چند لوگ سگریٹ اور شراب پیتے ہیں جبکہ کچھ انہیں بالکل ہاتھ بھی نہیں لگاتے، ایسا کیوں ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے معمہ حل کردیا

چند لوگ سگریٹ اور شراب پیتے ہیں جبکہ کچھ انہیں بالکل ہاتھ بھی نہیں لگاتے، ...
چند لوگ سگریٹ اور شراب پیتے ہیں جبکہ کچھ انہیں بالکل ہاتھ بھی نہیں لگاتے، ایسا کیوں ہے؟ بالآخر سائنسدانوں نے معمہ حل کردیا

  

برن(مانیٹرنگ ڈیسک) انسان میں آخر خطرات مول لینے کی خو کیوں پائی جاتی ہے؟ سائنسدانوں نے بالآخر اس سوال کا جواب تلاش کر لیا۔ میل آن لائن کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی آف زیورخ کے سائنسدانوں نے انسانی دماغ کے اس حصے کا سراغ لگا لیا ہے جس کا تعلق انسان کی خطرات مول لینے کی عادت سے ہے۔ اس تحقیق میں یونیورسٹی کے نیورالوجی کے ماہرین کی ایک ٹیم نے 25ہزار لوگوں کے دماغوں کا تجزیہ کیا۔

اس تحقیق میں معلوم ہوا کہ دماغ کے مختلف حصوں کی خصوصیات بھی یکسر مختلف ہوتی ہیں۔ دماغ کے خوشی کے ہارمونز ڈوپامین وغیرہ کو کنٹرول کرنے والے حصے اور یادداشت والے حصے کی خصوصیات بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھیں۔ نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ درحقیقت خطرات مول لینے کا ذمہ دار دماغ کا کوئی ایک حصہ نہیں ہے بلکہ دماغ کے کئی حصے مل کر خطرات مول لینے کا کام کرتے ہیں۔ ان میں خوشی کے ہارمونز کو کنٹرول کرنے والا، یادداشت والا اور دیگر حصے شامل ہیں۔ 

تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر گوئیخن ایڈوگن کا کہنا تھا کہ دماغ کے ’سیری بیلم‘ نامی حصے کا بھی خطرات مول لینے میں اہم کردار ہوتا ہے جو بنیادی طور پر فیصلہ سازی کے عمل کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ہماری تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کے دماغوں کے ان حصوں میں ’گرے مادہ‘ کم ہوتا ہے وہ زیادہ خطرات مول لیتے ہیں۔یہی وہ لوگ ہیں جو سگریٹ اور شراب زیادہ پیتے ہیں۔ جن لوگوں کے دماغ کے ان حصوں میں یہ مادہ زیادہ ہو وہ سگریٹا ور شراب نوشی سے دور رہتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -