بی ٹی کاٹن کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات: ثبوت حاضر ہیں

بی ٹی کاٹن کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات: ثبوت حاضر ہیں
بی ٹی کاٹن کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات: ثبوت حاضر ہیں

  

ایک ایسے وقت میں جب وفاقی حکومت ،قومی سطح پر بائیو ٹیکنالوجی سمیت سائنسی بنیاد پر زرعی طور طریقے اپنانے اور ملک میں بیج کی صنعت کو ترقی دینے کے لیے جس کی شدید ضرورت ہے، پُر عزم نظر آ تی ہے ، اس جمود کی صورت حال سے فائدہ اٹھانے والے یعنی نقلی بیج کا کاروبار کرنے والی دولت مند اور طاقت ور مافیا ملک کی کم زور زراعت تبدیل کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کو تباہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی۔ان کی مخالفتGM فصلوں کے محفوظ ہونے کے بارے میں سوال اٹھانے سے شروع اور کثیر القومی کمپنیوں کو ، جو دنیا کی بڑی بڑی زرعی کمپنیاں ہیں،تنقید کا ہدف بنانے پر ختم ہوتی ہے۔ ان بائیو ٹیک مخالف مہم چلانے والے لوگوں کی جی ایم فصلوں اور کثیر القومی کمپنیوں کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا کی بنیاد، سنی سنائی باتوں ،غیر سائنسی دلائل اور مفروضوں پر ہے۔آئیے ہم سائنسی اور انتہائی اہم زمینی حقائق کے مقابلے میں ان کے بعض مفروضوں کا جائزہ لیتے ہیں۔

مفروضہ : GM فصلیں قدرتی نہیں ہیں

حقیقت: جینیاتی طور پر بہتر بنائی گئی فصلیں،روائتی فصلوں سے مختلف نہیں ہیں۔سائنسی سچائی یہ ہے کہ بائیو ٹیکنالوجی ان بریڈنگ ٹیکنیکس کی محض ایک بہتر شکل ہے ،جو پودوں کو بہتر بنانے کے لیے ہزاروں سال سے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔یہ روائتی زرعی طور طریقوں کا محض ارتقاء ہے ؛اسے روائتی بریڈنگ کی توسیع کہا جا سکتا ہے۔یہ ٹیکنالوجی صرف ایک precise سائنس ہے،اس لیے سائنس دان کسی فصل میں ہو بہو ویسی ہی تبدیلی لانے کے لیے ایک مخصوص gene کو الگ کرنے کے قابل ہیں۔

جینیاتی طور پر بہتر بنائی گئی زیادہ تر موجود ہ فصلیں ، پودوں کی بیماریوں ،کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کے ذریعے یا نقصان دہ جڑی بوٹیوں کے خلاف برداشت بڑھا کرتیار کی گئی ہیں تاکہ پیداواریت میں اضافہ ہو ۔مستقبل میں جینیاتی تبدیلی کا مقصد خوراک کے غذائی عنصر کی بہتری ،allergenic potential کو کم کرنا یا خوراک کے پیداواری نظاموں کی صلاحیت کو بہتر بنانا ہو سکتا ہے۔سائنس اس بات پر متفق ہے کہ جی ایم فصلیں روائتی فصلوں ہی کی طرح قدرتی ہیں۔

مفروضہ: GM فصلیں محفوظ نہیں ہیں

حقیقت: پوری دنیا کے سائنس دان اس بات پر متفق ہیں کہ بائیو ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے فصلوں کے جو پودے تیار کیے گئے ہیں،ان کے ساتھ بھی ویسے ہی خطرات ہیں جو روائتی بریڈنگ کے طریقوں سے تیار کی گئی اس قسم کی فصلوں کے ساتھ ہیں ۔خوراک کی سیفٹی کے سخت ترین تقاضوں اور معیارات کو پورا کرنے کی وجہ سے بائیو ٹیک فوڈز ، کڑی جانچ پڑتال کے ذریعے تیار کئے گئے فوڈز میں شامل ہیں۔لاکھوں ایکڑ پر پید کیے جانے والے فوڈ کے 18 سال سے زیادہ عرصہ سے کمرشل استعمال سے کوئی ایسا ثبوت نہیں جو ثابت کر سکے کہ بائیو ٹیک فصلوں سے تیار کردہ فوڈ کے کسی قسم کے منفی اثرات ہیں۔

برسوں سے چلی آنے والی انٹر نیشنل assessment گائیڈ لائنز اور سسٹمیٹک ٹیسٹنگ کے مطابق پوری دنیا میں ریگولیٹری ایجنسیاں ان فصلوں سے حاصل ہونے والی خوراک کی جانچ پڑتال کرتی ہیں۔اس کے برعکس جب بریڈنگ کے روائتی طریقوں سے دوسری خوراک(فصل کی اقسام مویشیوں کی بریڈز یا(micro-organisms تیار کیے جاتے ہیں تو عام طور سے کسی بھی قومی ادارے یا

بین الاقوامی معیارات کے ذریعے کسی مخصوص خطرے یا سیفٹی کے حوالے سے ان کی کوئی جانچ پرتال نہیں کی جاتی۔GMO کے استعمال سے کسی بھی قسم کے " شدید یا دائمی" اثرات کا کوئی ایک بھی ثابت شدہ کیس سامنے نہیں آیا۔

UN, WHO, FAQ, EFSA رائل اکیڈمی آف سائنسز، نیشنل اکیڈمی آف سائنسز،فرنچ اکیڈمی آف میڈیسن، برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن او ر(بابائے سبز انقلاب (Norman Borlaug سمیت25 نوبل انعام یافتہ شخصیات اس نتیجہ پر پہنچی ہیں کہBT فصلیں روائتی فصلوں ہی کی طرح محفوظ ہیں۔کیا مخالفت کرنے والوں کو جی ایم فصلوں کی سیفٹی کا اب بھی کوئی اور ثبوت چاہیئے؟جب بھی کوئی نئی دوا آتی ہے تو صحت کے حکام اس کی منظوری دیتے وقت عام طور سے سوال کرتے ہیں کہ جس ملک میں یہ دوا تیار کی گئی ہے اس ملک نے بھی اس کی منظوری دی ہے یا نہیں اور یہ ثبوت ترقی یافتہ دنیا کی طرف سے ہوتا ہے کہ یہ استعمال کے لیے محفوظ ہے۔جی ایم فصلوں کے معاملے میں بھی یہ سچ ہے جو انسانی استعمال کے لیے پوری طرح سے محفوظ ہیں۔

مفروضہ: GM فصلیں بڑی کثیر القومی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم کر دیں گی

حقیقت: پاکستان میں فصلوں کی بائیو ٹیکنالوجی کے مخالفین عام طور سے یہ پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ جی ایم فصلیں متعارف ہونے سے بڑی کثیر القومی کمپنیوں کی جارہ داری قائم ہو جائے گی۔اگر چہ کاشت کاروں نے BT کاٹن سب سے پہلے غیر سرکاری ذرائع سے کاشت کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے لیے مفید ہے اور ھکومت اس نئی ٹیکنالوجی کی منظوری دینے میں بہت زیادہ سست تھے۔مگر آج ملک میں بی ٹی کاٹن کی منظور شدہ اور غیر منظور شدہ لاتعداد اقسام ہیں اور نقلی بیج فروخت کرنے والی طاقت ور مافیا ملکی زراعت کو تباہ کر رہی ہے۔تو پھر ان سائنس دشمن لابیوں کی طرف سے پیدا کردہ اجارہ داری کا خوف کہاں ہے؟۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ مونسینٹو سمیت کسی بھی زرعی ملٹی نیشنل نے پاکستان میں ابھی تک جینیاتی طور پر بہتر بنایا گیا کوئی بیج متعارف نہیں کرایا ،اس کی جزوی وجہ18 ویں ترمیم کے بعد ریگولیٹری رکاوٹیں ہیں اور بڑی وجہ زراعت خاص طو پر بیج کی پیداوار میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے کسی قانون کا نہ ہونا ہے۔اور کیا آج کے دور میں کسانوں کو بیوقوف بنانا واقعی ممکن ہے؟جو ٹیکنالوجی کسانوں کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اسے پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی ملک میں کبھی بھی کامیابی کے ساتھ فروخت نہیں کیا جا سکتا۔کاشت کار ہمیشہ وہی بیج خریدتے ہیں جو ان کی مقامی زرعی معیشت اور موحولیاتی حالات کے مطابق ہوں اور جن کی بنیاد تجربے پر ہو۔انھیں غلط معلومات رکھنے والے ترقی دشمنوں کی رہنمائی کی ضرورت نہیں ہے۔وہ ایسا بیج خریدنا چاہتے ہیں جس سے انھیں پیداواریت

اور فصلوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے بھرپورفائدہ ہو۔انھیں بڑی کثیر القومی کمپنیوں کے بیج خریدنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ کاشت کاروں کا حق ہے کہ وہ تحقیق کے دستیاب طریقوں میں سے کسی طریقے کو پسند کریں۔

مفروضہ: بائیو ٹیک فصلیں، روائتی فصلوں کے ساتھ نہیں رہ سکتیں

حقیقت: اس بات میں سچائی نہیں ہے کہ بائیو ٹیک فصلیں روائتی فصلوں کے ساتھ نہیں رہ سکتیں۔زراعت میں مختلف فصلوں کا ایک ساتھ رہنا،پیداواری نظام، کیڑے مار دواؤں کی مینجمنٹ کا نظام اور سپلائی کا سلسلہ نیا نہیں ہے،اور نہ ہی یہ پلانٹ بائیو ٹیکنالوجی کے لیے کوئی انوکھی بات ہے۔ کئی سالوں سے مختلف زرعی پیداواری نظام ایک ہی جگہ ساتھ ساتھ رہے ہیں اور آرگینک،روائتی یا بائیو ٹیک کاشت کاروں پر ان کا کوئی بُرا ثر نہیں پڑا۔

یہ محض ایک مفروضہ ہے کہ بائیو ٹیک کاشت کار آرگینک کاشت کاروں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے علاقوں میں آرگینک پیداوار مسلسل جاری رہتی ہے جہاں بائیو ٹیک طریقوں پر بڑے پیمانے پر عمل کیا جاتا ہے۔زرعی بائیو ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی فائدے بھی ہیں کیونکہ بائیو ٹیک فصلوں کو کم دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے اور کم کیڑے مار دوائیں استعمال کرنی پڑتی ہیں۔اس طرح ایندھن کا کم استعمال ہوتا ہے اور فضا میں کم کاربن ڈائی اوکسائیڈ(CO2) خارج ہوتی ہے۔اس سے زمین کی صحت اور پانی کے ذخائر بھی ٹھیک رہتے ہیں۔

مفروضہ: Patented جی ایم بیج پاکستانی زراعت کے لیے بہتر نہیں ہیں

حقیقت: یہ ایک ایسا وقت ہے جبکاشت کاروں کو معیاری بیج کی دستیابی ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے۔پاکستان کو اپنی زراعت میں انقلاب لانے اور پیداوار بڑھانے کے لیے patented جی ایم بیجوں کی ضرورت ہے۔آج پاکستان کو ایک ایسی پروفیشنل سیڈ انڈسٹری کی شدید ضرورت ہے جہاں کسی سیڈ کمپنی ،R&D ،بیج کی کوالٹی کے معیار کا ایک طے شدہ طریقہ ء کار ہو۔کسی بھی صنعت میںIP حقوق تنوع اور ترقی کے لیے سنگ میل ہوتے ہیں۔

اگلے چالیس برسوں میں زرعی صنعت کو اپنی خوراک کی پیداوار کو وسعت دینے کی ضرورت ہو گی تاکہ دنیا کے 9 ارب انسانوں کی ضروریات پوری ہو سکیں۔اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ایسی نئی ٹیکنالوجیز کی ایک مسلسل پائپ لائن کی ضرورت ہے جن سے کاشت کاروں کو فصلیں اگانے میں مدد ملے۔مضبوط IP پروٹیکشن پلانٹ سائنس انڈسٹری کوR&D میں سرمایہ کاری کے قابل بنائے گی جو ان جدید طریقوں کے لیے ضروری ہے۔

مفروضہ: GM فصلیں ناکام ہو رہی ہیں؛ پوری دنیا میں فصلیں برباد ہوئی ہیں۔

حقیقت: دنیا میں زیادہ سے زیادہ کاشت کار بائیوٹیکنالوجی کی طرف آ رہے ہیں تاکہ وہ ایسی فصلیں اگا سکیں جو فی ایکڑ زیادہ پیداوار دیتی ہیں، ان کی پیداواری لاگت بھی کم ہوتی ہے اور وہ بیماریوں اور کیڑے مکوڑوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جی ایم فصلوں کی کاشت بڑھ رہی ہے۔پوری دنیا میں2013 میں بائیو ٹیک فصلوں کا رقبہ175 ملین ہیکٹرز ہو گیا جو1996 میں1.7 ملین ہیکٹرز تھا۔

ISAAA کی رپورٹ کے مطابق 90 فیصد سے زیادہ یا16.5 ملین کاشت کارجو بائیو ٹیک فصلیں اگا رہے ہیں چھوٹے اور کم وسائل رکھنے والے کاشت کار ہیں۔جن ملکوں میں بائیو ٹیک فصلیں کاشت ہو رہی ہیں ان میں سے آٹھ صنعتی اور19 ترقی پذیر ملک ہیں۔دوسر ے سال بھی ترقی پذیر ملکوں میں زیادہ رقبے پر بائیو ٹیک فصلیں کاشت کی گئیں،جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کے ایسے لاکھوں کاشت کار جو خطرات مول لینے سے بچنا چاہتے ہیں ان فصلوں پر اعتماد کرتے ہیں۔تقریباً سو فیصد کاشت کار جو بائیو ٹیک فصلیں اگانے کی کوشش کرتے ہیں ہرسال اسے جاری رکھتے ہیں۔

مفروضہ: جی ایم بیج مہنگے ہیں

حقیقت: یہ سچ ہے کہ جینیاتی طور پر بہتر بنائے گئے بیج روائتی بیج کے مقابلے میں قدرے مہنگے ہیں لیکن اگر ہم ان کے سماجی و معاشی فوائد کو دیکھیں تو ان سے کاشت کاروں کو جو کچھ حاصل ہوتا ہے اس کے پیش نظر یہ مہنگے معلوم نہیں ہوتے۔ترقی پذیر ملکوں میں لاکھوں خاص طو ر سے کم وسائل رکھنے والے کاشت کاروں کی طرف سے GMبیجوں کا بڑھتا ہوا استعمال اس بات کا ثبوت ہے کہ جی ایم بیج مہنگے نہیں ہیں کیونکہ یہ روائتی بیجوں کے مقابلے میں زیادہ پیداوار دیتے ہیں۔اس سے منافع بڑھتا ہے۔

مزید :

کالم -