تصادم کون چاہتا ہے؟؟؟

تصادم کون چاہتا ہے؟؟؟
تصادم کون چاہتا ہے؟؟؟

  



ہمارےصدرِمملکت عارف علوی ٹھہرے ایک دانتوں کےڈاکٹراورہمارا وزیراعظم ٹھہراکرکٹر ۔ اِن بھولےبھالے حکمرانوں کی وجہ سےعوام کوآئے روزشہرِاقتدار میں کوئی نیاغیرذمہ دارانہ سین دیکھنےکوملتاہے۔ہمارےحکمرانوں کی ناتجربہ کاری اوراُمورِسلطنت سےناواقفیت کافائدہ وہ تمام لوگ اُٹھا رہے ہیں جوکہ وزراءاورمشیراُن کی ٹیم کاحصہ ہیں۔اُس کی ایک مثال چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ کےتوسیع کےنوٹیفکیشن معاملے میں کی جانی والی غلطیاں ہیں،اگروزیراعظم عمران خان کو پتا نہیں تھاکہ طریقہ کارکیاہےتوکیااُن کےقانونی معاونین بھی لاعلم تھے؟ کہیں نہ کہیں دال میں کچھ کالا ضرور ہے،کبھی قومی چورغلط میڈیکل رپورٹ دکھا کر بھاگ جاتاہےتوکبھی وزیراعظم غلط نوٹیفکیشن پردستخط کرکےپھنس جاتاہے،کہیں ایساتونہیں کہ دانستہ غلطیاں کرکےوزیراعظم عمران خان کے کھاتےمیں ڈالی جا رہی ہیں؟ ۔

آئےروزوفاقی کابینہ کی غلطیاں ملک کےلئے سیکیورٹی رسک ہیں،بات صرف اتنی سی تھی کہ ایک سادہ نوٹیفکیشن مروجہ قانونی طریقہ کار کے مطابق جاری کرناتھا ۔ہوا کچھ اِس طرح کہ وزیراعظم نے نوٹی فکیشن جاری کیا،نوٹی فیکیشن کےبعدمعلوم ہوا کہ یہ تو صدر مملکت کا کام ہے تو صدر سے نوٹی فکیشن جاری کروا دیا پھر پتہ چلا کہ کابینہ کی ایڈوائس کے بغیرصدر یہ کام کر ہی نہیں سکتا تو صدارتی نوٹی فکیشن پر ہی کابینہ کے گیارہ وزیروں سے دستخط کروا لئے۔پھرسپریم کورٹ کے نوٹس لینے کے بعد اِنہیں پتہ چلا کہ کابینہ کی منظوری کے بعد دوبارہ یہ نوٹی فکیشن صدر نے جاری کرنا تھا۔12 ستمبر کوعاصمہ شیرازی کے ساتھ انٹرویو میں صدر مملکت نے فرمایا تھا کہ نوٹی فکیشن ابھی اُن تک پہنچا ہی نہیں کہ وہ سائن کریں جبکہ نوٹی فکیشن پر19اگست کی تاریخ درج ہے،جو حکومت سب سے طاقتور عہدے کی توسیع کا سادہ سا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں ناکام رہے اس کا اللہ ہی حافظ ہے ۔اِن غلطیوں کے دفاع میں اترنے والے حکمران جماعت کے کارکنان نےسارا زور سپریم کورٹ پرتنقید میں صرف کیا ۔اگر چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ اس معاملے کا اَزخود نوٹس نہ لیتے تو بھی آرمی چیف کی پہلی معیاد کچھ دن بعد ختم ہونے کے ساتھ دوسری معیاد کیلئے تقرری بھی مستقل کالعدم ہوجانی تھی تو اس صورت میں بھی بحران ہی جنم لیتا۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان کا جج صاحبان سے جو مکالمہ ہوا ہے , اس میں اٹارنی جنرل صاحب عدالت عظمیٰ کو مطمئن کرنے سے قاصر رہے۔وہ نہ تو یہ بتاسکے کہ حکومت نے کس قانون کے تحت آرمی چیف کے عہدے کی معیاد میں توسیع کی ہے اور نہ یہ بتا سکے کہ حکومت کے پاس توسیع کا اختیار ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس کے پاس ہے؟؟کابینہ کی جانب سے توسیع کاجومسودہ عدالت میں پیش کیا گیا,اُس میں کئی غلطیاں نکل آئیں۔یہ جوکچھ بھی ہوا,جیسےبھی ہوا,اس سےایک بات توطےہوگئی کہ سپریم کورٹ نےحکومت کی ناتجربہ کاری اور نااہلی پر مہرثبت کردی ہے۔ حکومت کویہ فرق ہی نہیں پتا تھا کہ توسیع اور تقرری میں کیا فرق ہے؟؟؟

معاملےکاایک دوسراپہلو بھی ہےکہ کیاسپریم کورٹ اِس میں مداخلت کاآئینی اِختیار رکھتی ہےیاایسا کرکے اختیارات سے تجاوز کیا گیا ہےاورپھراگرسماعت ناگزیر تھی تومعاملےکی حساسیت کےپیشِ نظر بندکمرے میں ہوتی یا مقصد صرف جگ ہنسائی تھا؟؟؟ پرنٹ,الیکٹرانک اورسوشل میڈیا کوریج کی اجازت دی گئی تو دشمن ملک بھارت کو بھی شادیانے بجانے کا موقع مل گیااورآخرمیں عدالتِ عظمیٰ نےجوفیصلہ دیا,وہ پہلےروز ہی دیاجاسکتاتھا۔جج صاحبان سرکاری نوٹیفکیشن کی غلطیوں کی نشاندہی کرکے حکومت کی اَزخود رہنمائی کرکے معاملہ نمٹاسکتے تھے۔خود سپریم کورٹ نےآرمی چیف کوجو6 ماہ کی توسیع دی,وہ کس قانون کےتحت ہے؟؟؟ حکومت کو سپہ سالار کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سےبذریعہ پارلیمان ضروری قانون سازی کےلیے6ماہ کاوقت دیاگیا ہے۔حکومت نےاگست میں ہی آرمی چیف کی مدت ملازمت میں3سال کی توسیع کافیصلہ کرلیا تھا توبہترہوتاکہ اُسی وقت آرمی ایکٹ پرنظرثانی کرلی جاتی ۔

چنانچہ اب حکومت کو آرٹیکل 243 اور ملٹری ریگولیشن 255 میں ترمیم کرکے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے متعلق پارلیمان سے ایک بل پاس کروانا ہوگاجس کےلیے سادہ اکثریت درکار ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ حزبِ اختلاف کی جماعتیں اس سلسلے میں حکومت سے کتنا تعاون کرتی ہیں ؟؟؟ اگرقومی اسمبلی سے حکومت بل پاس کروا لیتی ہے تو سینیٹ میں حزبِ اختلاف کی اکثریت کے باعث حکومت کو دوسری جماعتوں کا تعاون درکار ہوگا۔اگر بل سینٹ میں مسترد ہوا تو قومی اسمبلی دوبارہ پاس کرسکتی ہے۔اگر دوسری مرتبہ بھی سینیٹ مسترد کردے تو قومی اسمبلی تیسری مرتبہ پاس کرکے سینیٹ میں بھیج سکتی ہے تو تیسری مرتبہ سینیٹ کےلیے ممکن نہیں ہوگا کہ وہ اسےمستردکرسکے۔اِس کے علاوہ بل پاس نہ ہونے کی صورت میں صدارتی آرڈیننس سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس تمام تر صورتحال سے نمٹنے کےلیے حکومت کے پاس 28 مئی2020تک کا وقت ہے۔یہ جو صاحب درخواست گزارآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالت عظمیٰ درخواست لے کر گئے,اُنہوں نے آرمی چیف کی پہلی معیاد کےاختتام کے عین قریب ہی کیوں ایسا کیا؟؟؟

درخواست گزارریاض حنیف راہی متعدد بار عدالتوں میں غیر ضروری درخواستیں دائر کرنےاوربعداَزاں پیروی نہ کرکے عدالتوں کا وقت ضائع کرنے پرقیداورجرمانے کی سزا بھگت چکا ہے۔آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف بھی موصوف نےپرانی روش کےتحت بروزسوموار درخواست دائر کی اورپھر اگلے روز منگل کودرخواست واپس لینےکی استدعا کردی۔جس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے معاملے کا اَزخود نوٹس لےلیا۔سماعت کے دوران ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ بار بار درخواست واپس کرنے کی استدعا کرتا رہا۔اَب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ شخص کون ہے؟؟؟ اس نے کس کے کہنے پر درخواست دائر کی ؟؟؟ اور پھر کیوں درخواست واپس لینے کی استدعا کی ؟؟؟ اس معاملے کی مکمل تحقیقات ضرورہونی چاہیں ۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ