اب گیس کے نرخ!

اب گیس کے نرخ!

بجلی کے نرخوں میں تجارتی، صنعتی اور گھریلو صارفین کے لئے الگ الگ معیار مقرر کر کے ہوشربا اضافے کے بعد یہی عمل گیس کی قیمتوں کے ساتھ بھی دہرایا جا رہا ہے۔ گیس کے نرخوں میں بھی ایک سو سے تین فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ نرخ کھاد فیکٹریوں کے لئے ہوںگے۔ گھریلو صارفین کے لیے تھوڑی سی نرمی کی کوشش کی جائے گی، تاہم پھر بھی ناقابل برداشت ہوگا۔

بجلی کے نرخ صنعت و تجارت کے شعبے میں اور گیس کے نرخ صنعتوں اور کھاد فیکٹریوں کے لئے بڑھانے کااثر براہ راست اشیاءخوردنی اور ضرورت کی قیمتوں پر پڑے گا۔ اور براہ راست عام لوگ ہی متاثر ہوں گے جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دب کر ادھ موئے ہو چکے ہیں۔

حکومت نے آئی ایم ایف سے قرضہ لیتے وقت اپنی شرائط کا ذکر کیا تھا، لیکن جس طرح بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافے والے غیر مقبول فیصلے کیے جارہے ہیں اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں چاہے اب مانی گئی ہیں یا پہلے سے تسلیم شدہ ہیں۔

بجٹ میں ٹیکسوں اور رمضان المبارک کے باعث بڑھنے والی قیمتیں واپس ہی نہیں آرہی تھیں کہ بجلی کے نرخ بڑھائے گئے اور گیس مہنگی کی جارہی ہے۔ یہ سارا بوجھ عام آدمی پر ہی منتقل ہونا ہے۔ حکومت کے یہ غیر مقبول فیصلے ہیں جو خود اس کے لئے بھی مشکلات کا باعث ہوں گے کہ بہرحال حکومت سیاسی ہے۔  ٭

مزید : اداریہ