حصّہ بقدرِ جُثّہ

حصّہ بقدرِ جُثّہ
 حصّہ بقدرِ جُثّہ

  

ٍٍٍٍٍٍ                                                            ریلوے کا بیڑہ غرق کرنے میں کس کس نے اپنا کتناکردار ادا کیا،یہ تو بہت طویل داستان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ریلوے انجنوں کی موٹریں کون اتار کر فروخت کر رہا ہے ان انجنوں میں ڈالا جانے والا موبل آئل کہاں فروخت ہوتا ہے اور اس کی جگہ تارکول (لک)کے ڈرم کیوں استعمال کئے جا رہے ہیں نئی بوگیوں کا سامان اتار کر پرائیویٹ ٹرین کے ڈبوں میں کیوں لگایا جا رہا ہے۔ انجن اور جنریٹر میں استعمال ہونے والا ڈیزل کس کے پیٹ میں جا رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ وزیر ریلوے کو ابھی تک یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ خیبرمیل ، تیز گام، جعفر ایکسپرس، عوام ایکسپرس اور قراقرم ایکسپریس میں عوام کی سہولت کے لئے بنائے گئے ریسٹورنٹس بھی اعلیٰ شخصیات کی جعلی فرضی ناموں سے بنائی کمپنیوں کے نام پر کیوں ٹھیکہ پر دے رکھے ہیں اور تو اور وزیر موصوف کو یہ بھی نہیں معلوم ہو سکا کہ لاہور، اوکاڑہ، ساہیوال، ملتان، راولپنڈی، جہلم، گجرات، وزیر آباد، بہاولپور اور دیگر ریلوے سٹیشنوں اور ٹرینوں میں ناقص اشیاءخورد ونوش انتہائی مہنگے داموں کیوں فروخت کی جاتی ہیں اور شکایت کی صورت میں مسافروں کی داد رسی کرنے کی بجائے گراں فروشوں اور جعل سازوںکا ساتھ دیا جاتا ہے ٹرین میں موجود ڈائنگ کار / ریسٹورنٹس میں کھانا۔ 160روپے ، ریگولر بوتل 25 روپے فی بوتل ،چائے 25روپے فی کپ ، بریانی فی پلیٹ160جبکہ بچوں کی اشیاءخوردنی مارکیٹ /رٹیل پرائس سے 50فیصد اضافی چارج کئے جاتے ہیںاور طور پر کوئی ریٹ لسٹ بھی آویزاں نہیں کی جاتی، ٹرینوں کے اوقات کے مطابق آمدورفت کو کنٹرول کرنے کے لئے ریلوے ا نجنوں کی باقاعدہ دیکھ بھال اور مرمت کی بجاے نہ استعمال ہونے والے ریلوے سٹیشنوں کی مرمت اور تعمیر پر زور دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں تعمیرات کی غرض سے ٹھیکوں میں کمیشن لیا جاتا ہے، جس کی مثال یہ ہے کہ پریم نگر ریلوے سٹیشن پر کسی بھی ٹرین کا سٹاپ نہیں ہے، جبکہ اس سٹیشن کی تعمیر نو کے نام پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے اس کے برعکس کوٹ لکھپت بادامی باغ جیسے لاہور کے دروازے کی حیثیت رکھنے والے ریلوے سٹیشنوں کی حالت انتہائی خستہ ہو چکی ہے، جس طرف کوئی توجہ نہیں۔

ریلوے افسران محکمہ کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں کوئی شعبہ ایسا نہیں،جو کرپشن سے پاک ہو اور ہمارے وزیر جو انقلابی تبدیلیوں کا نعرہ لے کر ٹرین کے ڈبہ میں سوار ہوئے تھے لگتا ہے کہ انہیں بھی یہ جونکیں چمٹ گئی ہیں، تبھی تو انہیں نظر نہیں آرہا کہ محکمہ کو لوٹنے کے لئے کس طرح ٹرین اور انجنوں کے وہیل بیلنس کرنے کے لئے پلانٹ لگانے کا منصوبہ بنایا گیا اور اس کے لئے لاہور لوکو شیڈ کے قریب ایک عمارت کی تعمیر کے لئے کروڑوں روپے کا ٹھیکہ بھی دے دیا گیا اور پھر ریلوے انجنوں اور ٹرینوںکے وہیل بیلنس کرنے کے لئے لاہور میں لگنے والا پلانٹ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بعد کھٹائی میں پڑ گیا، 3کروڑ سے زیادہ رقم کی لاگت سے تیار ہونے والی عمارت کا صرف ڈھانچہ ہی بن سکا، ٹھیکیداروں نے حصہ بقدر جثہ دے کر مکمل عمارت کی رقم وصول کر لی۔ وہیل بیلنسگ کے لئے بیرون ملک سے منگوایا گیا، پلانٹ زنگ کی لپیٹ میں آ گیا اور ریلوے کو اب تک اِس پلانٹ کی مد میں کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ اب ایک بار پھر پیٹ پوجا کرنے کے لئے پلانٹ کی تنصیب کے لئے نئے سرے سے ٹینڈر دینا پڑیں گے، جس پر ایک بار پھر تنصیب اور اس کی الیکٹریکل انسٹالیشن پر الگ سے اخراجات ہوں گے۔ محکمہ ریلوے میں کرپشن کی داستانیں اب اتنی عام ہو چکی ہیں کہ اس محکمہ کی کرپشن اب کرپشن محسوس ہی نہیں ہوتی اور جو بھی اس محکمہ میں آتا ہے وہ اِسی کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔  ٭

مزید : کالم