جان محمد جمالی کی سیاسی قلابازیاں؟

جان محمد جمالی کی سیاسی قلابازیاں؟
جان محمد جمالی کی سیاسی قلابازیاں؟

  



جمالی خاندان کا سیاسی ٹہراؤ اس وقت تھا جب جعفرخان جمالی مرحوم اور حاجی مراد جمالی مرحوم سیاست میں تھے ان کے بعد جمالی خاندان کے افراد سیاست میں آئے تو وہ ٹہراؤختم ہوگیا اور ان کی سیاست اقتدار کے ساتھ گردش کرتی رہی اور جو پارٹی اقتدار میں آتی گئی ان کے بعض سیاست دان اس میں شامل ہوتے گئے اور یہ سلسلہ 1970ء کے انتخابات سے شروع ہوا اور ابھی تک جاری ہے اور جو جنرل اقتدار پرقابض ہوا یہ اس کے ہمراہ ہمسفر بن گئے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹا تو یہ پیپلزپارٹی کو چھوڑ کر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ چلے گئے جناب ظفراللہ خان کو وزیراعظم کاخواب آیا اور ان کی خواہش پوری ہوگئی وزیراعظم کا تاج جنرل نے اٹھاکر شریف سیاستدان جناب جونیجو کے سرپر رکھ دیا پہلے نواز شریف کے ساتھ تھے پھر ان کے مخالف بن گئے پارٹی تبدیل کرنا ایک طرح سے ہمارے سیاستدانوں کے لئے ٹوپیاں بدلنے کے مترادف ہے اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں پاکستان کی سیاست کو پامال کرنے میں اس طرح کے سیاستدانوں کا سب سے بڑا کردار ہے بس ایک تاج جمالی آخر تک پیپلزپارٹی میں رہے۔ یہ بھی خاندان کی چپقلش کی وجہ سے۔ پھر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کا تختہ الٹا اور نواز شریف کو جیل میں بھیج دیا تو جناب ظفراللہ خان جمالی مسلم لیگ کو چھوڑ کر جنرل پرویز مشرف کی بنائی ہوئی مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور ان کی لاٹری نکل آئی۔

بلوچستان میں جنرل پرویز مشرف کو ایک بلوچ وزیراعظم کی ضرورت تھی،ان کا حسن انتخاب جناب ظفراللہ جمالی ٹھہرگئے اور وزیراعظم کا تاج ان کے سرپر سجادیا گیا ان کا دعویٰ ہے کہ وہ فاطمہ جناح کے حفاظتی دستہ کے ذمہ دار تھے یا یوں کہہ لیں کہ وہ اس حفاظتی دستہ کے کمانڈر تھے جب فاطمہ جناح ایوب خان کے خلاف جدوجہد کررہی تھیں تو عوام ان کے ساتھ تھے اور انہیں کسی حفاظتی دستے کی کوئی ضرورت نہ تھی نہ اس دور میں آج کی طرح حفاظتی دستے ہوا کرتے تھے وہ عوامی دور تھا اور تمام سیاستدان بغیر کسی مسلح دستے کے سفر کیا کرتے تھے جب شیخ مجیب الرحمن کوئٹہ تشریف لائے تو نواب بگٹی کے مہمان تھے، شیخ مجیب الرحمن اور ان کے ساتھ دیگر سیاست دان لیاقت مارکیٹ میں کچھ خریداری کے لئے گئے،اتفاق سے اس وقت اسلامی جمعیت طلبہ کے دفتر میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بالائی منزل پر کھڑا تھا ان کو دیکھتے ہی میں نیچے اترا شیخ مجیب الرحمن اور ان کے ہمراہ سیاستدانوں سے ہاتھ ملایا ان کے ساتھ کمال حسین تھے جو بعد میں بنگلہ دیش کے وزیرخارجہ بنے کچھ اور سیاستدان بھی تھے وہ بڑی آزادی سے کوئٹہ کے بازاروں میں گھوم پھر رہے تھے ،حتیٰ کہ ان کے ساتھ کوئٹہ پولیس کا کوئی سپاہی تک نہ تھا،حالانکہ یہ دور کشمکش کا تھا انہیں دفتر میں چائے کی دعوت دی ،لیکن انہوں نے کہاکہ ہم کچھ خریداری کرنے آئے ہیں اور ہماری دعوت کا شکریہ ادا کیا اور چل دیئے جناب ایوب خان کا دور تو ایک فوجی صدر کا تھا،لیکن اس نے بھی بعض روایات کاپاس کیا فاطمہ جناح پر کوئی حملہ کا ارادہ تھا نہ اس کا کوئی منصوبہ تھا جناب ظفراللہ جمالی کی بات دل کولگی نہیں بہرحال وہ سیاست دان ہیں ان کو یہ کہنے کا حق حاصل ہے ۔

جو سیاست فاطمہ جناح کی تھی ان کے باڈی گارڑ ہونے کا شرف حاصل ہونے کے باوجود وہ فاطمہ جناح کی سیاست کے نقش قدم پر نہیں چلے جناب ظفراللہ جمالی پیپلزپارٹی مسلم لیگ پیپلزپارٹی پھر جنرل پرویز مشرف کی مسلم لیگ (ق) کے اسیر ہوئے کاش وہ قائداعظم کی عظیم بہن کے نقش قدم پر چلتے اور جنرلوں کے ساتھ نہ چلتے تو ان کانام تاریخ میں امر ہوجاتا، لیکن وہ آمروں کے ہم قدم رہے اور سب سے حیرت کی بات تو یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی مہربانیوں کے اتنے گرویدہ ہوگئے اور وزیراعظم کا سرپرتاج سجانے کے بعد فرط محبت میں اتنے آگے بڑھ گئے کہ جنرل کو محبت واحترام سے باس کہنے لگے یہ اعزاز پاکستان میں جناب ظفراللہ جمالی کو حاصل رہا اور جب انہیں اقتدار سے فارغ کیا تو جنرل پرویز مشرف نے ایک بار نہیں ،بلکہ کئی بار کہا کہ وہ ایک نالائق شخص تھے۔ یہ ان کے باس کا تحفہ تھا جو انہیں دیاگیا۔ جمالی خاندان میں سکندر جمالی ایک بااصول اور دبنگ بیورو کریٹ تھے بے نظیر کے ایک غیرقانونی حکم کو ماننے سے صاف انکار کردیا، بے نظیر حیران ہوگئیں کہ جمالی خاندان کا ایک آفیسر اتنا بااصول ہوسکتا ہے وہ ہمارے ساتھ لاء کالج میں کلاس فیلو تھے بے نظیر نے ان کاتبادلہ کردیا ،مگر انہوں نے غلط حکم ماننے سے انکار کردیا وہ بھی جمالی تھے اور انہوں نے جعفرخان جمالی کا نام روشن رکھا اور تاج جمالی نے؟

سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی جان محمد جمالی نے 22جون کو ایک مقامی اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف کی باتوں میں کوئی صداقت نہیں ہے وہ باقی مدت تک اپنی پارٹی مسلم لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں پارٹی فیصلوں کی مکمل پاسداری کریں گے۔ یہ بیان بڑا دلچسپ ہے اور سیاستدان اس طرح کے بیانات دینے کے عادی ہیں ان کاخیال ہوتا ہے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے اور یہ بات کسی حدتک درست بھی ہے اگر عوام کا حافظہ کمزور نہ ہوتا اور باشعور ہوتے تو ایسے سیاستدانوں کو سیاست سے اٹھاکر باہر پھینک دیتے جو پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان کی بات درست ہے کہ عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے، مگر تاریخ کے صفحات کمزور نہیں ہوتے اور جو کچھ انسان کہہ رہا ہوتا ہے تاریخ کے اوراق اس کو بالکل صحیح ثابت کررہے ہوتے ہیں اور تاریخ کبھی جھوٹ نہیں بولتی سیاستدان تو جھوٹ بولنے کاریکارڈ توڑتے ہیں، لیکن بااصول سیاستدان نہیں اور وہ جو لمحہ بہ لمحہ پارٹیاں نہیں بدلتے ایسے سیاستدان قابل احترام ہیں اوران کے کردار سے سیاست کی تاریخ کا بھرم ہے اور ایسے باکردار سیاستدانوں کی وجہ سے سیاست کا سنہرا باب روشن ہے۔

جان محمد جمالی نے پارٹی ڈسپلن کی پہلی خلاف ورزی اس وقت کی جب سینٹ کے انتخابات تھے اور کہاکہ میں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے اور یہ ضمیر کا ووٹ اپنی بیٹی کو دیا حالانکہ یہ کوئی ضمیر کاووٹ نہیں، بلکہ باپ کی محبت کا ووٹ تھا۔ محبت کی دنیامیں یہ سب جائز ہے، لیکن اصول کی دنیا میں یہ کاروبار نہیں چلتا، جان محمدجمالی کا اقدام پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی اور پارٹی کے سربراہ سے اعلان بغاوت تھا اور اس کے نتائج انہوں نے بھگت لئے حالانکہ نواب ثناء اللہ زہری نے ان کو بچانے کی بہت کوشش کی ،لیکن وہ نہ بچ سکے۔ نواز شریف نے صوبائی صدارت سے کہہ دیا تھا کہ انہیں فوراً اسپیکر کے عہدے سے فارغ کریں ،لیکن پارٹی نے دیر لگادی پھر جان جمالی نے اپنے آپ کوبچانے کے لئے ٹائپ شدہ استعفا دیا، تاکہ کچھ راستہ نکل سکے وہ بھی ناکام ہوگیا، جان جمالی کو اندازہ ہوگیا کہ اب تمام راہیں بند ہوگئیں صرف ایک راستہ کھلا ہے اور وہ ہے عہدے سے استعفا۔ اور پھر مقدس سرزمین سے استعفا موصول ہوگیا اب وہ اعلان نہیں کریں گے کہ ایک نئی مسلم لیگ بنائیں گے نئی مسلم لیگ بنانا اتنا آسان نہیں یہ عظیم کام جنرل ہی کرسکتے ہیں۔ اب دیکھیں اسپیکر کا ہماراحیلہ درانی کے سرپر بیٹھ سکے گا یا اسے کسی اور طرف جانے کا حکم ہوگا اگر راحیلہ درانی سپیکر بن گئیں تو پہلا اعزاز ہوگا جو ایک خاتون کو حاصل ہوگا چونکہ وہ صحافی رہی ہیں اس لئے میراووٹ ہوتا تو انہیں دیتا۔ بہرحال اب دیکھیں گے کہ یہ اعزازکسے حاصل ہوتا ہے۔

قارئین محترم! جان جمالی اور نوازشریف کی کشمکش میں سب سے زیادہ حیرت انگیز بیان بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے ترجمان کی طرف سے آیا ہے کہ پارٹی انہیں مبارکباد دیتی ہے کہ انہوں نے اصولی فیصلہ کیاہے جو بالکل درست ہے اور اس انحراف پر ان کے اس اقدام کو سراہا ہے میرا سوال بی این پی سے ہے اگر ان کی پارٹی کا ممبر یہ کام کرے تو ان کی تعریف کریں گے یا ان کے خلاف اقدام کریں گے؟ جان جمالی نے جو کچھ کیا وہ پارٹی ڈسپلن کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے جس کی بااصول سیاست میں کوئی گنجائش نہیں ہے مسلم لیگ کا درست فیصلہ تھا کہ انہیں استعفا دینے پر مجبور کیا اور انہوں نے اعلان بغاوت کے بعد خاموشی سے ہتھیار ڈال دیئے اب دیکھیں مسلم لیگ کے بادشاہ کا کیافیصلہ آتا ہے اگر مسلم لیگ صوبائی خودمختاری کی قائل ہے اور اس حق کوتسلیم کرتی ہے توپھر فیصلے کااختیار چیف آف جھالاوان کے ہاتھ میں ہونا چاہیے بقول شاعر:

ہمارے سینے میں صاف دل ہے تو صاف کہنے میں ڈر نہیں ہے

جو وقت نزدیک آرہا ہے کسی کو اس کی خبر نہیں ہے

مزید : کالم