کیا ہائی کورٹس سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو حکم جاری نہیں کر سکتیں 

کیا ہائی کورٹس سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کو حکم جاری نہیں کر سکتیں 

  



 تجزیہ:سعید چودھری

خصوصی عدالت نے سابق صدر جنرل(ر) پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے پابندنہیں،صرف سپریم کورٹ کے احکامات کے پابند ہیں،خصوصی عدالت نے 19نومبر کو جنرل (ر)پرویز مشرف کے خلاف کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھاجس کے خلاف وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27نومبر کووزارت داخلہ کی درخواست پر خصوصی عدالت کوفیصلہ سنانے سے روک دیاجبکہ وفاقی حکومت کو 5دسمبر تک سنگین غداری کیس میں نیا پراسیکیوٹر تعینات کرنے کاحکم دیا،جمعرات کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران مذکورہ ریمارکس دیئے اورساتھ یہ بھی کہا کہ ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔خصوصی عدالت کس قانون کے تحت قائم ہوئی،اس کے کیا اختیارات ہیں،اس کے جج کون ہیں اور اس کے حکم کے خلاف اپیل کس عدالت میں دائر ہوسکتی ہے،اس بارے میں قانون کیا کہتاہے؟

آئین کے آرٹیکل 6کے تحت سنگین غداری کے الزام میں کارروائی کے لئے 1973ء میں پارلیمنٹ نے سنگین غداری کی سزاؤں کاقانون منظور کیاجو 29ستمبر1973ء کو نافذکیا گیا،اس قانون کااطلاق مارچ1956ء سے کیا گیا،اس قانون کے تحت طاقت سے آئین سبوتاژ کرنے یا ایسی کوشش کرنے کے اقدام پر ملزموں کے خلاف صرف وفاقی حکومت ہی استغاثہ دائر کرسکتی ہے، اس قانون میں جرم کے مرتکب افراد کے لئے عمر قیدیاموت کی سزائیں مقررہیں،آرٹیکل 6کے تحت ملزموں کے ٹرائل کے لئے "دی کریمینل لاء امینڈمنٹ (سپیشل کورٹ)ایکٹ "مجریہ1976ء کے تحت خصوصی عدالت قائم کی جاتی ہے،اس قانون کے سیکشن 4کے تحت حکومت ہائی کورٹس کے تین حاضر سروس ججوں پرمشتمل خصوصی عدالت کے قیام کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کرتی ہے۔اس وقت یہ عدالت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس وقار احمد سیٹھ،سندھ ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس نذر اکبر اورلاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم پر مشتمل ہے۔"دی کریمینل لاء امینڈمنٹ (سپیشل کورٹ)ایکٹ "کے سیکشن 6(1)کے تحت خصوصی عدالت کوٹرائل کے حوالے سے ہائی کورٹ کے اختیارات حاصل ہیں،اسی قانون کے سیکشن 12(1)میں کہاگیاہے کہ کوئی عدالت اس خصوصی عدالت کے دائرہ اختیار میں مداخلت نہیں کرسکتی،اسی طرح خصوصی عدالت کے احکامات،فیصلے اور سنائی گئی سزاؤں کا کوئی عدالت یا کوئی دوسری اتھارٹی جائزہ نہیں لے سکتی،"دی کریمینل لاء امینڈمنٹ (سپیشل کورٹ)ایکٹ " مجریہ 1976ء کے سیکشن 12(3)کے مطابق خصوصی عدالت کے حتمی فیصلے کے خلاف 30دن کے اندرسپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جاسکتی ہے۔خصوصی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کسی ہائی کورٹ میں دائر نہیں ہوسکتی،دوسری طرف ہائی کورٹس کو بھی آئین کے آرٹیکل199کے تحت قانون کی عمل داری کے لئے احکامات جاری کرنے کااختیار حاصل ہے۔

 ہو یہ رہاہے کہ ہائی کورٹس میں قانون کی عمل داری کے لئے ان نکات پر درخواستیں دائر کی جارہی ہیں جن کے فیصلے کاخصوصی عدالت کے ٹرائل پر فرق پڑتاہے،جیسا کہ وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ اسے پرویز مشرف کیس میں نیاپراسیکیوٹر مقرر کرنے کا موقع دیاجائے،اسی طرح لاہور ہائی کورٹ میں خصوصی عدالت کی تشکیل کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیاہے،اس سے قبل جنرل (ر) پرویز مشرف نے اپنے خلاف ریفرنس کو اس بنیاد پراسلام آبادہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا کہ دیگر لوگوں کوکیس میں ملزم نہیں بنایا گیا،میرے خلاف امتیازی سلوک کیا جارہاہے،مذکورہ مقدمات میں کسی کی طرف سے ہائی کورٹس کے دائرہ اختیار کو چیلنج ہی نہیں کیا گیا،دائرہ اختیار کو چیلنج توحکومت یا اس کی پراسیکیوشن ٹیم نے کرناتھالیکن یہاں تو خود حکومت اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست گزار ہے،ایسا کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ خصوصی عدالت کے حتمی فیصلے کے خلاف اپیل کا اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے لیکن خصوصی عدالت کے عبوری احکامات کے آئینی جواز کی بابت ہائی کورٹ سے رجوع کیا جاسکتاہے،ماضی میں بھی ایک ایسا موقع آیاتھا جب لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی شرعی عدالت مختاراں مائی کیس میں اختیارات کے حوالے سے آمنے سامنے آگئی تھیں،لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ نے مختاراں مائی کیس کے تمام ملزمان بری کردیئے تھے جس کا وفاقی شرعی عدالت نے ازخود نوٹس لے لیااور کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو تو اس کیس کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں،آخر کار سپریم کورٹ کو اس معاملہ کا ازخود نوٹس لینا پڑا تھا،اب خصوصی عدالت کے ججوں نے جوریمارکس دیئے ہیں وہ قابل توجہ ہیں،خصوصی عدالت نے ان ریمارکس کے باوجود عملی طور پراسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کو ماننے سے انکارنہیں کیاجو ایک خوش آئند بات ہے۔خصوصی عدالت کے اختیارات اور تشکیل سے متعلقہ قوانین قارئین کے سامنے رکھ دیئے ہیں،ہائی کورٹس اورخصوصی عدالت کے دائرہ اختیار کے حوالے سے آنے والے دنوں میں کیا ڈویلپمنٹ ہوتی ہے،اس کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہے،اگرتنازع ریمارکس سے آگے بڑھ جاتاہے تو پھر حتمی بات وہی ہوگی جس کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی۔

مزید : تجزیہ