نظریاتی سیاست کے اندھیرے اُجالے

نظریاتی سیاست کے اندھیرے اُجالے
نظریاتی سیاست کے اندھیرے اُجالے

  



کوئی دو ہفتے قبل مَیں اتوار کو انار کلی سے باہر مال روڈ پر لگنے والے پرانی کتابوں کے سٹالوں پر گیا۔وہاں پارک کی دیوار پر آویزاں ایک سرخ کپڑے کا بینر دکھائی دیا۔بینر کے عین نیچے کتابوں،رسالوں کا ایک سٹال تھا۔سرخ بینر اور کتابوں،رسالوں کے ٹائٹلوں کی سرخی صاف بتا رہی تھی کہ سوشلزم اور کمیونزم کے پرچارک ابھی پاکستانی سوسائٹی میں زندہ ہیں اور کچھ نہ کچھ متحرک بھی۔ورنہ سوویت یونین کے زوال سے لگتا تھا کہ اب کمیونزم کا تجربہ ناکام ہو گیا ہے۔اب سرمایہ دارانہ نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے بائیں بازو کو کوئی اور جاندار فلسفہ اور طریقہ کار اختیار کرنا پڑے گا۔معروف اشتراکی صحافی عبداللہ ملک مرحوم کے برادرِ اصغر جناب عبدالرؤف ملک نے اپنا چالیس سالہ پرانا اشاعتی ادارہ پیپلز پبلشنگ ہاؤس بند کر دیا اور تمام لٹریچر اونے پونے بیچ کر گھر جا بیٹھے کہ اب یہاں سوشلسٹ فلسفے سے کسی کو دلچسپی نہ رہی تھی، بلکہ ملک صاحب تو حج بھی کر آئے اور ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ”سرخ سیاست“ بھی چھپ گئی ہے۔

معذرت چاہتا ہوں بات ذرا دور نکل گئی، مَیں سرخ لٹریچر کے ایک سٹال کی بات کر رہا تھا۔ مذکورہ سٹال کے منتظمین مقامی کالجوں،یونیورسٹیوں کے چند طلبہ تھے۔مَیں نے ان سے چند کتابیں اور رسالے بھی خریدے اور ان کو گزشتہ صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی کی نظریاتی سیاست کے بارے میں بھی کافی کچھ بتایا،جب یہاں سوشلزم اور اسلام کے درمیان بحث مباحثہ خاصا گرم تھا۔ سوشلزم کے حامی مزدور، طلبہ اور دانشور حلقے ”ایشیا سرخ ہے“ اور اسلام پسند ”ایشیا سبز ہے“ کے نعرے لگایا کرتے تھے۔خاص طور سے پنجاب یونیورسٹی کو دونوں حلقوں نے اپنی لڑائی کا زبردست اکھاڑہ بنا رکھا تھا۔ اختلاف بحث مباحثے کی منزل سے آگے بڑھ کر ”گولی“ تک آ پہنچا تھا۔کئی طلبہ کی جانیں بھی چلی گئیں،لیکن دونوں میں سے کوئی حلقہ بھی اپنے ”انقلابی“رویوں پر نظرثانی کرنے پر تیار نہ تھا۔ پنجاب یونیورسٹی میں دونوں حلقوں کی طاقت تقریباً برابر برابر تھی، پھر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد بایاں بازو کمزور پڑنا شروع ہو گیا، لیکن اسلام پسند حلقے کو چند مزید برسوں تک اسلام کا نعرہ لگانے کا موقع مل گیا۔افغانستان سے روس کی پسپائی اور ضیاء الحق حکومت کے چند اقدامات نے اس حلقے کو اس وہم میں مبتلا کر دیا کہ اب ”اسلامی انقلاب“ کی منزل قریب آ گئی ہے،لیکن آج دونوں مذکورہ حلقے یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ ساری لڑائی جعلی تھی، کیونکہ سرمایہ دار ممالک نے چھوٹی قوموں کا استحصال جاری رکھنے کے لئے کچھ نئے طریقے وضع کر لیے تھے اور مارکسی حلقے ان کا مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئے تھے۔ ویسے بھی چین اور روس نے عالمی سطح پر سوشلسٹ فکر اور جدوجہد کی سرپرستی ترک کر دی۔

ایک نوجوان نے سوال کیا کہ آپ کے نزدیک مذکورہ دونوں نظریاتی گروہوں کی پسپائی کا کوئی بڑا سبب کیا ہے؟مَیں نے انہیں بتایا کہ مَیں دونوں حلقوں کی جدوجہد کا عمیق نظری سے مطالعہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دونوں نے اپنی سرزمین کو سمجھنے کی طرف توجہ نہ دی۔ان کے پاس خیالات تو بلاشبہ بہت عمدہ اور دلکش تھے۔ دونوں کے پاس مساوات اور عدل کی بھی بہت اچھی اچھی باتیں تھیں اور مخصوص اصطلاحات کی بکثرت تکرار تھی،لیکن دونوں نے مقامی معاشرے کا مزاج اور حقیقی مسائل و معاملات کو سمجھنے کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔راستے کی مزاحم قوتوں کی ماہیت اور ان کی وقت کے ساتھ ادلتی بدلتی حکمت عملیوں پر غور کیے بغیر جدوجہد سرا سر بے معنی تھی۔دونوں نے نہ جاگیرداروں کو قریب سے دیکھا اور نہ مقامی نئے سرمایہ دار طبقے کے حربوں کو سمجھا۔لیفٹ نے بھٹو کا نعرہ ”روٹی کپڑا اور مکان“ سنا تو اس کے گرویدہ ہو گئے۔ اسلام پسند جنرل ضیاء الحق کی پہلی تقریر سنتے ہی سجدہ ریز ہو گئے،کیونکہ انہوں نے پاکستان کی تاریخ میں پہلا حکمران ایسا دیکھا اور سُنا،جس نے اپنی تقریر باقاعدہ عربی خطبہ پڑھنے کے ساتھ شروع کی تھی۔ اگر یہ دونوں حلقے ریاستی قوتوں کے مفادات کا معروضی مطالعہ اور تجزیہ رکھتے تو کبھی بھٹو اور ضیاء کی تقریروں پر اعتبار کر کے اپنی منزل کھوٹی نہ کرتے۔ مَیں اپنے مخاطب ان معصوم طلبہ کو شاید ابھی اور بھی بہت کچھ بتاتا،لیکن اب دن کی روشنی میں شام کی سیاہی گھلنے لگی تھی اور کتابوں کے اسٹال بند ہونے لگے تھے!!

مزید : رائے /کالم