پاکستانی قوم لیڈر شپ سے محروم

پاکستانی قوم لیڈر شپ سے محروم
پاکستانی قوم لیڈر شپ سے محروم

  

دنیا میں جب انسانوں کی تعداد بڑھنا شروع ہوئی تو قبائلی نظام کی بنیاد پڑی اور سرداری نظام وجود میں آیا اور عقل مند سرداروں نے اپنے قبیلوں کو دوسروں پر ہمیشہ نمایاں رکھا برصغیر میں عقل مند بادشاہوں نے بڑی بڑی سلطنتوں پر حکمرانی کی، سپین پر مسلمان دانشور سلطانوں نے یورپ پر کنٹرول رکھا اور کم عقلوں نے تباہی پھیلائی قائداعظم محمد علی جناح کی بہترین لیڈر شپ میں مسلمانوں نے پاکستان حاصل کیا نالائق لیڈروں نے آدھا پاکستان گنوا دیا جنگ عظیم دوئم میں چرچل جیسے لیڈروں نے حوصلہ سے قوم کو مضبوط رکھا ایک قبیلہ کی لڑکی مخالف قبیلہ کے لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی لڑکی کی ضد پر سردار بیٹی کی شادی کرنے پر تیار ہو گیا لیکن اس نے شرط رکھی کہ بارات میں صرف پانچ سو باراتی آئیں گے جن کی عمر 35 سال سے زیادہ کی نہ ہو گی اس شرط میں لڑکے کے قبیلہ کے بزرگ سرجوڑ کر بیٹھ گئے اور سمجھ گئے کہ شادی کے وقت کوئی ایسی شرط رکھی جائے گی جس میں ناتجربہ کار باراتی بن جائیں گے اور شادی رک جائے گی فیصلہ ہوا کہ شرط مان لی جائے مگر ایک دانا بزرگ کسی طرح بارات میں بھیج دیا جائے بارات پہنچ گئی تو لڑکی کے باپ نے شادی سے پہلے شرط رکھی کہ باراتی سو دیگ کھانا ایک وقت میں کھا کر ختم کریں گے تو شادی ہو گی سب جوان اس بات سے پریشان ہو گئے اور اپنے چھپائے ہوئے دانا سے مشورہ کیا کہ اب کیا کریں اس نے کہا شرط قبول کر لو اس شرط کے ساتھ پانچ پانچ دیگیں پکائی جائیں لڑکی کے باپ نے جب یہ بات سنی تو اس نے کہا تم میں ضرور کوئی عمر رسیدہ دانا شخص موجود ہے جو تمہیں لیڈ کر رہا ہے اور اس اچھے لیڈر کی وجہ سے دونوں پیار کرنے والے آپس میں مل گئے۔

دنیا اس وقت کرونا کی وبا میں مبتلا ہے یہ وبا پاکستان میں داخل ہو چکی ہے وزیر اعظم پاکستان قوم کو لیڈ کرنے کے بجائے لاک ڈاؤن اور کرفیو میں پھنسے ہوئے ہیں اپنی قوم سے تین خطابات میں آدھے سے زیادہ وقت صرف لاک ڈاؤن نہ کرنے کی ضد پر لگے رہے جبکہ صوبوں نے لاک ڈاؤن کا عمل شروع کیا ہوا ہے۔ صوبوں کے اس عمل کو اپنی ضد کی نذر کرنے میں کوشاں ہیں۔ وفاق کی اکائی کو مضبوط کرنے کی بجائے صوبائیت کو ہوا دے رہے ہیں اور پوری قوم تذبذب کا شکار ہے پیکج کا اعلان کیا گیا ہے مگر کسی اعلان پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی چندہ اور امداد مانگنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پندرہ سو کی کٹ مہیا نہیں کی جا رہی جس سے مرض کی تشخیص ہو سکے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ تفتان و تبلیغی جماعت کے معمولی معمولات کو کنٹرول نہ کیا جا سکا جس سے کرونا ملک میں تیزی سے پھیل رہا ہے کوئی وزیر ٹرینیں چلا رہا ہے کوئی بند کر رہا ہے۔ وزیر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، نئی یوتھ فورس بنانے کا منصوبہ ہے، دستیاب وسائل استعمال نہیں کئے جا رہے، بارہ سو ارب کے پیکج کا اعلان کیا گیا جس میں تین سو ارب گندم کی خریداری شامل ہے۔ ٹیکس اور فنڈ کے 100 ارب شامل ہیں جو کہ عملاً پیکج کا کل حصہ نہیں ہے۔ زندگی کو بچانا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو چاہئے تمام صوبوں کو اکٹھا کر کے جزوی لاک ڈاؤن کی پالیسی مرتب کریں تاکہ غریب کم سے کم متاثر ہوں ہیلتھ کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ فعال کریں اور اپنی من مانی کے بجائے کہنہ مشق وزیروں، سیاست دانوں سے مشاورت کریں اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دیں۔ اپنی معاشی ٹیم میں محب وطن اسد عمر، حماد اظہر کو اختیارات دیں۔

حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بینک رزاق داؤد جو آئی ایم ایف کے لئے کام کرتے ہیں ان کی پالیسیاں پاکستان کے لئے نہیں، جنہوں نے عوامی دباؤ کے باعث سود میں کمی تو کی لیکن ساتھ ہی ڈالر کو کھلا چھوڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ان کی سود والی پالیسی ٹھیک ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے نواز حکومت کو گئے ڈیرھ سال سے زائد ہو گئے اب آئی ایم ایف کے ایجنٹ اپنی ناکامی کا ملبہ کسی اور پر نہیں ڈال سکتے جرمنی کے صوبائی فنانس منسٹر نے معاشی بد حالی پر خود کشی کرلی عمران خان کو خدا تعالیٰ نے قوم کا وزیر اعظم بنایا ہے۔ وہ اس کی لاج رکھیں اور قوم کو لیڈ کریں نہ کہ لاک ڈاؤن میں لاک ہوں۔ وزیر اعظم بطور ہیلتھ منسٹر بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں یا کسی تجربہ کار کو وزارت منتقل کریں۔

مزید :

رائے -کالم -