لوگوں کو توبہت جلدی ہے

لوگوں کو توبہت جلدی ہے
لوگوں کو توبہت جلدی ہے

  

وفاق اور صوبوں میں حکومتوں کی تبدیلی کا ایک ماہ سے زائد ہی کچھ عرصہ گزرا ہے کہ سیاسی طور پر سرگرم عناصر موجود حکومتوں سے اپنی پسند کی تمام تبدیلیاں فی الفور چاہتے ہیں۔ ان سے زیادہ حکومت مخالف وہ عناصر ہیں جو حکومتوں پر تنقید کرتے نہیں تھکتے ۔ اس ملک میں ایک ایسا کھیل شروع کر دیا جاتا ہے کہ حکومت کرنے والے لوگ تنقید کا ملبہ ہی صاف کرتے رہ جاتے ہیں۔ حکومتوں کی ترجیحات تبدیل ہو جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر دیکھیں تو ایسی ایسی پوسٹ نظر آتی ہیں جو سوائے تنقید برائے تنقید کچھ اور نہیں ہوتا۔ حکومتوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے وقت پڑا ہے۔ سندھ میں ڈیم کی تعمیرات کے خلاف مہم جاری ہے۔

پہلے یہ مہم صرف کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف تھی لیکن اب اسے رخ دے دیا گیا ہے کہ دریائے سندھ پر کوئی ڈیم ہی تعمیر نہ کیا جائے۔ ملک میں پانی کے ذخائر ہی نہیں ہوں گے تو زراعت کا کیا مستقبل ہوگا؟ پینے کے لئے پانی کی قلت کو دور کیسے کیا جائے؟ سیاسی مہم جوئی ایک طرف لیکن سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ زرداری، بینظیر نہیں، اپنا اور بچوں کا حساب دیں۔ سپریم کورٹ نے سابق صدر آصف علی زرداری سے انکے اور بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات 15 روز میں طلب کر لی ہیں۔ دوران سماعت آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ خود مختار بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات نہ طلب کی جائیں، جس پر چیف جسٹس نے کہا اب تو تمام بچے بالغ اور خود مختار ہیں، شادی تک بچیاں والدین کے زیر کفالت رہتی ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے این آر او کیس میں 10 سالہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے سے متعلق 29 اگست کے فیصلے پر آصف زرداری کی نظرثانی کی درخواست پر سماعت کی۔ اس موقع پر عدالت نے سابق صدر آصف زرداری کو ہدایت کی کہ وہ ترکے میں ملنے والے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کریں۔ سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت سے استدعا کی کہ 5 سال تک کی تفصیلات لے لیں، 10 سال کی تفصیلات نہ مانگیں، قانون صرف 5 سال کیلئے ہے۔

عدالت نے فاروق ایچ نائیک کی 5 سالہ اثاثوں کی تفصیلات جمع کرانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ 10سال کی تفصیلات فراہم کریں۔ ایک اور خبر یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس جناب افتخار چوہدری کے داماد مر تضی کو ایف آئی اے نے دبئی سے حراست میں لیا ہے۔ ان پر رہائش کے لئے زمین فراہم کرنے کے نام پر سینکڑوں افراد سے پیسے وصول کرنے اور انہیں زمین فرا ہم کرنے میں ناکامی کا الزام ہے۔ یہ اس ملک میں عام سا دھندہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دو، پیسے وصول کرو اور چلتے بنو۔ حکومتی ادارے لوگوں کو کوئی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر کچھ اس طرح کی چیزیں بھی چل رہی ہیں۔عزیر بلوچ رزلٹ صفر، عابد باکسر رزلٹ صفر، ڈاکٹر عاصم رزلٹ صفر، شرجیل میمن رزلٹ صفر، کرنل جوزف رزلٹ صفر، ریمنڈ ڈیوس رزلٹ صفر، مجید اچکزئی رکن بلوچستان اسمبلی پولیس اہلکار کا قتل رزلٹ صفر، انسپکٹر اعجاز قتل رزلٹ صفر، ماڈل ایان علی رزلٹ صفر، 12 مئی کراچی میں قتل عام رزلٹ صفر، احد چیمہ ریمانڈ پر ریمانڈ رزلٹ صفر،فواد حسن فواد صرف ریمانڈ رزلٹ صفر، اسحاق ڈار رزلٹ صفر ، راجہ رینٹل کیس رزلٹ صفر، نیو بینظیر ائیر پورٹ کرپشن کیس رزلٹ صفر ، مشتاق رئیسانی حرام کمائی گھر سے برآمد رزلٹ صفر، ایم کیو ایم غداری کیس ثبوت موجود رزلٹ صفر، ایم کیو ایم دہشتگردی را فنڈنگ ثبوت موجود رزلٹ صفر، اصغر خان کیس رزلٹ صفر، شہد کی بوتل رزلٹ صفر، بلدیہ ٹاون فیکٹری میں لوگوں کو زندہ جلانے کا کیس رزلٹ صفر، ماڈل ٹاون رزلٹ صفر، شاہ رخ جتوئی کیس رزلٹ صفر، راؤ انوار ناحق قتلِ عام ثبوت موجود رزلٹ صفر ،

56 کمپنی سکینڈل رزلٹ صفر ، صاف پانی کرپشن کیس رزلٹ صفر، سستی روٹی تندور کرپشن رزلٹ صفر، کلبھوشن یادیو دشمن جاسوس رزلٹ صفر، ٹڈاپ کرپشن کیس رزلٹ صفر ، بابر غوری ایم کیو ایم کیس رزلٹ صفر، گستاخ بلاگرز کیس آزاد رزلٹ صفر، آسیہ ملعونہ گستاخی کیس رزلٹ صفر، ارسلان افتخار کیس رزلٹ صفر، حافظ عبد الکریم کرپشن کیس رزلٹ صفر، حسین حقانی کیس رزلٹ صفر، پرویز رشید غداری کیس رزلٹ صفر، اور نجانے ان جیسے ہزاروں کیس امیروں، وڈیروں، جاگیرداروں اور بزنس مینوں کے رزلٹ صفر۔ اور بھی دیگر معاملات میں نتیجہ اس لئے صفر محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا عدالتی نظام اور تحقیقاتی اداروں کی تفتیش کی رفتار اتنی سست روی سے کام کرتی ہے کہ سارے معاملات لٹکے رہ جاتے ہیں۔ لیکن مختلف معامات میں خصوصی دلچسپی رکھنے والے لوگوں کو بھی انتظار کرنا چاہئے۔

B

مزید : رائے /کالم