کیا تبدیلی آ گئی ہے؟

کیا تبدیلی آ گئی ہے؟

  



ان دنوں کچھ واقعات کی وجہ سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے۔ عوام کے شعور میں اضافہ ہوا ہے اور وہ مزید ظلم اور ناانصافی برداشت نہیں کریں گے۔ اس تبدیلی کو بہت بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے اور اسے ایسی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے اور اہل وطن کی تقدیر بدل جائے گی۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہم دنیا کی خوش قسمت ترین قوم ہیں، جو اتنے مختصر عرصے میں تبدیل ہو گئی ہے اور آناً فاناً زمین سے بلند ہو کر آسمان کی رِفعتوں کو چھونے لگی ہے۔ اقوام کو یہ مقام حاصل کرنے میں صدیاں لگی ہیں اور ہم ایک ماہ کے قلیل عرصے میں ہی عظیم الشان کامیابیاں حاصل کر چکے ہیں۔

میڈیا میں بطور خاص دو تین واقعات کا بہت چرچا ہے، جن کی بنیاد پر تجزیہ نگار کہہ رہے ہیں کہ وطن عزیز میں تبدیلی آ چکی ہے۔ ان واقعات میں عوام نے وی آئی پی کلچر کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے، جس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ عوام اب اس فرسودہ نظام کو ختم کر کے دم لیں گے، جس میں وی آئی پی کلچر ہے۔ ظلم زیادتی اور ناانصافی ہے اور جس میں عوام کے بنیادی حقوق سلب کئے گئے ہیں۔ اس طرح کی سوچ اور تجزیئے خوش آئند بھی ہیں اور دل کو بھی بہت لبھاتے ہیں، لیکن اگر حقائق کا مطالعہ کیا جائے اور تاریخی عوامل پر نظر ڈالی جائے تو تصویر کا دوسرا پہلو سامنے آنے لگتا ہے۔

اگر ہمارے قومی مزاج کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عوام کی اکثریت پہلے سے ہی وی آئی پی کلچر، ناانصافی، ظلم زیادتی اور عوام کے حقوق سلب کرنے کے اقدامات کی مخالف رہی ہے اور اس کے خلاف آواز بھی بلند کی جاتی رہی ہے۔ عرصہ دراز سے ہمارے عوامی مباحث اور میڈیا کے ٹاک شوز کا موضوع ہی یہ رہا ہے کہ قانون سب کے لئے برابر نہیں ہے۔ امیر کے لئے قانون اور ہے جبکہ غریب پر دوسرا قانون لاگو ہوتا ہے۔ وی آئی پی کلچر ہماری اشرافیہ کے ذہنوں میں رچ بس گیا ہے اور طاقتور طبقات نے ظلم، زیادتی اور ناانصافی کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔ ان ناانصافیوں کا شکار وہ طبقہ ہے، جو معاشی طور پر کمزور ہے اور جسے دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں۔ آپ کسی اخبار کے کالم پڑھ لیں۔ میڈیا کے ٹاک شو کا مطالعہ کریں، اخبارات کے اداریوں پر نظر ڈالیں، این جی اوز اور سماجی تنظیموں کا نقطہ نظر سنیں، سیاسی جماعتوں کے منشور کا مطالعہ کریں یا سیاسی لیڈروں کی تقاریر سنیں آپ کو ان میں یہ تمام باتیں ملیں گی۔

 1970ءمیں ذوالفقار علی بھٹو نے معاشرے کے ان تضادات اور معاشی ناہمواریوں کو ایک نعرے کی شکل دی اور اس طرح عوام میں مقبولیت حاصل کر کے اقتدار حاصل کیا۔ پاکستان کو چھوڑیں ہمارے اردگرد کے ممالک مثلاً بھارت وغیرہ میں بھی سیاست دان اسی طرح کی باتیں کر رہے ہیں اور معاشی ناہمواریوں اور معاشرتی تضادات کو سامنے لا کر عوامی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے غریب عوام کو اُن کے حقوق کے بارے میں آگاہ کیا اور سرمایہ داروں کے خلاف اُن میں شعور اجاگر کیا، لیکن دیکھنے کی بات ہے کہ اس سارے عمل کا نتیجہ کیا نکلا اور بھٹو کے بعد عوام نے اس شعور سے کیا فائدہ اٹھایا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ70ءکی دہائی میں پیپلزپارٹی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سرمایہ داری نظام کے خلاف کی جانے والی جدوجہد سرے سے ہی دم توڑ گئی۔ سوشلزم وغیرہ کی باتیں مذاق بن کر رہ گئیں اور عوام معاشی ناہمواریوں اور سوشلزم وغیرہ کی باتوں سے ایک طرح سے لاتعلق ہو گئے اور شائد اب تک ہیں۔

دراصل تبدیلی کے عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچنے کے لئے ایک لمبا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ بسا اوقات ایسے حالات بن جاتے ہیں، جن کی وجہ سے یہ تیز ہو جاتا ہے، لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ عمل جمود کا شکار ہو جاتا ہے اور کبھی کبھار یہ عمل مخالف سمت میں چلنے لگتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں اکثر ایسا ہوتا رہتا ہے۔ اس طرح کچھ واقعات کی بناءپر ہم نہیں کہہ سکتے کہ واقعی تبدیلی آ گئی ہے۔ ہمارے معاشرتی مزاج اور رویوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم وی آئی پی کلچر، ظلم، زیادتی، ناانصافی اور اِسی طرح کی دیگر برائیوں کے خلاف تقاریر تو بہت کرتے ہیں اور بحث مباحثوں میں بھی سو فیصد مارکس حاصل کر لیتے ہیں، لیکن جب ان کا اطلاق اپنی شخصیت پر کرنے کی باری آتی ہے، تو ہم اس امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔ ہماری مڈل کلاس میرٹ کے حق میں دلائل خوب دے گی۔ وی آئی پی کلچر کو بُرا بھلا بھی کہے گی، لیکن اپنے بچوں اور قریبی عزیزوں کو میرٹ کی خلاف ورزی کر کے آگے لانے کی بھی بھرپور کوشش کرے گی، بدقسمتی سے وی آئی پی کلچر کے خلاف تقریریں کرنے والوں کو جب بھی کبھی موقع ملتا ہے، تو وہ وی آئی پی سے بھی سو گنا آگے چلے جاتے ہیں اور ایسا روزمرہ کے مشاہدات میں اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔

سیاست دان کرپٹ بھی ہیں اور میرٹ کی خلاف ورزی بھی کرتے ہیں۔ یہ ظلم، ناانصافی وغیرہ کا ساتھ بھی دیتے ہیں، لیکن ان سے غلط کام کروانے کے لئے عوام ہی کوششیں کرتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ووٹوں کی تعداد سے بلیک میل کون کرتا ہے؟ اور کون کہتا ہے کہ اگر یہ کام نہ کیا تو اتنے ووٹوں سے آپ محروم ہو جائیں گے۔ دیہات کے غریب نوجوان کبھی کبھار سی ایس پی افسر بن جاتے ہیں، جب ایسا ہو جائے تو ان کے ٹھاٹھ باٹھ دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وی آئی پی کلچر کو کوسنے والے یہ نوجوان جلد ہی وی وی آئی پی بن جاتے ہیں۔ دعا ہے کہ جو تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ پاکستان میں تبدیلی آ گئی ہے، اُن کے تجزیئے درست ثابت ہوں، لیکن ہم دوسروں کو جن باتوں پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، خود وہی کام کرتے رہتے ہیں اور اس کو بُرا نہیں سمجھتے۔ ہو سکتا ہے کبھی ایک ایسا وقت بھی آئے جب ہم باتیں کم اور عمل زیادہ کریں۔ بالعموم ہمارے پیمانے دو ہیں۔ ایک دوسروں کے لئے اور ایک اپنے لئے، کئی کرپٹ افراد ایسے ہیں، جو خود تو بے انتہا کرپشن کرتے ہیں، لیکن اگر چھوٹا موٹا اہلکار اُن کے ہتھے چڑھ جائے، تو وہ ایمانداری کے تمام کلیے اس پر لاگو کر کے بعد میں سودے بازی کر لیتے ہیں اور اس طرح کرپشن کا ایک اور راستہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کے معاشرے میں اگر واقعی تبدیلی آ گئی ہے، تو ہمیں خدا کا شکر کرنا چاہئے اور تبدیلی لانے والوں کے لئے کلمہ خیر ادا کرنا چاہئے۔

مزید : کالم