ٹرانسپورٹ کے کرائے

ٹرانسپورٹ کے کرائے

شاید بچوں اور نوجوانوں کو یقین نہ آئے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی دور میں سرکاری محکمے عوام کے چھوٹے موٹے مسائل حل کرنے میں خصوصی دلچسپی لیتے تھے۔ کوشش یہ ہوتی تھی کہ عوامی مشکلات کو کم سے کم سطح پر رکھا جائے اور عوام کے لئے آسانیاں پیدا کی جائیں۔ شاید صوبائی سطح پر روڈ ٹرانسپورٹ ٹائپ کی کوئی اتھارٹی ہوا کرتی تھی،جو ٹرانسپورٹ کے کرائے مقرر کرتی تھی۔ان کا نفاذ یقینی بناتی تھی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو بھاری جرمانے کئے جاتے تھے۔ایک منظورشدہ کرایہ نامہ بھی ہوتا تھا،جسے پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیوں میں چسپاں کیا جاتا تھا،تاکہ عوام کی منظورشدہ کرایوں پر نظر رہے اور ٹرانسپورٹروں کو من مانے کرائے وصول کرنے کی جرات نہ ہو۔اب معلوم نہیں سیکرٹری روڈ ٹرانسپورٹ وغیرہ کی کوئی پوسٹ ہے بھی یا نہیں۔بہرحال اگر کوئی ایسی پوسٹ ہے تو عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ، کیونکہ کرائے مقرر کرنے یا ان پر عمل کروانے کا رواج اب ختم ہوچکا ہے۔روڈ ٹرانسپورٹ والے شاید اب کوئی اور کام کرتے ہوں گے، لیکن ہمارے علم میں یہ بات ہرگز نہیں کہ کبھی کرائے وغیرہ مقرر کئے گئے ہوں یا ان پر عمل کروایا گیا ہو۔ لاہور شہر کے بارے میں ہم کچھ کہہ نہیں سکتے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے کے عذاب سے بچایا ہوا ہے، لیکن یہ بات ہمارے علم میں ضرور ہے کہ چھوٹے موٹے شہروں، قصبوں اور انٹرسٹی روٹس پر کرائے وغیرہ مقرر کرنے ،ان پر عمل کروانے اور کرایہ نامہ آویزاں کرنے کی بدعت اب تقریباً ختم ہوچکی ہے۔گزشتہ دنوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں ،جن میں پٹرول، ڈیزل وغیرہ شامل ہیں،دوبار کمی ہوئی ، لیکن کرایوں میں کمی کرنے کے مسئلے پر ہُوکا عالم رہا۔لوٹ کھسوٹ ،چھینا جھپٹی اور جیب تراشی کے اس دور میں ٹرانسپورٹروں کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ وہ کرائے کم کرکے اپنی آمدنیوں کو معقول سطح پر لے آئیں،جو کام ان کو کرنا چاہیے تھا، وہ بڑے اہتمام سے کرتے رہتے ہیں۔جب بھی پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہا ہے تو وہ خاموشی کے ساتھ مسلسل کرائے بڑھاتے رہتے ہیں،جب بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھو رہے ہیں تو وہ اس میں اشنان کرنے کی نعمت سے کیوں محروم رہیں؟ حرص اور لالچ کی بھی کوئی حد ہونی چاہیے،لیکن پاکستانی قوم یہ حدیں پھلانگ چکی ہے۔دنیا عالمی پائے کے سائنسدان پیدا کررہی ہے۔سائنس اور دیگرشعبوں میں نئی نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں۔ہم سائنسدان وغیرہ تو پیدا نہیں کررہے،ایسی ہستیاں ضرور پیدا کررہے ہیں، جو دولت جمع کرنے میں عالمی اہمیت کی حامل ہوں اور اقوام عالم میں ان کا کوئی مقام ہو.... اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو انشاءاللہ وہ دن ضرور آئے گا ،جب امیر ترین افراد والے ممالک میں ہم سرفہرست ہوں گے۔ سرکاری محکمے تو وہی کام کریں گے ،جن میں ان کو فائدہ ہوگا اور مال پانی ملے گا،کرائے کم کروانے سے ان کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، الٹا ان کی منتھلی وغیرہ کا نقصان ہوگا۔رہی بات میڈیا کی تو میڈیا کے بڑے بڑے اینکر حضرات بڑی بڑی گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ سے ان کو کوئی دلچسپی نہیں....پھر ان کے پاس قومی سطح کے لاتعداد بڑے بڑے ایشوز موجود ہیں۔عنقریب ان کا بہت کام نکلنے والا ہے۔جب موجودہ وزیراعظم کو سوئس عدالتوںکو خط لکھنے جیسے معاملات کا سامنا کرناپڑے گا۔اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے اینکر حضرات اور میڈیا نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے، کیونکہ کچھ معلوم نہیں کہ انہیں کب میدان میں کودنا پڑے اور اہم قومی امور پر عوام کو مشتعل کرکے سڑکوں پر لانے کا نیک فریضہ ادا کرنا پڑے۔ان حالات میں امید کم ہی ہے کہ ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کروانے میں عوام کو کسی جانب سے کسی قسم کی مدد یاسپورٹ مل سکے۔ان حالات میں عوام صبر شکر کریں۔ گرمی بھی زیادہ ہے اور سفر کرنے سے حتیٰ الامکان پرہیز کریں۔موجودہ حالات میں کوئی بھی عوام کی مدد نہیں کرے گا۔

مزید : کالم