جرمنی نے تاریخ بھلا کر ایک بار پھر جنگ کی تیاری شروع کردی، کیا تیسری عالمی جنگ ہونے والی ہے؟

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن) جرمنی کی فوج بنڈس ویر کو حال ہی میں پارلیمنٹ سے بڑے پیمانے پر بجٹ میں اضافے کی منظوری مل گئی ہے، کیونکہ دفاعی اخراجات کو قرض سے متعلق سخت قوانین سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ جرمنی کے اعلیٰ فوجی جنرل کارسٹن بروئر کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ فوری طور پر ضروری تھا، کیونکہ انہیں یقین ہے کہ روسی جارحیت یوکرین تک محدود نہیں رہے گی۔
انہوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا "ہمیں روس اور پیوٹن سے خطرہ ہے۔ ہمیں جو بھی ضروری ہو کرنا ہوگا تاکہ اس خطرے کو روکا جا سکے۔" جنرل بروئر نے خبردار کیا کہ نیٹو کو آئندہ چار سالوں میں ممکنہ حملے کے لیے تیار رہنا ہوگا۔
روس کے یوکرین پر مکمل حملے نے جرمنی کی سوچ کو یکسر بدل دیا ہے۔ دہائیوں تک جرمنی میں عسکری طاقت کی مخالفت کی جاتی رہی ہے، کیونکہ ملک کو یورپ میں جارحیت کے اپنے ماضی کا شدید احساس ہے۔ ماہرین کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد جرمن معاشرے میں یہ سوچ راسخ ہو چکی تھی کہ جرمنی کو جنگوں سے دور رہنا چاہیے۔
مگر روس کے ساتھ تعلقات کے معاملے میں جرمنی کا رویہ دیگر یورپی ممالک سے مختلف رہا۔ جب پولینڈ اور بالٹک ریاستوں نے ماسکو کے قریب جانے کے خلاف خبردار کیا اور اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا، تب برلن نے سابق چانسلر انگیلا میرکل کی قیادت میں روس کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم رکھنے پر زور دیا۔ تاہم اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ روس نے اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے باوجود یوکرین پر حملہ کر دیا۔
فروری 2022 میں چانسلر اولاف شولز نے قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی ("زائٹن وینڈے") کا اعلان کیا اور فوج کے لیے 100 ارب یورو کا اضافی بجٹ مختص کیا تاکہ "پیوٹن جیسے جنگ پسندوں" کو روکا جا سکے۔ مگر جنرل بروئر کے مطابق یہ رقم ناکافی رہی۔
انہوں نے بتایا کہ "ہم نے صرف کچھ پرانے مسائل کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی، لیکن صورت حال بدستور خراب ہے۔" ان کے مطابق روس نے بڑے پیمانے پر ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان پر سرمایہ کاری کی ہے اور نہ صرف جنگ کے میدان میں بلکہ سائبر حملوں، تخریب کاری اور خفیہ ڈرون سرگرمیوں کے ذریعے بھی خطرہ پیدا کر رہا ہے۔
حالیہ پارلیمانی رپورٹ میں بنڈس ویر کو "ہر چیز کی کمی کا شکار" قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جرمن فوج کو گولہ بارود، فوجیوں اور یہاں تک کہ بنیادی سہولیات کی بھی شدید قلت کا سامنا ہے اور فوجی بیرکوں کی بحالی کے لیے 67 ارب یورو درکار ہیں۔ جنرل بروئر کا کہنا ہے کہ نئے قرض کے حصول کی اجازت دینے سے فوج کو مستقل مالی وسائل میسر آئیں گے، جس سے ان مسائل کو حل کیا جا سکے گا۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق، 79 فیصد جرمن شہری پیوٹن کو یورپ کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ 74 فیصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی یورپی سلامتی کے لیے ایک ممکنہ خطرہ تصور کرتے ہیں۔ جرمنی میں فوجی قوت بڑھانے کے حوالے سے روایتی محتاط رویہ اب تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ نوجوان نسل بھی اب فوجی سرمایہ کاری کو ضروری سمجھنے لگی ہے۔
لیکن صرف ہتھیاروں کی خریداری کافی نہیں بلکہ فوج میں افرادی قوت کی بھی شدید کمی ہے۔ جنرل بروئر کے مطابق جرمنی کو ایک لاکھ اضافی فوجیوں کی ضرورت ہے تاکہ ملک اور نیٹو کے مشرقی حصے کا مناسب دفاع کیا جا سکے۔ اس کے لیے وہ لازمی فوجی سروس کی واپسی کو "ناگزیر" قرار دیتے ہیں۔ وہ عوامی اجتماعات میں شرکت کرتے ہیں اور کھل کر سوال کرتے ہیں: "کیا آپ جنگ کے لیے تیار ہیں؟"
جب ایک خاتون نے ان سے کہا کہ ان کے بیانات انہیں خوفزدہ کر رہے ہیں، تو جنرل بروئر نے جواب دیا، "یہ میں نہیں، بلکہ پیوٹن ہے جو آپ کو خوفزدہ کر رہا ہے۔"