ہماری سیاسی جماعتیں؟

ہماری سیاسی جماعتیں؟
ہماری سیاسی جماعتیں؟

  

حالات یہ ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسلم لیگ(ن) ہی نہیں،بلکہ اکثر دیگر جماعتیں موروثی جائیدادیں تصور کی جاتی ہیں۔جن ورکرز کا نام لے لے کر جلسوں میں گرمجوشی بھر دی جاتی ہے،جن عوام کے حقوق کی خاطر جان دینے کی بات کی جاتی ہے، اُن سے پوچھا ہی نہیں جاتا کہ ان کی کیا مرضی ہے؟ان پر اعتماد ہی نہیں کیا جاتا کہ جمہوریت کی علمبردار سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی جمہوری طریقے سے تبدیل ہو، نا کہ موروثی طریقے سے۔

پھر بقول حضرت سلطان باہوؒ ۔۔۔ ’’ایمان سلامت تو ہر کوئی آکھے عشق سلامت کوئی نہ ہُو‘‘۔۔۔ جان دینے کی تو سبھی بات کرتے ہیں ، مال دینے کی کوئی بات نہیں کرتا۔نہ اپنا نہ پرایا، سیاسی جماعتوں کو مہذب معاشروں میں جمہوریت کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے،جس جمہوریت کی بنیاد ہی حقِ وراثت پر رکھی جائے گی،چاہے وہ فضل الرحمن کی جے یو آئی(ف) ہو، وہ اے این پی ہو یا پی پی پی ہو، مسلم لیگ(ن) ہو، پختونخوا ملی عوامی پارٹی ہو یا دیگر جماعتیں ہوں تو پھر جمہوریت کا حال بھی اسی طرح بدترین بادشاہت سے بھی بُرا ہی ہو گا۔

اِسی منفی نقطہ نظر پر مبنی سوچ کی وجہ سے ہی سیاسی جماعتوں میں ورکرز کو ہمیشہ معتوب گردانا جاتا ہے، کیونکہ خطرہ یہ ہوتا ہے کہ جو ورکر اصولوں کی خاطر اپنی جان کی پروا نہ کرے ، آمروں اور غاصبوں کے آگے سینہ تان کر کھڑا ہو جائے، وہ اپنی پارٹی میں بھی تو یہ بغاوت کر سکتا ہے تو کیوں ایسے بے ادب کو ترجیح دی جائے؟اس طرح ابن الوقت اور خوشامدی ٹولے کی بن آتی ہے، جسے اِس لئے پسند کیا جاتا ہے کہ ان کی سرشت میں بھی جی حضوری ہوتی ہے۔

وہ نہ تو اصول جیسی بدعت کو پسند کرتے ہیں اور نہ اختلاف رائے جیسی برائی کا شکار ہوتے ہیں۔یہ ایک ایسی خوبی ہے جو پاکستانی معاشرے اور پاکستانی سیاست میں ترقی کا زینہ ہے۔

یقین نہ ہو تو ظفر اللہ جمالی اور شیخ رشید احمد کے بیانات ملاحظہ فرما لیں۔میر صاحب نے فرمایا کہ 40 لوگ ہیں جو مسلم لیگ(ن) چھوڑنے کو بالکل تیار ہیں۔ شیخ رشید احمد کا دیا گیا ہندسہ60 لوگوں کا ہے اور یہ عام لوگ نہیں، خاص ایم این اے حضرات و خواتین ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ مسلم لیگ(ن) والے تھے یا ہیں یا کبھی ان کی کوئی سیاسی جماعت رہی بھی ہے۔

اگر مجھ سے پوچھا جائے تو مَیں یہی کہوں گا یہ سب اور اسی قبیل کے دیگر بہت سے نہ کسی جماعت کے رکن ہیں، نہ رہے ہیں اور نہ رہ سکتے ہیں۔یہ اپنی ذات میں ایک جماعت ہیں۔ ان کا ذاتی مفاد ان کا منشور اور اقتدار ان کا اصول ہوتا ہے۔ یقین نہ آئے تو دیکھ لیں کہ مجوزہ فہرست میں سے ظاہر ہونے والے کون لوگ ہیں،وہی نہ جو پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو یا نواز شریف کے ساتھی رہے، پھر جنرل پرویز مشرف کی حب الوطنی انہیں بھا گئی، پھر مسلم لیگ(ن) نے باوجود بہت ساری بیان بازیوں کے کھلے دِل، کھلی بانہوں اور جیبوں کے ساتھ اُنہیں قبول کیا۔ اب اگر مسلم لیگ(ن) کی قیادت عدالتی فیصلے کے بعد ان کے محسوسات کے مطابق اقتدار سے ہٹ جانے والی ہے تو وہ کیوں اقتدار سے دور رہیں؟ان لوگوں کو کیا فرق پڑتا ہے کہ آنے والا کون ہے؟ ان کے نزدیک تو کسی شخص کی، جماعت کی، یا نظریے کی کوئی اہمیت نہیں،ان کا محبوب تو اقتدار تھا، اقتدار ہے اور اقتدار ہی رہے گا۔

اگر اِس معاملے پر مزید معلومات چاہئیں تو وہ 1750ء کے بعد کی برصغیر کی تاریخ پڑھ لیں، آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ فہرست میں سے لوگوں کا اخراج اور نیا داخلہ ہوتا تو رہا، لیکن عمومی طور پر ایک مخصوص سوچ کے حامل لوگ تھے، جو مغلوں، سکھ جتھوں و رنجیت سنگھ اور انگریزوں کے ادوار میں صاحب اقتدار تھے، آج تک ہیں اور لگتا یہ ہے کہ تا ابد رہیں گے،کیونکہ ان لوگوں کے پاس گیدڑ سنگھی بھی پتہ نہیں کون سی ہے،جس کے آگے بڑے بڑے سورما، بڑے بڑے رہنما، بڑے بڑے نظریاتی اس طرح بے بس ہوتے ہیں کہ پوچھو ہی نہ۔

آپ اپنے عمران خان کی مثال ہی لیں،وہ جماعت جس کا نعرہ ہی نیا پاکستان تھا اور یہ کریڈٹ بہرحال جاتا بھی انہی کو ہے کہ انہوں نے کرپشن کے خلاف ایک قومی بیانیہ کی تن تنہا بنیاد رکھی اور اُسے کامیابی سے آگے لے جا رہے ہیں،وہاں بھی ہر وہ شخص، جس کو بمطابق اصول اور پارٹی نظریہ تحریک انصاف میں ہونا ہی نہیں چاہئے تھا، وہ اتنا اہم ہے کہ اُس کے لئے خود خان صاحب اپنے اصول قربان کرتے نظر آتے ہیں اور ان پر اس طرح صدقے واری ہوتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بات سننا بھی اُنہیں پسند نہیں،اگر میری بات پر یقین نہ آئے تو جہانگیر ترین کیس کو دیکھ لیں۔

عمران خان اور تحریک انصاف کا یہ نعرہ ہے کہ جو شخص پاکستان سے دولت لے جا کر بیرون مُلک جائیداد بناتا ہے چاہے یہ دولت کالا دھن ہو یا سفید، اُسے پاکستان میں سیاست کرنے اور لوگوں کی قیادت کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنے کا کوئی حق نہیں۔ یہ اتنا زبردست نعرہ تھا کہ مجھ ایسے بہت سے جذباتی لوگ خان صاحب کے سحر میں مبتلا ہو گئے۔

آج حالات یہ ہیں کہ جہانگیر ترین کے اپنے موقف کے مطابق انہوں نے پاکستان سے پیسہ باہر لے جا کر اپنے بچوں کے نام پر جائیدادیں بنائیں اور یہ اربوں روپے کی جائیدادیں آج تک ان کی ہیں۔ جہانگیر ترین کے بچوں کے زیر قبضہ ہیں اور جہانگیر ترین تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ہیں اور خدا معلوم کب تک رہیں گے۔

وہ عمران خان جو اپنی نااہلی کو بھی کرپشن کے خلاف جنگ میں بہت چھوٹی قربانی بیان کرتے ہیں اور حقیقت میں بھی ایسا ہی لگتا ہے،کیونکہ کرپشن کے خلاف ان کا سٹینڈ بہرحال ایک امید کی کرن ہے، وہ بھی آج تک یہ حوصلہ نہیں کر پائے کہ جہانگیر ترین سے کہہ سکیں کہ صاحب بس اب آپ تشریف رکھیں۔آپ ہمارے اپنے بنائے ہوئے اصول کے مطابق اس کے اہل نہیں کہ خود کو لوگوں کی قیادت کے لئے پیش کر سکیں۔ اگر یہی حالات ہیں اور یہ تحریک انصاف کے حالات ہیں تو کیسی سیاست، کیسی سیاسی جماعتیں اور کیسی جمہوریت؟

مزید :

کالم -