’میری 5 سالہ کزن مسلسل کہتی تھی کہ اسے گھر میں لال ساڑھی پہنے خاتون پھرتی نظر آتی ہے، بالآخر اپنی دادی سے پوچھا تو کہنے لگیں کہ دراصل ان کی ساس موت کے بعد۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات بتادی کہ سن کر ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں

’میری 5 سالہ کزن مسلسل کہتی تھی کہ اسے گھر میں لال ساڑھی پہنے خاتون پھرتی نظر ...
’میری 5 سالہ کزن مسلسل کہتی تھی کہ اسے گھر میں لال ساڑھی پہنے خاتون پھرتی نظر آتی ہے، بالآخر اپنی دادی سے پوچھا تو کہنے لگیں کہ دراصل ان کی ساس موت کے بعد۔۔۔‘ خاتون نے ایسی بات بتادی کہ سن کر ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نئی دلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھوت پریت کے وجود پر کوئی یقین رکھتا ہے اور کوئی اس طرح کی باتوں کو ماننے پر تیار دکھائی نہیں دیتا، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ بے شمار ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو غیر مرئی مخلوقات کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا دعوٰی کرتے ہیں۔ شاید آپ کو بھی کبھی کسی شخص سے ایسی بات سننے کا اتفاق ہوا ہو، اور اگر نہیں ہوا تو یہ حیران کن واقعات پڑھ لیجئے، جو ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ میں ایسے لوگوں کے حوالے سے بیان کئے گئے ہیں جن کا دعوٰی ہے کہ انہیں واقعی بھوت پریت سے واسطہ پڑ چکا ہے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ”میری 5 سالہ کزن مسلسل کہتی رہتی تھی کہ اسے گھر میں لال ساڑھی والی ایک خاتون چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہے۔ میرے لئے یہ بات بہت حیران کن تھی۔ ایک عرصے تک میں اس بات کو نظر انداز کرتی رہی لیکن پھر ایک دن میں نے اپنی دادی سے اس بارے میں بات کی۔ وہ کہنے لگیں کہ لال ساڑھی والی یہ خاتون اُن کی ساس ہیں جو موت کے بعد اکثر اُن کے گھر میں چلتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ دادی کا کہنا تھا کہ آنجہانی ساس انہیں بھی کئی بار دکھائی دی ہیں۔ میر امنہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ گیا۔ دادی کا کہنا تھا کہ میں اس بات کو چھوڑ دوں اور خاموش ہو جاﺅں۔ میں نے ایسا ہی کیا اور پھر کبھی اس بارے میں بات نہیں کی۔ “

ایک صاحب نے اپنے ساتھ پیش آنے والا خوفناک واقعہ سناتے ہوئے کہا کہ ”میرا گھر ایک بڑے پارک کے قریب ہے، جس کے ساتھ گزرتی ہوئی سڑک بس سٹاپ تک جاتی ہے۔ ایک روز میں شام ڈھلنے کے بعد اس سڑک پر چلتا ہوا بس سٹاپ کی طرف جارہا تھا۔ اس وقت یہ جگہ بالکل خالی تھی اور دور دور تک کوئی نظر نہیں آرہا تھا۔ اچانک مجھے اپنے ساتھ کسی چلنے والے کے قدموں کی آواز سنائی دی۔ میں نے ادھر اُدھر دیکھا مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ چند لمحے بعد مجھے زور کا دھکا لگا اور میں بڑی مشکل سے گرتے گرتے بچا۔ میں نے پھر ایک بار ادھر اُدھر دیکھا اور وہاں مجھے کوئی نظر نہیں آیا۔ میں اس قدر خوفزدہ ہوگیا کہ وہاں سے دوڑ لگادی اور جب تک بس سٹاپ تک نہیں پہنچ گیا پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔“

ایک لڑکی نے بتایا کہ ”یہ 2011ءکی بات ہے کہ جب میں اپنی فیملی کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کی سیر کو گئی ۔ ہم وہاں ایک ایسے قلعہ میں گئے جو تقریباً 1000 سال پرانا ہے اور وہاں تصاویر بنارہے تھے۔ ہم نے قلعہ کے اندرونی حصوں میں تصاویر بنائیں لیکن یہ تصاویر دیکھ کر ہم حیران تھے کہ ان میں سے ہر ایک میں جامنی رنگ کا ایک ہیولا نظر آرہا تھا۔ یہ کسی جگہ ہماری طرف آتا اور کسی جگہ ہمارے قریب کھڑا نظر آتا تھا۔“

ایک لڑکے کا کہنا تھا کہ ”میں نے اپنے فون پر ایک نائٹ ویژن ایپ انسٹال کی تھی۔ اسے چیک کرنے کے لئے میں اپنے گھر کے تہہ خانے میں گیا اور اندھیرا کرکے ایپ کو استعمال کررہا تھا کہ کمرے کے کونے میں مجھے ایک انسان نما سایہ نظر آیا جو میری طرف گھور کردیکھ رہا تھا۔ میں فوراً پچھلے پاﺅں بھاگا اور اپنے والدین کے کمرے میں جاکر دم لیا۔ اس کے بعد میں نے ایپ کو ان انسٹال کردیا اور مجھے گھر کے تہہ خانے میں جانے سے بھی ڈر لگنے لگا۔“

اسی طرح کا واقعہ ایک اور نوجوان نے بیان کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ ”ایک روز میں گھر میں اکیلا تھا اور ٹی وی دیکھ رہا تھا۔ اچانک ٹی وی کی آواز بلند ہونا شروع ہوگئی۔ میں نے اسے 12 پر سیٹ کیا تھا لیکن یہ بڑھتے ہوئے 18 پر پھر 20 پر چلی گئی اور پھر اس سے بھی زیادہ ہونے لگی۔ میں سمجھا شاید میں ریموٹ کے اوپر بیٹھ گیا ہوں، میں نے ادھر ادھر ہٹ کر دیکھا لیکن ریموٹ وہاں نہیں تھا۔ پھر میں اسے ہر طرف ڈھونڈنے لگا لیکن یہ مجھے نہیں ملا۔ اچانک بائیں جانب میری نظر پڑی تو ریموٹ زمین سے پانچ چھ فٹ کی بلندی پر ہوا میں لہرارہا تھا اور پھر اچانک یہ صوفے پر گرگیا۔ میں نے کمرے سے باہر دوڑ لگا دی اور جب باہر پہنچا تو میرا سارا جسم پسینے میں شرابور تھا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی /مافوق الفطرت