غریب کی پکار۔۔!!!

غریب کی پکار۔۔!!!
غریب کی پکار۔۔!!!

  

 دن بدن مسائل بڑھ رہے ہیں اورعوام کے وسائل کم ہورہے ہیں،خط غربت سےنیچےزندگی گزارنےوالےدست سوال درازکرنے کےلیے سڑکوں پرنکل آئےہیں اورمڈل کلاس لوگ اس کشمکش میں ہیں کہ وہ بھیک تومانگ نہیں سکتے،نہ ان کےپاس اتناسرمایہ ہےکہ وہ گھروں میں بیٹھ کرمعاشی تنگدستی کےدن کاٹ سکیں،بدقسمتی سےجہاں امیرامیرتراورغریب غریب ترہونے کاماحول ہووہاں محرومیاں یوں جنم لیتی ہیں جیسے انہیں روکنے والا ہی کوئی نہ ہو لیکن یہ سلسلہ یوں ہی بھی تونہیں چلتارہناچاہیے،اسے کہیں نہ کہیں تو بریک لگنی چاہیے تاکہ انسان مرنے سے پہلے ہی نہ مرنے کاارادہ کرلے۔

ایک وہ دن تھے جب کسی سے کاروباریااس کی نوکری کے بارے میں پوچھتے تھے تو لوگ تسلی بخش جواب دیتے تھے اور اب جس کسی سے بھی حال چال پوچھا،خیرکی خبرکسی نے نہیں دی،برے حالات ہیں،دال روٹی کے لالے پڑے ہیں،کاروبار کرنے والے شدیدمندی کا رونا روتے نظرآتے ہیں اورملازمت پیشہ افرادکواپنی تنخواہوں کاعلم نہیں،کب ملیں گے،کتنی ملیں گی،یہ حالت پرائیویٹ شعبے میں ایسا ہے کہ بس نام مت لیجیے،کہیں کمپنیاں دیوالیہ ہورہی ہیں،کہیں ملازم فارغ ہورہے ہیں اورکہیں تنخواہوں کے انتظارمیں کچن سے سامان ختم ہو چکا

ہے،گوشت اورپھل کھانے کا کون سوچے گا،اب تو لوگ دال روٹی اور تن ڈھانپنے کے لیے کچھ نہ کچھ کپڑے مل جانے پر ہی خدا کاشکربجا لاتے ہیں۔

طویل عرصے بعد جب کچھ لکھنے کاارادہ کیاتومجھے اس وقت یہی مسئلہ سب سے بڑامسئلہ محسوس ہوا لہذا قلم اٹھایاتوایک نظم بھی لکھ دی،مجھے نہیں معلوم کہ یہ شعری اوزان اور رموزواوقاف کے مطابق ہے یا اس میں اوزان کی غلطیوں کی بھرمارہوگی،بحرحال معاشرے کی محرومیاں اور معاشی تنگدسی کے جومناظرمیں نے محسوس کیے،مجھے جو لگاکہ لوگ گویا یہ کہناچاہ رہے ہیں۔

ہم بھی بڑھیں گے آگے،یہ امکان کب رہا

اب دال،روٹی کھانا بھی آسان کب رہا

اےاہل اقتدار! یہی کام کیجیے،ہمیں ماردیجیے

سبزی،پھلوں کے بھاؤ،نہ دالیں ہیں پہنچ میں

جوتے،قمیض اورنہ شالیں ہیں پہنچ میں

اے اہل اقتدار! یہی کام کیجیے،ہمیں ماردیجیے

بجلی،نہ گیس ہے،چھت بھی نہیں ہے پاس

اوراس پہ ظلم یہ ہے کہ کوئی نہیں ہے آس

اے اہل اقتدار! یہی کام کیجیے،ہمیں ماردیجیے

بچے سکول جائیں گے،افسربنیں گے کل

ہم کویہ کب خبرتھی،کہ بدتربنیں گے کل

اے اہل اقتدار! یہی کام کیجیے،ہمیں ماردیجیے

میرے تمام خواب ہی ٹوٹے ہیں کیاکروں

شائدمرےنصیب ہی پھوٹےہیں کیاکروں

اے اہل اقتدار!یہی کام کیجیے،ہمیں ماردیجیے

معاملات جو بھی ہوں،حالات جیسےبھی ہوں،دانشمندی بحرحال یہی ہےکہ ہمت نہ ہاریں،آگے بڑھیں اورمحنت جاری رکھیں کہ ایک ذات وہ بھی ہےجس نےہمیں پیدا کیااورجب ہم محنت کرتے ہیں تو وہ فرماتاہے کہ’’محنت کرنےوالااللہ کادوست ہے‘‘اورجب وہ ذات دوست بن جائےتوپھرکیسےممکن ہےکہ انسان یوں ہی بےآسرارہے،یوں لاچار رہے،یوں بدقسمت رہے اوریوں ہی معاشی تنگدستی میں گھرا رہے۔۔

یقینا اگر وہ دن نہیں رہے توپھر یہ بھی نہیں رہیں گے۔۔ ایسے حالات میں اہل اقتداراورصاحب حیثیت افراد پریہ ذمہ داری ضرور عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختیارکااستعمال کرکے غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اس سے پہلے کہ بہت تاخیرہوجائے اور جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازاہے،جنہیں مال ودولت کی کمی نہیں،وہ حتی الامکان کوشش کریں کہ اپنے ملازمین،اپنے ہمسائیوں اور رشتے داروں کو معاشی طورپر مضبوط کریں تاکہ وہ بھی خوشحال زندگی گزار سکیں۔

 بلاگرمناظرعلی مختلف اخبارات اورٹی وی چینلز کےنیوزروم سے وابستہ رہ چکےہیں،آج کل لاہور کےایک ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں۔عوامی مسائل اجاگرکرنےکےلیےمختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں۔ان سےفیس بک آئی ڈی munazer.ali پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

https://dailypakistan.com.pk/20-Sep-2020/1186449

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -