ایک ننھی چڑیا اُلفت سے ملاقات(1)

ایک ننھی چڑیا اُلفت سے ملاقات(1)

  

مجھے سیالکوٹ میں چھ برس ہونے کو ہیں۔ یہاں اسلام میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کے طالب علموں کو علم طب کی تعلیم دے رہا ہوں۔ کالج سیالکوٹ شہر سے 9 کلو میٹردور پسرور روڈ پر ایک وسیع اور پْر فضاء مقام پر واقع ہے اور اس کے ارد گرد تاحد نظرسر سبز کھیت اور درخت پھیلے ہوئے ہیں جو موسم بہار میں ایک انمول منظر پیش کرتے ہیں۔

کالج کے اندر ہرے بھرے درخت اور پھولوں بھرے مرغزار ہیں۔گرلز ہوسٹل کی ایک دیوار پھولوں سے لدی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ کورونا وائرس کی بیماری کی وجہ سے طالب علم گھروں کو جا چکے ہیں اور میرے ساتھ کچھ اساتذہ یہیں مقیم ہیں اور مریضوں کی خدمت میں مصروف وقت گزارتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سینکڑوں چھوٹے چھوٹے پرندے، چڑیاں، فاختائیں یہاں درختوں اور جھاڑیوں میں، دن بھر کی تلاشِ رزق کی مشقت سے تھک کر رات بھر آرام کرتی ہیں اور صبح ہوتے ہی پھر فکر معاش میں پتہ نہیں کِن شہروں بستیوں اور جنگلوں میں چلے جاتے ہیں۔

مَیں جب بھی شام کو ڈیوٹی کے بعد اپنے کمرے کی طرف جاتا ہوں تو درختوں سے ان پرندوں کی عجیب، میٹھی اور پیاری آوازیں سنائی دیتی ہیں کہ جیسے یہ پرندے ایک دوسرے کو سارے دن کی سرگزشت سنا رہے ہوں اور اگلے دن کے پروگرام طے کر رہے ہوں۔ ننھی چڑیاں زیادہ تر گرلز ہوسٹل کی دیوار کی جھاڑیوں میں آرام کرتی ہیں یا ڈینٹل کالج کے سامنے درختوں اور جھاڑیوں میں۔

ایک دن میں صبح 8 بجے ہسپتال کی طرف آ رہا تھا جب گرلز ہاسٹل کو آنے والی روش پر پہنچا تو ایک ہلکے بھورے رنگ کی خوبصورت چڑیا ایک چھوٹے سے درخت پر بیٹھی دیکھی۔ مجھے نزدیک آتے دیکھ کر وہ اْڑی۔ پھر خود ہی دوبارہ اْسی جگہ آ کر بیٹھ گئی۔ مجھے اس خوبصورت چڑیا کی یہ ادا بہت اچھی لگی۔میں اس کے سامنے آکر ٹھہرگیا مگر وہ اُڑی نہیں،بلکہ مجھے اس کی آنکھوں میں اپنائیت لگی اور میں اس سے باتیں کرنے لگا۔ وہ بھی ایک اور ٹہنی پر میرے نزدیک آکر بیٹھ گئی۔

مَیں نے اس چڑیا سے کہا کہ آپ کو مجھ سے ڈر نہیں لگتا جو اطمینان سے بیٹھی ہو۔ وہ بولی کیا آپ ہی پروفیسر عیص ہیں۔میں نے کہا ہاں: وہ بولی آپ تو بڑے نرم دل اور شفیق ہیں اور آپ سے ڈروں کیوں؟ فرط محبت سے میں نے اُس کا نام پوچھا تو کہنے لگی کہ میرا نام تو ثومی ہے، مگر میری سہیلیا ں مجھے الفت کے نام سے پکارتی ہیں۔ ہم تمام چڑیا ں اور پرندے آپ کو جانتے ہیں اور اکثر آپ کے متعلق باتیں کرتے رہتے ہیں۔باتیں کرتے ہوئے الفت کئی بار میرے کندھے پر بھی بیٹھ کر کہتی کہ سر مجھے آپ سے بالکل ڈر نہیں لگتا۔

میں نے پوچھا آپ کتنے عرصے سے اس کالج کے سبزا زاروں میں مقیم ہیں۔ الفت نے کہا 04 برس سے۔ آپ میرے یہاں آنے سے ایک سال پہلے اس کالج میں پڑھاناشروع کر چکے تھے۔

الفت کو مجھ سے باتیں کرتے دیکھ کر دو اور خوبصورت چڑیاں اس کے پاس ٹہنی پر آکر بیٹھ گئیں۔اُن کی آنکھوں میں اپنائیت بھری شوخی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا میرا نام ماہ رْخ اور اس کا نام مہر نگار ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کے اتنے خوبصورت نام کس نے رکھے۔ظاہر ہے ہماری والدہ نے، انہوں نے جواب دیا۔ ہماری مائیں کشمیر کے جنگلوں میں قائم ایک کالج کی فارغ التحصیل ہیں اور عمرانیات میں بی اے کیا ہوا ہے اور جب سے ہم نے اسلام میڈیکل اور ڈینٹل کالج میں سینکڑوں لڑکیوں کو پڑھتے دیکھا تو ہم نے بھی پڑھنا شروع کر دیا اور اس کالج کے خوبصورت درخت، سر سبز پلاٹ اور گلاب کے پھولوں سے آراستہ راہ داریاں ہمارے ننھے دلوں کو اتنی پسند آئی ہیں کہ ہم نے یہیں اپنے مستقل گھونسلے بنا لئے ہیں۔

میں:اْلفت کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج کل ساری دُنیا میں کورونا وائرس کی وجہ سے بے شمار ملک اور لوگ اس وبا میں مبتلا ہیں اور روزانہ ہزاروں لوگ مر رہے ہیں۔ ساری دنیا میں لاک ڈاون ہے اور بڑے بڑے طاقتور ملک اس وائرس کے سامنے بے بسی کا اظہار کر چکے ہیں۔ کیا پرندے بھی اس وبا کا شکار اور پریشان ہیں۔

الفت نے مہرنگار کو کہا کہ تم بتاؤ کہ ہماراکیا حال ہے۔ مہر نگار بولی: پرندوں پر اس وبا کا کوئی اثر نہیں ہے۔ انسانوں کی بے بسی دیکھ کر ہمیں رحم آتا ہے۔ امریکہ جیسا ملک جو غرور میں کسی کو خاطر نہیں لاتا تھا اور کائنات فتح کرنے نکلا تھا، دھڑام سے زمیں پر آ گرا ہے اور دوسرے ملکوں سے مدد مانگ رہا ہے۔

رہا یورپ تو اِس نے دنیا میں فساد برپا کر رکھا تھا۔ امریکہ اور یورپ نے مل کر پہلے داعش بنائی اور مسلمان ملکوں کو ان کے ذریعے برباد کیا۔ شام، عراق، لیبیا، الجزایئر اور یمن میں لاکھوں لوگ مروا دئیے۔ ہندوستان کو لے لیں۔ اس نے 80لاکھ مجبور کشمیری مسلمانوں کو جانوروں کی طرح قید کر رکھا ہے۔ اُن کے بنیادی انسانی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں، عیسائیوں پر بھی ظلم ہو رہا ہے۔ یورپ کے کئی ملکوں نے تو انتہا کر دی تھی۔ہالینڈ کے ایک ایم پی اے نے نبی کریمؐ کے خاکے بنانے کی گستاخی کی تھی۔ اُس کی دیکھا دیکھی امریکہ میں ایک پادری نے قرآ ن مجید جلانے کی دھمکی دی تھی۔ یہ لوگ بہت آگے بڑھ گئے تھے۔

میانمارمیں بھی انسانوں پر بہت ظلم ہو رہا تھا۔ اسرائیل نے فلسطینیوں کو غلام بنا لیا ہے۔ اُن کی زمین پر یہودیوں کی بستیا ں بناتا جا رہا ہے۔ پہلی بار پیغمبرؐ اسلام کے ملک میں کنسرٹ کرایا گیا اور مردوں اور عورتوں کی مخلوط محفلوں کی اجازت دی۔ ان ملکوں نے فساد فی الا رض برپا کر دیا تھا۔

آخر کار اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو اُن کی اوقات دکھائی۔ کورونا وائرس اللہ تعالیٰ کا ایک معمولی لشکر ہے۔دیکھیں اس نے انسانوں کا فخرو غرور کس طرح خاک میں ملا دیا۔ پاکستان میں دیکھ لیں یہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔ آپ ٹیلی وڑن پر فحش ناچ اور گانے کے پروگرام دیکھیں فلمیں ایسی بن رہی ہیں کہ بھارتی فلموں سے زیادہ بے حیائی سے بھرے ناچ دکھائے جا رہے ہیں۔ کئی ملکوں کے باشندے سانپ، چمگادڑ، کتے، مینڈک اور چھپکلیاں تک کھا جاتے ہیں۔ چوہوں کے چھوٹے بچوں کو سرکے میں ڈبو کر کھا جاتے ہیں۔ مسلمان تو اسلام کے احکامات کے مطابق بہت صاف اور پاکیزہ اشیاء کھاتے ہیں۔

وہ لوگ جو اس ملک کے اربوں ڈالر باہر لے گئے۔ کیا کسی کو سزا ملی اور کیا دولت واپس آئی۔ یہ تمام قومی مجرم قیدوں سے رہا ہو کر دندناتے پھر رہے ہیں۔پروفیسر صاحب ان واقعات کی روشنی میں پاکستان کس رحم کا مستحق ہے؟پھر بھی ہم پاکستان کے لئے اللہ تعالیٰ سے رحم مانگتی ہیں۔

میں: مہر نگار آپ کی عمر ہی کیا ہے۔ یہ دور دراز کی تمام باتیں آپ کو کیسے معلوم ہیں۔

مہر نگار: پروفیسر صاحب ہم جب صبح سویرے حمد باری تعالیٰ کے بعد تلاش رزق میں نکلتے ہیں تو کسی نہ کسی مقام پر دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے پرندے آپس میں بات چیت کے دوران باہم معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ہم تینوں کو بھی اپنے ہم عمر پرندوں سے یہ معلومات ملتی رہتی ہیں۔ (جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -