عمران بضد،2نومبر، دھرنا ہوگا، کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت

عمران بضد،2نومبر، دھرنا ہوگا، کارکنوں کو تیار رہنے کی ہدایت

تجزیہ:چودھری خادم حسین

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے شکوہ کیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود ان کی جماعت کے کارکنوں کو پکڑا جارہا ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کا نوٹس لیا جائے کیا سارے قانون اور حکم ہمارے لئے ہیں، اس کے بعد گزشتہ صبح انہوں نے بنی گالا میں موجود کارکنوں کو تیار رہنے اور گرفتاریوں سے بچنے کی ہدائت کی اور فخریہ انداز میں کہا اسلام آباد اور راولپنڈی میں جو ہوا وہ تونیٹ پر یکٹس تھی، میچ تو 2نومبر کو ہوگا، انہوں نے کارکنوں سے کہا کہ وہ دھرنا میں شرکت کے لئے آئیں، انہوں نے اسلام آباد لاک ڈاؤن کے الفاظ استعمال نہیں کئے کہ ان کے وکلاء عدالت کے روبرو یہ بیان دے چکے ہیں کہ اسلام آباد بند نہیں کیا جائے گا، بہر حال دھرنا ہوگا تو جو مقام تحریک انصاف نے متعین کیا ہے اس سے ازخود اسلام آباد کے مواصلاتی رابطے بری طرح متاثر ہوں گے، دوسری طرف حکومت مطمئن ہے کہ جمعرات اور جمعہ کو جو کارروائی ہوئی اس کے نتائج حوصلہ افزا ہیں اور اب یہ حکمت عملی بنالی گئی ہے کیونکہ پنجاب کے متعدد اضلاع میں دفعہ 144(ض ف) نافذ ہوتی چلی جا رہی ہے، اس میں واضح پیغام ملتا ہے کہ قافلے روکے جائیں گے، عمران خان نے گزشتہ صبح بنی گالا کی رہائش سے باہر آ کر کارکنوں کے ساتھ چہل قدمی کی اور یہ ہدائت بھی کی کہ کارکن سامنے سے نہ آئیں کہ تھوڑے لوگ آئیں تو پولیس گرفتار کرلیتی ہے، عمران خان کی گزشتہ صبح کی گفتگو سے یہی تاثر ملتا ہے کہ وہ بنی گالا میں زیادہ سے زیادہ لوگ چاہتے ہیں تاکہ جب فیض آباد موڑ کی طرف چلیں تو پولیس کی رکاوٹوں کو عبور کر سکیں۔

کل (سوموار) اسلام آبادہائی کورٹ میں سماعت ہے عمران خان کہہ چکے ہیں کہ یہاں ان کے وکیل جائیں گے البتہ وہ یکم نومبر کو عدالت عظمیٰ ضرور جائیں گے جہاں پانچ رکنی بنچ پاناما لیکس کے حوالے سے درخواستوں کی سماعت شروع کرے گا،اب بڑی دلچسپ صورت حال ہے، فریقین اعلان کرتے ہیں کہ عدالتی حکم تسلیم کریں گے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ ہدائت کی ہوئی ہے کہ نہ تو عمران خان راستے بند کریں گے اور نہ ہی انتظامیہ خود کنٹینر لگا کر راستے بند کرے گی، کنٹینر ہٹانے کی ہدایت کی گئی اس کی تعمیل کردی گئی ہے، عدالت نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ حکومت احتجاجی دھرنا کے لئے جگہ مخصوص کرکے بتائے ، تحریک انصاف اور انتظامیہ آپس میں طے کر لیں کہ کہاں احتجاجی دھرنا ہوگا، شہریوں کو آمدورفت میں دشواری نہیں ہونا چاہیے، فریقین نے 31۔اکتوبر کا انتظار نہیں کیا اور ٹکراؤ شروع ہو گیا ہے، حالانکہ حالات پر سکون ہونا چاہئیں تھے کہ 31۔اکتوبر کو عدالت میں معاملات طے پا جاتے ، لیکن ایسا نہیں ہوا، اب عدالت خود دریافت کرے گی کہ کیا ہوا اور کیوں ہوا کہ عدالت نے ہدائت بھی کر رکھی ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ دونوں فریق اگر عدالت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں تو پھر فیصلوں پراعتماد کا اظہار کرتے ہیں تو پھر فیصلوں پربھی اعتماد اورعمل کریں، صرف زبان سے اعتماد کہنا کافی نہیں، عمل سے بھی ظاہر ہونا چاہیے۔

فریقین جس بند گلی میں پھنس چکے ہیں، اب اس کا بھی تقاضہ ہے کہ سوموار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو کوئی مثبت فیصلہ کرلیں جس کے تحت باہمی رضا مندی سے جگہ کا تعین ہو جائے اور وہاں جلسہ اور دھرنا ہو جائے انتظامیہ پکڑ دھکٹر بند کردے، اس سے پولیس کارروائی کی بھی نوبت نہیں آئے گی اور پر امن طور پر معاملات نمٹ جائیں گے، اس اثناء میں عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بنچ بھی سماعت مکمل کرکے فیصلہ سنادے گا، فریقین کو کھلے دل سے اسے قبول کرناچاہیے کہ یہ موجودہ ڈیڈ لاک کا حل ہے، اس کے بعد تحریک انصاف کو بھی سڑکوں کی بجائے پارلیمنٹ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اپنی توانائیاں اس فورم پر صرف کرنا چاہئیں۔

اگرپرامن حل قبول نہیں کیا جاتا اور بدستور’’طاقت‘‘ ہی کو محور بنایا جاتا ہے تو پھر یکم اور 2نومبر کو صورت حال خراب ہوگی کہ قافلوں کو روکا جائے گا تو ’’طاقت‘‘ کا استعمال بھی ہوگا، سندھ سے آنے والوں کو صادق آباد سے آگے سندھ، پنجاب سر حد پر روکا جائے گا اور خیبر پختونخوا والوں کو اٹک پر روکنا ہوگا، یہاں چونکہ تحریک انصاف والے زیادہ بڑے قافلے کے ساتھ داخل ہوں گے تو خرابی بھی اسی تناسب سے ہوگی اس لئے بہتر عمل یہی ہے کہ یکم سے پہلے معقول معاہدہ کرلیا جائے اور یہ موقع مل چکا ہے، دونوں طرف سے عدالتی احکام پر سر تسلیم خم کرنے کی بھی بات کی جارہی ہے، عدالت کے روبرو دلائل کے ذریعے بات مانی جاسکتی ہے، بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف کسی دوسرے مقام پر رضا مند ہو جائے کہ شہریوں کو بھی پریشانی نہ ہو، جہاں تک شہروں میں احتجاج کا تعلق ہے تو جو اندازآج کل اپنایا جاتا ہے، اس کے لئے تو دو درجن ارکان درکار ہیں جو ٹائر جلا کر اور کسی چوک میں دھرنا دے کر ٹریفک بلاک کر سکتے ہیں آج کے دور میں گاڑیاں بھی بہت ہیں، ایک چوراہا کئی ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک جام کا ذریعہ بن جاتا ہے لیکن یہ بھی دیکھا جائے کہ جن عوام کے لئے احتجاج کیا جاتا ہے اور جن کے لئے ریاست طاقت استعمال کرتی ہے وہ تو پریشان ہوتے ہی ہیں۔

باقی رہ گیا، امپائر اور امپائر کی انگلی اٹھنے کی بات، اب عمران نے اللہ کو امپائر قرار دے دیا، شیخ رشید نے قصائی کو بھگا دیا یوں اب مقابلہ دل نا تو ان والا ہے، اس لئے فریقین سے یہی اپیل کی جاسکتی ہے کہ حالات کو خراب نہ کریں، عوام پریشان ہوتے اور مشکلات میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

عمران بضد

مزید : تجزیہ