کشمیر کی آزادی،نوشتہ ءدیوار

کشمیر کی آزادی،نوشتہ ءدیوار
کشمیر کی آزادی،نوشتہ ءدیوار

  

                                                            اسلام میں کسی قسم کا جبر یا تشدد موجود نہیں ہے۔ اسلام کا ماضی میں اورحال میں پھیلاﺅ محض دلائل پر مبنی ہے۔ آج بھی ہر قسم کے معاشروں میں لوگ بڑی تعداد میں دائرہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں۔یہی اسلام کی سچائی اور حقیقت کا ایک بڑا ثبوت ہے۔ قرآن صرف مسلمانوںکی مذہبی کتاب نہیں ہے، اس کی قدر و قیمت سب انسانوں کے لئے برابر ہے۔نماز کا فلسفہ انسانوں کو صحت مند اور پاک صاف رکھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔اس میں بہت زیادہ ڈسپلن کا مواد موجود پڑا ہے۔ نماز سراسر صفائی ہے۔یہ برائیوں کا مکمل الٹ ہے۔ زکوٰة کی باقاعدہ ادائیگی غربت کو ختم کرتی ہے۔یہ دولت کی تقسیم کا موجب ہے۔ حج عالمی میدان میںمسلمانوں کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ان میں شناسائی اور محبت کا موجب بنتا ہے۔اسلامی زندگی کا فلسفہ بہت ہی گہرا ہے۔سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ اسلامی فلسفہ ءحیات پر غور جاری رکھا جائے۔یہ اصول پرستی کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی پر مبنی ہے، جو اسلام کے اندر موجود ہے۔روزہ انسانی عقل اور جسم کو مضبوط سے مضبوط تر کرتا ہے۔بچپن میں بھی مَیں خود شوق سے روزے رکھتا تھا۔روزہ کے ساتھ ساتھ کام بھی کرتا تھا۔ ”مویشی خانے کی صفائی“.... ”جنگل سے لکڑی اورکنویں میں سے پانی لانا، مویشی چرانا میرے کام ہوتے تھے۔مکئی اور گندم کی پسائی کے لئے پانی سے چلنے والی پتھر کی بنی ہوئی مشین ”دریا کے کنارے“ پر جانا ہوتا تھا۔

اس مشین سے پسے ہوئے آٹے کی روٹی مزیدار ہوتی ہے۔یہ بات تو اب ماضی کا قصہ بن چکی ہے۔آج کل سارے کام بجلی سے چلنے والی مشین کرتی ہے۔زمانہ بدل چکا ہے۔ہماری زندگی میں زمانہ بدلا ہے۔اقدار تبدیل ہوگئی ہیں۔انسان نے حیرت انگیز حد تک ترقی کرلی ہے۔ہوا میں انسان مشین میں سوار ہو کر اڑتا ہے۔زمین پر چلنے والی اس کی مشین تیز رفتار ہوتی ہے۔یہ کہنا درست ہے کہ ”انسان کو پرندوں کی طرح پَر لگ گئے ہیں“....وہ زمین پر خوب دوڑتا ہے۔سمندروں کی سطح پر دوڑتا پھرتا ہے۔گویا وہ مچھلیوں کا ہم پلہ بن گیا ہے۔ انسان پرندوں کی اُڑان سے کئی گنا زیادہ رفتار سے اُڑتا ہے۔وہ دیکھتے ہی دیکھتے چاند کی زمین پر پہنچ جاتا ہے۔انسان نے آگے کا سفر بھی طے کررکھا ہے۔گویا انسان آسمانوں کو بھی فتح کرنا چاہتا ہے۔وہ ضرور ایک دن یہ کام بھی کر لے گا۔یہ سب کچھ جدید علوم کی بدولت ممکن ہوا ہے۔

 ”علم حاصل کرو چاہے اس کے لئے چین ہی کیوں نہ جانا پڑجائے“.... آج کا چین بلا شبہ علم کے میدان کا شہسوار بن گیا ہے۔ساری دنیا میں ترقی کے لحاظ سے وہ ایک بہت بڑی مثال بنا ہوا ہے۔چین کی ترقی کا کیا راز ہے؟چینی قوم دن رات کام میں مصروف رہتی ہے۔ یہی ان کی ترقی کا راز ہے۔ چین کے کونے کونے میں علم کی شمع روشن ہو چکی ہے۔ با مقصد تعلیم ہی کسی بھی قوم کی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔تعلیم سے ہی دل و دماغ پر فولاد کے بنے ہوئے تالے ایک ایک کرکے ٹوٹ جاتے ہیں۔لوگ نئی نئی سوچوں کا مظاہرہ کرتے ہیں۔چین میں ہر شہری دن رات قدرت کی طرف سے دیئے گئے خزانوں کی کھوج میں لگا رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا چین دنیا کی ایک اقتصادی سپرپاور بن چکا ہے۔وہ دن ہرگز دور نہیں، جب چین دنیا کی سب سے بڑی طاقت ہوگا۔کئی لحاظ سے آج بھی چین دنیا سے بہت آگے جا چکا ہے۔امریکہ تو بلاشک وشبہ قرضوں کی دلدل میں بُری طرح پھنس چکا ہے۔

یہ بات ایک حقیقت ہے کہ پاکستان بھی دنیا کی ایک عظیم طاقت بن گیا ہے۔وہ آج اپنے پاﺅں پر کھڑا نظر آتا ہے۔ دیکھیں اور سوچیں کہ 1947ءمیں پاکستان کے پاس کیا تھا؟ہمارے دشمن کہتے تھے کہ پاکستان تو چند دنوں کا مہمان ہے۔وہ چند دن تو آج قیامت تک کا مقصد بن چکے ہیں۔پاکستانی ایک عظیم قوم ہیں۔بھارت ایٹمی طاقت بننے کے بعد پاکستان کو نیست و نابود کر دینے کی دھمکیاں دیتا تھا۔پاکستانی قوم نے بھی انگڑائی لی اور اپنے آپ کو بھی ایٹمی طاقت میں بدل دیا۔زندہ اور باوقار قومیں اسی طرح کے کام کیا کرتی ہیں۔پاکستان ایک پُرامن ملک ہے، وہ اس خطے میں امن قائم کرنا چاہتا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی رائے سے حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔کشمیر میں غالبِ اکثریت میں مسلمان آباد ہیں۔پاکستان اور بھارت دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آئے تھے۔اسی لحاظ سے روزِ اول سے کشمیر پاکستان کا حصہ ہے۔کشمیری دن رات چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔

1947ءمیں برصغیر میں مسلمانوں کی جماعت مسلم لیگ تھی۔اسی مسلم لیگ نے 23مارچ 1940ءکو لاہور میں قرارداد پاکستان منظور کی تھی۔پاکستان کا وجود اسی قرارداد کی بدولت قائم ہوا تھا۔پاکستانی مسلم لیگ کے سامنے ریاست جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی جماعت مسلم کانفرنس تھی۔اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کشمیر کے مسلمانوں نے بھی سری نگر کے مقام پر 19جولائی 1947ءکو ایک قرارداد منظور کی تھی،جس کے تحت ریاست جموں و کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ کردیا گیا تھا۔قائداعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی قوم اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے نہیں کرے گی۔آج ہم سب اکٹھے ہو جائیں اور کشمیر کی آزادی کے لئے موثر ترین کام شروع کردیں۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب کے دل ودماغ میں کشمیر کی آزادی کا جذبہ اسی طرح پیدا ہو جائے ،جس طرح کا جذبہ 23مارچ 1940ءکی قرارداد کی منظوری کے بعد مسلمانوں میں پیدا ہوگیا تھا۔

کشمیر پاکستانی مسلمان کا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے۔محترم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ ہم کشمیر کی آزادی کے لئے ایک ہزار سالہ جنگ بھی لڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔یہ جنگ پُرامن جنگ ہے۔یہ جنگ ہتھیاروں کی بجائے دل و دماغ کے ہتھیاروں سے لڑی جائے گی۔قائداعظم محمد علی جناح کی پُرامن جنگ دلائل پر مبنی تھی۔ان طاقت ور دلائل کی بدولت ہی پاکستان بن گیا تھا۔بالکل اسی طرح آخر کار کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہوگا۔پاکستان اس وقت مکمل ہوگا،جب پوری ریاست جموں و کشمیر پاکستان کا ایک لازمی حصہ بن جائے گا۔بھارت کو کشمیر خالی کرنا ہو گا۔ کشمیری خود اپنی آزادانہ مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔یہ فیصلہ ساری دنیا کو قابل قبول ہوگا۔

مجھے تو یہ بات نوشتہ ءدیوار نظر آتی ہے۔دیکھیں اور غور کریں کہ کس طرح سوڈان مذہب کی بنیاد پر دو ملکوں میں تبدیل ہوگیا ہے۔ان کو شمالی سوڈان اور جنوبی سوڈان کہا جاتا ہے۔بالکل اسی طرح تیمور کے دو ملک ”مشرقی تیمور“ اور ”مغربی تیمور“ بن گئے ہیں۔اس اصول کی بنیاد پر کشمیر بھی پاکستان میں شامل ہوگا۔ریاست جموں و کشمیر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مسلمان ہی غالب اکثریت میں آباد ہیں۔سوڈان اور تیمور کی طرز پر جلد از جلد رائے شماری کا بندوبست کرنا ہوگا۔البتہ یہ رائے شماری ایک ہی وقت میں گلگت، بلتستان، آزادکشمیر، وادیءکشمیر اور جموں کے علاقوں میں کرائی جائے گی، تاکہ لوگوں کی خواہش اور مرضی سے مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پُرامن ماحول میں حل کرلیا جائے۔طاقت کی بناءپر آج کسی بھی ملک یا علاقے کو غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا۔

آزادی کا جذبہ اور خواہش ہر انسان میں ہمیشہ سے موجود ہے۔پرندے، چرندے اور ہر قسم کے جانور اپنے جیسوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔پرندے ایک ساتھ محوِ پرواز ہوتے ہیں۔جانور ایک ساتھ کھانا کھاتے ہیں، ان کی نسل ساتھ ساتھ چلتی رہتی ہے۔ آپ اس موقع پر سمندری مچھلیوں کی زندگی پر غور کریں۔سمندر میں بڑی مچھلیاں چھوٹی مچھلیوں کو شکار بنا کر اپنی زندگی کا اہتمام کرتی ہیں۔کچھ پرندے چھوٹے پرندوں کو نگل جاتے ہیں، سب پرندے تقریباً گوشت خور ہوتے ہیں، کچھ پرندے کیڑوں، مکوڑوں کے ساتھ گندم اور مکئی کے دانے بھی انسانوں کی طرح کھاتے ہیں۔درندے زیادہ تر گوشت کھاتے ہیں۔شیر تو صرف چھوٹے یابڑے جانوروں کا خون پیتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھاتا ہے۔اس کو قانون قدرت کا نام دیا گیا ہے۔

انسان بھی گوشت کھانے کا شوقین پیدا ہوا ہے۔ماضی میں ایک وقت ایسا بھی تھا کہ کچھ وحشی قبائل انسانوں کا شکار کرتے تھے۔ان کا گوشت کھاتے تھے اور ساتھ ہی ان کاخون بھی پی جاتے تھے۔غور کریں کہ کس طرح ایک نسل کے تمام جانور اکٹھے زندگی بسر کرتے ہیں۔ایک ہی طرح کے پرندے دوسروں سے الگ تھلگ محو پرواز ہوتے ہیں۔ چڑیاں چڑیوں کے ساتھ رہتی اور اُڑتی ہیں۔کوے یکساں طرح کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ چیل اور ولچر مردار کھاتے ہیں ۔ باز اور عقاب جنگلوں اور پہاڑوں کی چٹانوں پر رہتے ہیں۔وہ دیگر پرندوں کا شکار کرتے ہیں، جس طرح چرندے ،پرندے ،درندے علیحدہ علیحدہ زندگی بسر کرتے ہیں،بالکل اسی طرح کرئہ ارض پر انسان بھی اپنے جیسوں کے ساتھ رہتے ہیں۔پاکستانیوں اور کشمیریوں کا مرنا، جینا، سوچنا بالکل ایک جیسا ہوتا ہے۔ایک دن ضرور آئے گا،جب یکساں سوچ کے ساتھ زندگی گزارنے والے کشمیری بھی اپنے ہی خاندان کے افراد پاکستانیوں سے مل کر اپنی زندگی بسر کریں گے۔خود بھارت کے بہتر بن مفاد میں یہ بات آتی ہے کہ وہ کشمیریوں کو اپنا غلام نہ بنائے، بلکہ ان کو آزاد اور خود مختار لوگوں کی مانند زندہ رہنے کا حق دے۔   ٭

مزید :

کالم -