بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی کی کہانی۔۔۔پندرہویں قسط

بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر ...
بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف پر امریکی کی کہانی۔۔۔پندرہویں قسط

  

گوانتاناموبے کا پہلا کیمپ:

ہمیں گوانتاناموبے میں پہلی دفعہ جس کیمپ میں لے جایا گیا اس کے 8بلاک تھے۔ ہر بلاک میں48قیدیوں کو رکھا جاتا۔ دوپھرنے یعنی واک کی جگہیں اور4باتھ روم بھی تھے۔ یہ سارے بلاک لوہے کے بنائے گئے تھے چھت اور فرش بھی آہنی تھے اور دیواریں بھی۔ دیوار میں ایک چھوٹا سوراخ تھا جس سے ہمیں کھانا دیا جاتا تھا۔ یہ سوراخ صرف کھانے کے وقت ہی کھلتا۔ یہاں کے فوجی انتہائی بداخلاق تھے۔ قیدیوں کو انتہائی کم کھانا دیتے تھے۔ ایک بلاک کے قیدی دوسرے بلاک کے قیدیوں سے بات چیت نہ کر سکتے تھے۔ سرخ رنگ کے موٹے اور کھردرے کپڑے پہننے کے لیے دیئے جاتے۔ زیر جامہ کچھ نہ تھا۔ جس کی وجہ سے بہت سے قیدیوں کی جلد خراب ہوگئی تھی۔ ہر قیدی کے لیے کوٹھڑی نما کمرہ مخصوص تھا۔جس میں دو پتلے بستر، ایک چادر، دو گلاس ، ایک پانی کی بوتل، دو تولیے، ایک چھوٹی پلاسٹک شیٹ، ایک ٹوتھ برش، ایک ٹوٹھ پیسٹ اور قرآن مجید کا ایک نسخہ پڑا ہوتا۔

بدنام زمانہ جیل ’گوانتاناموبے‘سے سابق افغان سفیر ملّا عبدالسلام ضعیف کی کہانی۔۔۔چودہویں قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

رہائی کے بعد لڑائی اور شہادت:

کوئی قیدی سزا کا مستحق قرار پاتا تو صرف پلاسٹک کی شیٹ اس کے پاس رہنے دی جاتی تھی۔ باقی چیزیں لے لی جاتیں۔ قیدیوں کا زیادہ تر وقت سزا میں گزرتا بعد میں دوسرا کیمپ بھی بھی۔ جنرل بدل گئے جس سے شرائط میں بھی تبدیلیاں آگئیںَ ۔سختیاں بڑھ گئیں اور تین مزید بلاک قائم کئے گئے ۔مذہبی کتابیں لے لی گئیں روزانہ حجامت کی جانے لگی۔ قیدیوں کو چار کیٹیگریز میں تقسیم کر دیا گیا۔ سب سے سخت شرائط والا درجہ چوتھا تھا۔ اس درجے والے قیدیوں کو صرف پلاسٹک کی ایک شیٹ دی جاتی تھی جو سردی سے بچاؤ کے لیے ناکافی تھی۔ ارزگان کے رہنے والے ملا عبدالغفور میرے پڑوسی تھے۔ ہر وقت سزا بھگتتے رہتے۔ امریکی تعصب ان کے لیے دن بدن بڑھتا رہا۔ وہ آخر کار اتنا تنگ آگئے کہ جب بھی کوئی امریکی فوجی نظر آتا تو گلے پر ذبح کرنے کے انداز میں انگلی پھیر کر اپنے انداز میں امریکی فوجی کو ذبح کرنے کی دھمکی دیتے اور ہر وقت انتقام لینے کی باتیں کیا کرتے تھے۔

امریکی ترجمانوں کو بھی برا بھلا کہتے تھے۔ میں ان کو بہت سمجھاتا تھا اور سزا سے ڈراتا تھا لیکن وہ نہ مانتے۔ پھر کچھ عرصے بعد ان کی شہادت کی خبر ملی۔ اسی طرح میری گوانتاناموبے میں موجودگی کے دوران قندھار کے ملا شہزادہ کی شہادت کی خبر بھی ملی جن کو رہا کیا جاتا تو وہ افغانستان واپسی پر بھی ان کے خلاف لڑناشروع کر دیتے اور پھر گرفتار ہو کر یہاں پہنچ جاتے۔

گولڈ بلاک کی کوٹھڑی نمبر 15:

میں سال2003ء تک ڈیلٹا کیمپ کے بلاک نمبر1، گولڈ بلاک کی کوٹھڑی نمبر15اور 8میں قید رہا۔ پھر تیسرے کیمپ کی 30نمبر کوٹھڑی میں منتقل کر دیا گیا۔ یہ بلاک نسبتاً لطف اندوز اسلیے تھا کہ یہاں سے دریا نظر آٹا تھا جو صرف50میٹر دور تھا۔ کشتیاں بھی نظر آجاتی تھیں۔کچھ عرصہ بعد انفرادی کوٹھڑی لے جایا گیا۔ میں زیادہ تر وہاں رہا۔ چوبیس گھنٹوں میں صرف پندرہ منٹ واک کی اجازت ملتی اس دوران بھی ہاتھ پیچھے بندھے ہوتے۔ بہت عرصے تک ناخن کاٹنے اور سر کے بال مونڈنے کی مشین کا بندوبست نہ تھا کھانابہت کم ملتا تھا کبھی کبھار ایسا بھی ہو جاتا کہ پورا مہینہ ایک مرتبہ بھی پیٹ بھر کے کھانا نصیب ہوتا۔ بھوکا رکھنے کی وجہ سے اکثر قیدی بیمار رہتے، کھانا فوجی تقسیم کرتے تھے اور اس تقسیم کا کوئی قانونی اندازہ نہیں تھا۔ پلاسٹک کے لفافوں اور برتنوں میں خوراک تقسیم ہوتی تھی ڈسپوزایبل برتن واپس لے لئے جاتے اور تلف کرنے کی بجائے انہی برتنوں میں دوبارہ کھانادیا جاتا۔ خوراک میں مچھلی، مرغی، گوشت، بھنڈی، لوبیا،گوبھی، آلو، چاول اور انڈے ملتے تھے۔

ایک نوالے کے برابر چاول:

روٹی چار قسم کی ہوتی، کھانا باری باری پکتا تھا۔ سبزی ابلی ہوئی ملتی تھی اور سالن اکثر ٹھنڈا ہوتا جس کیوجہ سے قیدیوں کو قبض کی شکایت رہتی تھی۔مچھلی بدبودار ہوتی اور مرغی کے گوشت میں خونصاف نظر آتا، چاول اتنے کم ہوتے کہ نصیب اللہ نامی ہمارے ایک ساتھی ایک نوالہ بھر کر کھا لیتے تھے۔ روٹی اتنی کم مقدار میں ملتی کہ بچے کا پیٹ بھی اس سے نہ بھر سکتا تھا۔ تاہم دن کو تین قسم کا فروٹ بھی دیا جاتا جبکہ ناشتے میں ایک گلاس دودھ دیا جاتا جو روٹی کی کمی پوری کر دیتا تھا۔ متعصب فوجیوں کی ڈیوٹی ہوتی تو فروٹ اور دودھ نہ ملتا اور نماز با جماعت پڑھنے پر پابندی لگ جاتی۔ بند کوٹھڑیوں میں قیدیوں کو نماز کے اوقات کا پتہ نہ چلتا اس لیے ہرقیدی اپنے اندازے کے مطابق نماز پڑھتا۔ نسبتاً کھلے قید خانوں سے آذان کی آواز آتی تو امریکی فوجی ہوا میں مکا لہرا کر نفرت کا اظہار کرتے تھے۔ڈیلٹا کا تیسرا کیمپ بننے سے مشکلات اور بڑھ گئیں۔ کھانا کم کر دیا گیا اور قیدیوں کی حالت مزید خراب ہوگئی۔سزا میں مزیدسختی لائی گئی۔ کیوبک کے نام سے نیا کیمپ قائم کیا گیاجہاں سخت سردی میں قیدیوں کو صرف ایک نیکر میں رکھا جاتا۔ یہ قیدی لوہے کی ٹھنڈی چادر پر سوتے اور نماز بھی نیکر میں ہی پڑھتے۔

(جاری ہے۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

نائن الیون کے بعد جب امریکی افواج نے اتحادیوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر حملہ کیا تو طالبان کی امن پسندقیادت کوبھی چن چن کر تحقیقات کے نام پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور گوانتاناموبے کی بدنام زمانہ جیلوں میں انہیں جانوروں سے بدترزندگی گزارنے پر مجبور کیاگیا تاہم ان میں سے اکثر قیدی بے گناہ ثابت ہوئے ۔ملا عبدالسلام ضعیف افغان حکومت کے حاضر سفیر کے طور پر پاکستان میں تعینات تھے لیکن امریکہ نے اقوام متحدہ کے چارٹراور سفارت کے تمام آداب و اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے پاکستانی حکومت کو مجبور کرکیااور انکو گرفتارکرکے گوانتانہ موبے لے جاکر جس بیہیمانہ اور انسانیت سوز تشدد کوروا رکھا اسکو ملاّ ضعیف نے اپنی آپ بیتی میں رقم کرکے مہذب ملکوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیاتھا ۔انکی یہ کہانی جہاں خونچکاں واقعات ، مشاہدات اور صبر آزما آزمائشوں پر مبنی ہے وہاں ملاّ صاحب کی یہ نوحہ کہانی انسانیت اورامریکہ کا دم بھرنے والے مفاد پرستوں کے لئے لمحہ فکریہ بھی ہے۔دورحاضر تاریخ میں کسی سفیر کے ساتھ روا رکھا جانے والا یہ حیوانی سلوک اقوام متحدہ کا شرمناک چہرہ بھی بے نقاب کرتا ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان مٰیں شائع ہونیوالی تحاریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : گوانتاناموبے کاجہنم