گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 64

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ ...
گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 64

  

بیان کیا جاتا ہے کہ وائسرائے لارڈ یول نے برطانوی وزیراعظم مسٹر اٹیلی سے کہہ دیا تھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ مَیں ہندوستان میں امن قائم رکھوں تو اس کے لئے آپ کو مزید برطانوی سول افسر اور برطانوی فوجیں فراہم کرنی ہوں گی۔ ہوسکتا ہے کہ یہ بات برطانوی حکومت کے اس فیصلہ کی تائید میں مددگار ثابت ہوئی ہو کہ اسے جلد از جلدہندوستان کو آزادکردینا چاہیے۔ البتہ یہ بات یقینی ہے کہ انگریزوں پر یہ واضح ہوچکا تھا کہ ہندوستان میں ان کا قیام نہ ہندوؤں کو گورا ہے اور نہ مسلمانوں کو۔ کنزرویٹو پارٹی نے بھی 1947ء میں انڈیا بل کی تائید کردی تھی جس کا مطلب تھا کہ ہندوستان کی آزادی کے حق میں پوری برطانوی پارلیمنٹ متحد الخیال تھی۔ مَیں مورخ نہیں ہوں اور نہ یہ سمجھتا ہوں کہ عوام برصغیر کی تاریخ کے ان بنیادی حقائق سے بے بہرہ ہیں جو برطانوی اقتدار کے خاتمہ کا موجب ہوئے تاہم برطانوی دور حکومت کے خاتمہ کا ذکر کرتے وقت جب تک گزشتہ دو صدیوں کے خاص خاص واقعات پر سرسری نظر نہیں ڈالی جائے گی۔ پوری تصویر آنکھوں کے سامنے واضح نہیں ہوگی۔

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 63 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

انیسویں صدی کے نصف اول میں مغل بادشاہ کا اقتدار کم ہوتے ہوتے صرف دہلی تک محدود رہ گیا تھا اور وہ اس قدر کمزور اور بے دست و پاہوگیا تھا کہ اس کا بیشتر وقت درباریوں، خواجہ سراؤں اور خوشامدی لوگوں کے درمیان بسر ہوتا تھا۔ وہ سپاہیانہ اوصاف، جنہوں نے جنگجو نسل کے ان جانبازوں یعنی مغلوں کو ہندوستا کا مالک بنادیا تھا، کم ہوتے ہوتے ان کے کردار سے محو ہوچکے تھے۔ آخری دور کے اکثر مغل بادشاہ بہت مہذب اور ذہین تھے اور فارسی میں شعرگوئی کا ملکہ بھی رکھتے تھے لیکن وہ میدان جنگ میں فوجوں کی کمان خود نہیں کرتے تھے اور ان کے گورنروں کا طرز عمل یہ تھا کہ گویا اپنے زیر اختیار علاقہ کے مالک و مختار بس وہی ہیں۔

یورپی اقوام سترہویں صدی عیسیوی کے دوران میں ہندوستان کے ساحلی علاقوں پر دھیرے دھیرے قدم بڑھارہی تھیں اور یہاں ان کی آزاد تجارتی بستیاں قائم ہوتی جارہی تھیں جیسا کہ سب کو معلوم ہے۔ ان لوگوں نے اپنی نجی فوج بنالی تھی جو مختلف چھوٹے چھوٹے سلاطین، نوابوں اور راجوں کی مقامی آویزشوں میں دخل دیا کرتی تھی۔ برطانوی کمپنی اپنے یورپی حریفوں، خاص طور پر فرانسیسیوں کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔

یہ بات بالعموم درست ثابت ہوتی ہے کہ جو لوگ دولت کی طمع میں اندھے ہوکر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرمک رتے ہیں وہ مصیبت پڑھنے پر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھتے ہیں۔ فرانسیسی ایسٹ انڈیا کمپنی کے حصہ دار جب منافع تو کجا اپنا اصل سرمایہ بھی گنوا بیٹھے تو انہوں نے اپنی ناکامی کی ذمہ داری للی کے سرمڑھ دی۔ چنانچہ یہ جنرل جس نے جنوبی ہند میں شکست کھائی تھی، پکڑ کر پیرس لایا گیا۔ اس پر مقدمہ چلا اور بالآخر اسے موت کی سزا دی گئی لیکن سزا سے پہلے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی گئی، دونوں پاؤں رسی سے جکڑے گئے اور اسے ایک گھوڑے گاڑی کے پیچھے باندھ دیا گیا۔ گاڑی اسے گھسیٹتی پھری یہاں تک کہ درد و کرب سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

برطانوی جنرل لیک نے ہندوستان کی تسخیر کے آخری زمانہ میں بنگال سے شمال کی جانب اپنی مشہور پیش قدمی کا آغاز کیا۔ گوالیارا اور اندور کے راجہ ایک دوسرے کے رقیب تھے تاہم انہوں نے لیک سے مقابلہ کے لئے متحدہ ہونے کا فیصلہ کیا لیکن عین آخری وقت پر ان میں سے ایک حکمران نے یہ سوچ کر جنگ سے علیحدگی اختیار کرلی کہ دوسرا حکمران انگریزوں کے ساتھ پہلی جھڑپ میں جب خوب نقصان اٹھالے گا تو اس کے لئے تھکی ماندی انگریزی فوج کو شکست دینا دشوار ہوگا لیکن ا س کا یہ خیال خام ثابت ہوا۔ دونوں حکمرانوں کی فوجیں یکے بعد دیگرے شکست کھاگئیں اور ہندوستان پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا۔ 1857ء سے قبل جواں سال برطانوی افسر، ہندوستان کے دیہات میں جاتے رہتے تھے اور مقامی تنازعوں میں بلا کسی رو رعایت کے اپنی صوابدید کے مطابق برمحل فیصلے کرتے تھے۔ یہ افسر ’’بخاروں‘‘ کے باعث جوانی میں ہی مرجاتے تھے۔ ’’بخاروں‘‘ کی اصطلاح کم و بیش ان تمام بیماریوں کے لئے رائج تھی جو ایک اجنبی ملک اور اس کی مانوس آب و ہوا میں انگریز افسروں کو لاحق ہوتی رہتی تھیں۔ یہ غیر ملکی کمپنیاں تجارت سے بالواسطہ اور نادیدہ طور پر منافع کماتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام نہ اس کے نقصان کو محسوس کرتے تھے اور نہ غم و غصہ میں مبتلا ہوتے تھے لیکن ان کے افسر رشوت اور لوٹ کھسوٹ سے بے تحاشا دولت سمیٹ رہے تھے۔

بیان کیا جاتا ہے کہ مدارس کے ایک کیتھولک پادری نے فرانسیسی حکومت کو سالانہ چارسو فرانک کی پنشن کے لئے درخواست دی۔ پادری اپنے منصب سے ریٹائر ہونے والا تھا اور وطن واپس جاکر گزر اوقات کرنے کے لئے اس کے پاس کوئی رقم نہ تھی۔ اس پادری کی درخواست ابھی زیر غور ہی تھی کہ اچانک اس کا انتقال ہوگیا اور جب اس کا بکس کھول کر دیکھا گیا تو اس میں سے ساڑھے بارہ لاکھ پاؤنڈ سٹرلنگ نقد برآمد ہوئے۔ ظاہر ہے کہ یہ رقم اس نے سیاست میں ہیر پھیر سے اکٹھی کی تھی۔ یورپی اقوام جن دنوں اس بدنصیب خطہ ارضی میں لوٹ مار میں مصروف تھیں۔ ان دنوں خود مذہب بھی ایک نفع بخش کاروبار بن چکا تھا۔

1857ء کے بعد جب برطانوی پارلیمنٹ نے اس ملک کا نظم و نسق خود سنبھال لیا تو ملک میں امن وامان قائم ہوگیا اور تجارت نے ترقی کی۔ انہوں نے مقامی لوگوں کے درمیان ترازو کاپلڑا برابر رکھا لیکن یہ سب کچھ 1857ء کے بعد ہوا ورنہ ابتدائی زمانہ میں تو ایسٹ انڈیا کمپنی نے ایماندار تاجروں سے زیادہ وحشی لٹیروں کا کردار ادا کیا تھا۔ اس زمانہ کے متعلق کمپنی اور اس کے ایجنٹوں کی سیاہ کاریوں کے پورے کے پورے دفتر رقم کئے جاسکتے ہیں۔ بہرحال جوں جوں وقت گزرتا گیا۔ برطانوی طرز تعلیم اور انگریزی زبان کے علم نے لوگوں کی آنکھیں کھول دیں اور انہیں ایک ایسی جمہوریت کے قیام کا امکان نظر آنے لگا جو انگلینڈ اور یورپ میں قائم تھیں۔

1857ء میں ایک نئی سیاسی پارٹی انڈین نیشنل کانگریس کے نام سے قائم ہوئی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس شخص نے اس پارٹی کی بنیاد رکھی، وہ ایک انگریز اور انڈین سول سروس کارکن تھا۔ بعد میں اس کی قائم کردہ جماعت نے اس کے ہم وطن حکمرانوں کو اس ملک سے نکال باہر کیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کا نام اس جماعت کے لئے بہت سود مند ثابت ہوا کیونکہ بعد کے زمانہ میں غیر ملکی لوگوں نے خاص طور پر نیم باخبر امریکیوں نے اکثر یہ تاثر قبول کیا کہ یہ کانگریس بھی کسی نہ کسی طریقہ سے امریکی کانگریس کے مساوی ہے۔ نام سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ انگریزوں نے آخر اس پالیسی پر عمل درآمد شروع کیا کہ جب بھی اصلاح کے کسی مطالبہ نے تشویش کے تحت عوام کی جمہوری امنگوں کی تشفی ہوتی رہتی تھی۔ یہ عمل خاصہ عرصہ جاری رہا یہاں تک کہ ایک وقت آیا جب ہوم رول سے کمتر کوئی مطالبہ عوام کے لئے قابل قبول نہ رہا۔ اس وقت ہندوستانی عوام کے سبھی طبقوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ وقت قریب آرہا ہے جب برطانیہ اس ملک کی ہر چیز ہندوستان کے حوالے کردے گا اور گاندھی کے زندہ جاوید الفاظ میں ’’ہندوستان چھوڑ‘‘ دے گا۔ اب خواہ کوئی کچھ کہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ صرف ایک ہزار انگریز سول افسر چالیس کروڑ باشندوں کے اس ملک پر حکومت کررہے تھے اور ان کی پشت پر صرف ڈیڑھ لاکھ فوج تھی جس میں اب بیشتر افسر ہندوستانی تھے۔

ہندوستانی افسران نے پہلی عالمی جنگ کے دوران میں کنگز کمیشن حاصل کیا تھا۔ اس دستے میں میرے بھائی علی بھی شامل تھے۔ ان افسروں کی حالت کچھ اچھی نہیں تھی کیونکہ ان کے ساتھ برابر کا سلوک نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں انگریز افسروں کی نسبت کمتر مراعات حاصل تھیں۔ یہ امتیازی سلوک ہندوستانی فوج کے باورچی خانہ میں بہت نمایاں تھا۔ البتہ برطانیہ افسروں کے رویہ میں تعصب نہ تھا جو مشرقی ممالک میں اس سے پہلے نہیں آئے تھے بعض ہندوستانیوں کو 1918ء سے پہلے لارڈ کرزن کے زمانہ میں فوج میں عہدے مل چکے تھے۔

فرانس کے لوگوں نے 1914ء کی جنگ میں ان کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کیا تھا۔ یہ بات اب تک بہت سے لوگوں کو یاد ہوگی کہ ہندوستانی فوج کے جن دستوں کو بڑی عجلت میں محاذ جنگ پر روانہ کیا گیا تھا، انہوں نے محاذ پر پہنچتے ہی جرمنوں کی پہلی یلغار کو روک دیا اور اس مقابلہ میں بہت سے ہندوستانی سپاہی مارے گئے۔ ہندوستان میں برطانوی فوج پچاس ساٹھ ہزار کے درمیان تھی لیکن ہندوستانی خزانہ پرا س کے مصارف کا بوجھ بہت زیادہ تھا کیونکہ ایک انگریز سپاہی پر ایک ہندوستانی سپاہی کے مقابلہ میں پانچ گنا زیادہ روپیہ خرچ ہوتا تھا۔ برطانیہ میں ان کی تربیت کے مصارف بھی ہندوستانی خزانہ سے وصول کئے جاتے تھے۔

ہندوستان خصوصاً ہندوستانی فوج نے پہلی عالمی جنگ جیتنے میں انگریزوں کی جو مدد کی تھی اس کے صلے میں ہندوستان کو 1919ء میں منتخب قانون ساز اسمبلیوں کی صورت میں بڑی حد تک حکومت خود اختیاری دے دی گئی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ہندوستان کلیتاً آزاد ہوگیا۔ یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ ہندوستان کی آزادی انگریز دشمن سیاسی جماعتوں کی مساعی کے بجائے بڑی حد تک انگریز کے وفادار طبقہ کی مرہون منت تھی۔ البتہ انگریز دشمن سیاسی گروہوں کے احتجاج نے برطانیہ کو وقتاً فوقتاً عملی کارروائی کرنے پر مجبور کیا تاکہ وہ جنگ میں بہی خواہ عناصر کی ہمدردیوں سے بھی محروم نہ ہو جائے۔

ہندوؤں اور مسلمانوں نے ابتداً اس سیاسی جدوجہد میں کانگریس کے پرچم تلے اتحاد عمل کا ثبوت دیا اور ہوم رول کا مطالبہ کیا لیکن جلد ہی مسلمانوں کو یہ احساس ہوگیا کہ یہ راستہ ان کی سیاسی آزادی کا راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے مسلم لیگ کے نام سے اپنی الگ سیاسی جماعت بنالی۔ اس تنظیم کی جدوجہد کا پہلا ثمرہ جداگانہ طریق انتخاب کا اصول تھا جو 1910ء کے بالواسطہ انتخابات میں اور پھر 1920ء کے براہ راست انتخابات میں تسلیم کیا گیا۔ اس طریق انتخاب کے تحت مسلمانوں کو یہ موقع میسر آیا کہ اپنی آبادی کے تناسب سے اور اپنی پسند کے مطابق قانون ساز اسمبلیوں کے لئے مسلمان نمائندے منتخب کریں۔

اس اصول کے نفاذ پر ہندو سخت ناراض ہوئے اور انہوں نے اس کا الزام انگریزوں کے سرتھوپا۔ ہندوؤں کی ہر سیاسی تقریر میں ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کا ذکر ہوتا اور انگریزوں کو اس کا ملزم گردانا جاتا ۔ہندوسیاست دان اس دعوے کو صدق دل سے تسلیم کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ جداگانہ انتخابات کا نفاذ انصاف کی وہ کم سے کم شرط تھی، جو انگریزوں نے اس اقلیتی فرقہ کے ساتھ روا رکھی تھی۔ نیچ ذات کے ہندوؤں اور ہندوستانی عیسائیوں کے حق میں بھی یہ رعایت منظور کرلی گئی تھی۔ پست ذات کے ہندو اچھوت کہلاتے تھے اور ان کی تعداد چھ کروڑ تھی۔ اسی طرح مقامی عیسائیوں کی تعداد پورے ہندوستان میں ساٹھ لاکھ تھی تاہم سب سے زیادہ عداوت اور نفرت مسلمانوں کے خلاف پیدا کی گئی۔ جنہوں نے جداگانہ انتخابات کا مطالبہ کیا تھا اور جو اس کی بنیاد پر ملازمتوں میں بھی اپنی آبادی کے تناسب سے نمائندگی کا مطالبہ کررہے تھے حالانکہ اب تک ملازمتوں میں صرف ہندوؤں کی اجارہ داری تھی۔ اکثریتی فرقہ کے خود غرضانہ مفادات پر جب چوٹ پڑی تو مسلمانوں کے خلاف ان کی نفرت پہلے سے بھی زیادہ شدت اختیار کرگئی۔ انہیں معلوم ہوگیا کہ آزادی کے بعد مسلمان ایک مستقل درد سر بن جائیں گے اور اگر کہیں ان کی آٹھ کروڑ آبادی نے چھ کروڑ اچھوتوں سے اتحاد کرلیا تو یہ اور بھی مصیبت ہوگی۔ انہی اندیشوں کی بنا پر جوشیلے ہندوؤں نے خانہ جنگی کی تیاری کی اور مذہبی تحریک شروع کی۔ ان دنوں مسلمانوں کو جبراً ہندو بنادینے کے متعدد واقعات یوپی سے خاص طور پر سننے میں آئے حالانکہ ان کے عقیدہ کی رو سے ہندو ہمیشہ پیدائشی ہندو ہوتا ہے۔ عقیدہ کی تبدیلی سے کوئی شخص ہندو نہیں بن سکتا لیکن اس تحریک کے پس پردہ جوشدھی کے نام سے معروف تھی۔ ہندوؤں کا اصل مقصد اس برصغیر میں اسلام کو ختم کرنا تھا۔ انتہا پسند ہندو اخبارات نے اپنے اس منتہائے مقصود کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ان کی اس صاف بیانی نے مسلمانوں کو چوکنا کردیا اور انہوں نے آنے والے اس المیہ سے بچنے کے لئے اپنی کوششیں تیز تر کردیں۔ہندو صنعت کاروں، سرکاری ملازموں اور بنیوں نے مسلمانوں کو اپنے اقتصادی استحصال کے شکنجہ میں کس کر اس بری طرح نچوڑنا شروع کردیا تھا کہ مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ بس اب ان کا آخری وقت آگیا ہے۔ انہوں نے اپنے بچاؤ کے لئے پہلے انگریزوں کی طرف دیکھا اور بالآخر اپنا دعویٰ اس مطالبہ پر ختم کیا کہ جن علاقوں میں ان کی آبادی زیادہ ہے ان میں ان کے جداگانہ ریاست قائم کی جائے۔ عظیم فلسفی شاعر محمد اقبال نے اپنے اشعار کے ذریعہ مسلمانوں کی روح کو گرمایا اور ان میں بیش از بیش سیاسی بیداری پیدا کی۔ لفظ پاکستان جس کے معنی فارسی میں پاک سرزمین کے ہیں۔ مسلمانوں کے تخیل میں یوں پھیل گیا جیسے جنگل کی آگ ہو۔ لوگ پاکستان کے حصول کے لئے سر سے کفن باندھ کر میدان عمل میں نکل آئے۔ پاکستان، پنجاب، افغان، کشمیر اور سندھ کے پہلے اور بلوچستان کے آخری جز ’ستان‘ سے مل کر بنا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ لفظ اقبال نے دیا تھا اور بعض دوسرے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ چودھری رحمت علی نے وضع کیا تھا۔ بہر حال ہندوستان کے تصور سے ہی نفرت کرتے تھے اور میونسپل پارکوں میں علی الصبح ان کی فوجی قواعد اور اسلحہ اندوزی کی مہمیں تیز تر ہوتی جارہی تھیں۔(جاری ہے )

گوادر کو پاکستان کا حصہ بنانے والے سابق وزیراعظم ملک فیروز خان نون کی آپ بیتی۔ ۔۔قسط نمبر 65 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید :

فادرآف گوادر -