ، آخر تو ’کاٹنے‘ ہی ہیں، بنا سوچے سمجھے کہ بعض ناسور کینسر بھی بن جایا کرتے ہیں۔دنیا بھر میں مسائل کی تشخیص اور علاج کم سے کم وقت میں کرنے کی دوڑ جاری ہے تو یہاں افسر شاہی ابھی تک ’مفت کی لنکا ہے۔۔۔،جلا دو‘ کے نعروں پر زندہ ہے۔

 اِسی افسر شاہی کے ہر سرکاری و نجی اداروں میں اعلیٰ اختیارات رکھنے والے پلانٹڈ ہرکاروں کی بدولت چھ سالہ جمہوریت کے سر پر پھر سے گِدھ منڈلانے لگے ہیں اورکسی کے لگائے زخم کو ناسور بتا کرکاٹنے کے نام پر قتل جمہوریت کامیدان سجا دیا گیا ۔ اگرچہ نجومی سیاست دان شیخ رشید صاحب کی شاید ہی کوئی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی ہو اور اللہ کرے عید سے پہلے کسی قربانی کی اطلاع بھی غلط ہی ثابت ہو۔ البتہ!!! بزرگ سیاست دان چوہدری شجاعت بھی بُغض ’شریفیہ‘میں ہی سہی، اِس قتل عمد کی سازش بے نقاب کر چکے ۔

ہر باشعور کو نظر آرہا ہے کہ تماشہ گر نومولود سیاسی ہرکارے کے ذریعے عقل کے کچوں کا مجمع لگا گرم خون کے ذریعے جگہ جگہ تماشہ شروع کر چکے۔کیا بات ہے بھئی۔۔۔’کم چُک کے رکھو‘۔۔۔خود ہی اپنی جڑیں کاٹ رہے ہولیکن یہ تو سوچ لوکہ آخر کس کے لیے؟ صرف ۔ ۔ ۔ ’میں نہ مانوں ‘کی ضد پر قائم ایک شخص کے لیے؟ بہتر ہوتا کہ جمہوریت کی بقاءکی خاطر حکومت تھوڑی سی سبکی برداشت کر کے بالکل اُسی طرح جیسے عوام کے منتخب کردہ وزیر اعظم کو ملک بدر کردیا گیا تھا،اُس ایک شخص کو بھی راتوں رات کہیں بھجوا دیتی ۔۔۔حکومت کیسے بھول گئی کہ عوام کا حافظہ بہت کمزور ہے۔ ۔۔ نہ ہوتا بانس نہ بجتی بانسری۔۔۔وہی بانسری جس کی تان پر زخم کو ناسور بتا کر کاٹ پھینکنے کے نفسیاتی نشے میں مخمور تماشہ گروںنے ملزم کو مجرم ثابت کیے بغیر ہی بی ٹیم عرف پریشر گروپ، مداریوں اور بندروں کے ساتھ مل کر انصاف کا ڈھنڈورا پٹوا دیا۔

ہوش اُنہیں کرنا ہے جو ’عالم غیب ‘ سے ملے اشارے پر تہذیب سے ناآشناءکسی افریقی قبیلے کی طرح خواہش کے الاﺅ میں جمہوریت کو’پکا ‘کر ’اقتداری گوشت ‘کا مزہ لینے کے لیے آج ناچ رہے ہیں ۔۔۔ کل وہ بھی ایسے ہی کسی الاﺅمیں ویسے ہی پک رہے ہوں گے کہ تماشہ گر تو وہی رہتے ہیں بس ہرکارے بدل جاتے ہیں۔

مزید :

کالم -