شیرگڑھ، تمباکو کاشتکاروں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

شیرگڑھ، تمباکو کاشتکاروں کا مطالبات کے حق میں مظاہرہ

  

 شیرگڑھ(نامہ نگار) شیر گڑھ میں کسان بورڈ کے زیر اہتمام تمباکو کاشتکاروں کا احتجاجی مظاہرہ ہوا.مظاہرے سے کسان بورڈ خیبر پختون خوا کے صدر رضوان اللہ خان، عبدالغفور،  محمد نور،حاجی شیر علی خان اورحاجی قاسم نے خطاب کیااس موقع پر ممتاز کاشتکاران حاجی نعمت اللہ،حاجی نور محمد اور یعقوب خان آف اشراف الدین کلے بھی موجود تھے مقررین نے تمباکو خریداری میں سست روی اور بدانتظامی پر شدید تشویش کا اظہار کیا.انہوں نے کہا کہ خریدار کمپنیاں مختلف ہتھکنڈے استعمال کر کے کاشتکاروں کا بدترین استحصال کر رہی ہیں ٹوبیکو بورڈ کی غفلت اور لاپرواہی ان کمپنیوں کو مزید شہہ دے رہی ہیں کہ وہ کاشتکاروں کا استحصال بلاخوف و خطر جاری رکھیں.نہوں نے کہا کہ 12 اگست کو ٹوبیکو بورڈ اور کمپنیوں کے ساتھ فیصلہ ہوا تھا کہ پی ٹی سی کمپنی اعلان شدہ کوٹے سے 4 ملین کلو گرام زیادہ تمباکو خریدنے گی لیکن اس وعدے کے باوجود کمپنی خریداری نہیں کر رہی. جس سے کاشتکار شدید معاشی دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں. انہوں نے چیئرمین پاکستان ٹوبیکو بورڈ اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی اور دیگر کمپنیوں کو اعلان شدہ اضافی کوٹے کے مطابق تمباکو خریدنے پر مجبور کیا جائے تاکہ کاشتکاروں کا اعتماد بحال ہو اور زرعی شعبے میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکیں گر کاشتکار کو معاشی تباہی سے بچانے کی کوشش نہیں کی گئی تو اس کے ملکی معیشت پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے. رضوان اللہ خان نے کہا کہ ایگریمنٹ ہولڈرز کی خریداری 2100 پر بند کرنا، ڈاؤن گریڈنگ کرنا اضافی کوٹے کے اعلان کے باوجود تمباکو نہ خریدنا کاشتکاروں کے ساتھ بدترین ظلم ہے جسے ہر صورت بند ہونا چاہییانہوں نے کہا کہ پی ٹی سی ایگریمنٹ ہولڈرز سے تو تمباکو نہیں خرید رہی ہے لیکن ڈپؤں میں صبح سے شام تک خریداری جاری ہے کاشتکاروں کو علم نہیں کہ یہ تمباکو کہاں سے آ رہا ہے؟یہ اطلاعات بھی ہے کہ شیر گڑھ کے خریداری مراکز میں حسن ابدال سے تمباکو آرہا ہے. جو رشوت خوری، بد انتظامی اور دھوکے کی بدترین مثال ہے. رضوان اللہ خان نے کہا کہ کاشتکاروں سے مشورہ کیے بغیر بعض ڈپؤں کو بند کر دیا گیا ہے جس سے کاشتکاروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے. ھم ٹوبیکو بورڈ کے چیئرمین اور مرکزی وزیر زراعت جناب فخر امام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کمپنیوں کو دوبارہ بند مراکز کھولنے پر مجبور کر ے ورنہ بھر پور احتجاجی تحریک چلائیں گے.

مزید :

پشاورصفحہ آخر -