اشرف غنی، کرزئی کے نقش قدم پر

اشرف غنی، کرزئی کے نقش قدم پر
اشرف غنی، کرزئی کے نقش قدم پر

  



موجودہ افغان صدر اشرف غنی نے اقتدار میں آتے ہی کچھ ایسے فیصلے شروع کئے جن سے یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید افغانستان کے حالات اب سدھر جائیں گے ۔ ابتدا میں انہوں نے حقیقت پسندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے پڑوسیوں کو ترجیح دی خاص طور پر پاکستان کے بارے میں وہ مثبت خیالات کا اظہار کرتے تھے، بدلے میں پاکستان نے بھی افغانستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور افغانستان کے دشمنوں کو اپنا دشمن قرار دیا ۔ حکومتی اور فوجی وفود نے ایک دوسرے ممالک کے دورے کئے اور ایک دوسرے کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھنے کے عہد و پیمان کئے گئے ۔ پاکستان کی کوششوں سے افغان حکومت اور طالبان مذاکراتی میز پر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ گئے اور جب مذاکرات کا دوسرا اور اہم راؤنڈ شروع ہونے والا تھا افغان حکومت نے ملا عمر مجاہد کے جان بحق ہونے کا انکشاف کیا۔ گو کہ افغان حکومت کو پہلے سے معلوم تھا لیکن انہوں نے یہ اعلان ایک خاص موقع پر کیا اور ساتھ ساتھ یہ زہر افشانی بھی کی کہ ملا عمر کراچی کے ایک ہسپتال میں فوت ہوئے تھے ۔ اس انکشاف کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ملتوی ہوا جو تا حال التوا کا شکار ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دو متحارب گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھنے پر تیار ہوئے تھے اور جس سے کئی دہائیوں سے جنگ زدہ افغانستان میں امن کی امید پیدا ہوئی تھی،معلوم نہیں انہوں نے اس انکشاف سے کیا فوائد سمیٹنے تھے اور اس کے لئے اس اہم وقت کا انتخاب کیوں کیا، بہر حال اس سے کسی گہری سازش کی بو آتی ہے ۔

بد قسمتی سے اشرف غنی کو ایک ایسی حکومت حوالے کی گئی ہے جس کے وہ برائے نام سربراہ ہیں اصل قوت اب بھی شمالی اتحاد کے ہاتھ میں ہے ۔ سابق صدر حامد کرزئی نے بھارت کی خوشنودی کے لئے افغانستان کے تمام اداروں کو بھارت کے ایجنٹوں کے قبضے میں دے دیا تھا جن کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ جس طرح بھی ہو افغان عوام کو پاکستان سے بد ظن کیا جائے ۔ حامد کرزئی نے اپنے دور حکومت میں پاکستان مخالف لوگوں کو حکومت کے اہم عہدوں پر فائز کیا تھا جو اب بھی موجود ہیں اور اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں ۔ افغانستان میں امن قائم ہونے سے ان کو اپنا مستقبل تاریک نظر آ رہا ہے اس لئے یہ عناصر اس کوشش میں ہیں کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہو سکے ۔ بھارت کبھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے کیونکہ یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب طالبان اور امریکہ ایک فارمولے پر متفق ہو جائیں اور ظاہر بات ہے جب طالبان حکومت میں شامل ہونگے تو بھارت کا کردار ختم ہو جائے گا اور بھارت یوں افغانوں کے مفادات پر اپنے مفادات کو قربان نہیں کر سکتا ۔ بھارت نے افغانستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اس امید پر کی تھی کہ افغانستان میں بھارت کو اہم کردار ملے گا لیکن اگر طالبان کی امریکہ یا افغان حکومت کے ساتھ صلح ہو گئی تو بھارت کو افغانستان سے جانا ہوگا جس سے ان کی سرمایہ کاری ضائع ہو جائے گی ۔

بھارت جو گھناؤنا کردار مغربی بارڈر سے ادا کر رہا ہے وہ مشرقی بارڈر سے ادا نہیں کر سکتا ۔ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور انتشار پھیلانے کے لئے بھارت نے افغانستان میں پاکستانی سرحد کے ساتھ کئی قونصل خانے قائم کئے ہیں جو اصل میں دہشتگردی کے کیمپ ہیں ،جن کے لئے پاکستان میں تخریب کاری ہو رہی ہیں ۔ را نے افغانستان کو پاکستان کے خلاف اپنا بیس کیمپ بنا دیا ہے اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشتگردی کی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ افغانستان میں را کی موجودگی اور گھناونے کردار سے نہ صرف افغان حکومت باخبر ہے بلکہ افغانستان پر قابض امریکہ اور نیٹو افواج کو بھی نہ صرف اس کا علم ہے بلکہ وہ خود بھی را کے ساتھ اس گھناونے کردار میں برابر کے حصہ دار ہیں ۔ اکثر اوقات اسی را سی آئی اے اور موساد کے تربیت یافتہ ایجنٹ افغانستان میں بھی دہشتگردی کی کارروائیاں کرتے ہیں اور افغان اداروں میں موجود ان ایجنسیوں کے ایجنٹ اس کا الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں مقصد یہ ہوتا ہے کہ پاک افغان تعلقات کو مزید خراب کیا جائے جس میں وہ اکثر اوقات کامیاب رہتے ہیں ۔

اپریشن ضرب عضب کی کامیابی اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے نے پاکستان دشمن قوتوں کو شدید اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے اور ان دونوں کو ناکام بنانے کے لئے دشمن ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ۔ یہ اپریشن ضرب عضب ہم چند سو یا چند ہزار دہشتگردوں کے خلاف نہیں کر رہے ہیں بلکہ یہ دراصل پاکستان دشمن قوتوں کے خلاف ہے ۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان میں ہونے والی تمام تر دہشتگردی کے پیچھے پاکستان دشمن قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور ان کے خلاف ہماری فوج لڑ رہی ہے ۔ اس لئے کچھ دشمن قوتیں اس اپریشن کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اپریشن کی کامیابی دراصل ان قوتوں کی ناکامی ہوگی۔ افغانستان ان قوتوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے ، پاکستان میں ہونے والی ساری دہشتگردی افغانستان کے راستے سے ہو رہی ہے افغان حکمرانوں نے ان پر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ۔ افغان حکمرانوں نے بھارت والا وطیرہ بنا لیا ہے بھارتی وزیر اعظم اور اعلیٰ عہدیدار ایک طرف خود پوری دنیا کے سامنے پاکستان میں دہشتگردی کرنے کا اعتراف کر رہے ہیں اور دوسری طرف خود اپنی کی ہوئی دہشتگردی پر مگرمچھ کے آنسو بہا کر اس کا الزام پاکستان پر لگا کر اپنے آپ کو بطور مظلوم پیش کر رہے ہیں اسی طرح افغان حکومت نے ایک طرف اپنے ملک کو پاکستان کے خلاف بھارت کا جنگی اڈا بنا دیا ہے تو دوسری طرف بھارت کی طرح مگر مچھ کے آنسو بہا کر الٹا الزام پاکستان پر لگا رہا ہے جس کو کہتے ہیں چوری اور سینہ زوری ۔ اگر ہم غور کریں تو یہ اصل میں ہمارے اپنے حکمرانوں کی کمزوری ہے کہ دنیا کے سامنے بھارت اور افغانستان کا اصل چہرہ آشکار نہ کر سکے ۔

ہمارے حکمران اکثر یہ دعوے کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے لیکن وہ ابھی تک کسی بھی فورم پر اس بیرونی ہاتھ کے خلاف وہ کارروائی نہ کر سکے جو کرنا چاہیئے تھا پتا نہیں یہ بیرونی ہاتھ زیادہ طاقتور ہے یا ہمارے حکمران زیادہ کمزور ہیں لیکن ابھی تک اقوام متحدہ یا کسی دوسرے فورم پر ہمارے حکمران اس کے خلاف مناسب آواز بلند نہ کر سکے جس سے ہمارے دشمن اور بھی زیادہ شیر ہو گئے ہیں اور اب تو بھارت کی طرح افغانستان پٹاخے پھٹنے کا الزام بھی پاکستان پر لگا دیتا ہے۔ اشرف غنی حامد کرزئی بننے کی بجائے زمینی حقائق کا ادراک کر لیں وہ بھارتی مفاد کی خاطر پاکستان سے بلا وجہ دشمنی مول لینے کی کوشش نہ کریں ۔ پاکستان نہ صرف افغانستان کا پڑوسی ہے جو ہمیشہ پڑوسی رہے گا۔ پاکستان سے بنائے بغیر افغانستان میں نہ تو امن کا تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ ترقی کا ۔ اشرف غنی بھارتی مفادات کے لئے افغانستان کے مفادات کو داؤ پر مت لگائیں۔ اشرف غنی اگر واقعی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو جائے اور ان کا ملک ترقی کرے تو افغانستان میں موجود بھارتی قونصل خانے جو دراصل را کے دہشتگردی کے تربیتی مراکز ہیں کو بند کرنا ہوگا ۔بھارت نے ہمیشہ ایک دوسرے سے بدظن کر کے اپنا مفاد حاصل کیا ہے۔ افغانستان میں موجود بھارتی گماشتے افغان عوام کے دوست نہیں ہو سکتے اشرف غنی بھارتی گماشتوں کی شہہ پر پاکستان پر بلا وجہ الزامات سے گریز کریں اور اپنے ملک میں موجود دہشتگردی کے اڈے ختم کرنے کی کوشش کریں جس سے نہ صرف افغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے بلکہ پاکستان میں بھی امن قائم ہوگا جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے ۔ پاکستان کے ساتھ بگاڑ کر اگر افغانستان میں امن ممکن ہوتا تو حامد کرزئی کب کا قائم کر چکا ہوتا لہٰذا اشرف غنی کرزئی کے نقش قدم پر چلنے کی بجائے خود اپنا راستہ متعین کریں افغانستان کے بے بس و بے نوا عوام پر رحم کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جن سے دونوں ممالک کے عوام میں دوری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ۔

مزید : کالم