مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 5

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 5
مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 5

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

محمد رفیع کی داستان حیات بھی کسی کلاسیکل سرگم سے کم نہیں ۔انکی زندگی رازوں کے نیچے دفن ہے اور اس دفینے سے جو سُر نکلتے رہتے ہیں وہ انکی زندگی کا کوئی نیا ہی روپ باہر لاتے ہیں ۔محمد رفیع کا بچپن سے لڑکپن کا سفر تحقیق طلب ہے .

مقدر کا سکندر ،شہنشاہ سنگیت محمد رفیع کے حالات زندگی۔.. قسط نمبر 4

حیرانی اس بات پر ہے کہ ابھی انکے بیٹے اور بھائی بھی حیات ہیں لیکن وہ بھی ان کے لڑکپن پر مفصل معلومات نہیں دے پاتے ۔شاید اسکی یہ وجہ رہی ہو کہ ہر کوئی ان کے سامنے کوئی سوال نہیں کرسکا ہوگا،کسی نے انکے لڑکپن کی جدوجہد کی کہانیاں تفصیل سے نہیں سنی ہوں گی اور کسی نے کریدا بھی نہیں ہوگا ۔پچھلے دنوں مجھے برطانیہ سے محمد رفیع کے ایک فین کا فون آیا جو دیوانگی کی حد تک محمد رفیع کا احترام کرتا ہے۔ان کا نام عمران رفیع ہے ۔بولے کہ پہلے ان کے کمرے میں محمد رفیع کی تصاویر موجود رہا کرتی تھی ۔انکے گانے سن کر انکی صبح و شام ہوا کرتی تھی جس پر انہیں گھروالے برابھلا بھی کہتے تھے لیکن ان کی دیوانگی ایسی تھی کہ وہ محمد رفیع کے لئے گالیاں بھی سن لیا کرتے تھے ۔مزے کی بات ہے وہ خود گا نہیں سکتے ۔نام محمد عمران خان ہے لیکن محمد رفیع کی نسبت سے عمران رفیع بن گئے ۔ساٹھ سال کے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک انکے عشق رفیع میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔لکھنو کے رہنے والے ہیں ،جوانی میں ایک بار کسی فنکش میں انہوں نے محمد رفیع کو جیتے جاگتے سنا ،ان سے ہاتھ ملایا اور پھر وہ ان کے ہوکر رہ گئے ۔مجھ سے بات کی تو بولے کہ بھائی اب کام کررہے ہو تو ان پر خوب کھوج لگاو۔

میں نے انہیں یقین تو دلایا ہے کہ انشا اللہ توفیق ملی تو محمد رفیع کی زندگی کے ہر پہلو پر کوئی نئی بات سامنے لاوں گا ،لیکن پھر دل میں سوچا کہ محمد رفیع کے بارے کتنا لکھا جاسکتا ہے ۔؟ وہ خاموش طبع اور شرمیلے تھے ۔گھریلو قسم کے نوجوان تھے ۔ایک بار جب انہیں راستہ مل گیا اسکے بعد انہوں نے نئے راستوں پر سفر نہیں کیا ۔مطمئن اور راضی بالرضا انسان تھے ۔ان کی شرافت کا زمانہ گواہ تھا ۔نہ گلوکاروں جیسی وضع نہ ان جیسا نخرہ ۔فسانے کہاں سے بنتے ۔واقعی وہ کسی درویش کی دعا تھے جس کی پاکیزگی کوانہوں نے اپنی ذات میں سمو لیا تھا ۔

جوانی میں ہی انکی سادگی کا شہرہ بھی عام تھا ۔ایک قصہ سن لیجئے ۔میرے استاد محترم علی سفیان آفاقی جو فلمی دنیا کی معروف ترین ہستی تھے اور صحافت میں بھی ان کا طوطی بولا کرتا تھا ،فلمی دنیا کا جیتا جاگتا انسائیکلو پیڈیا تھے۔کون سی فلمی شخصیت تھی جو پاکستان میں موجود ہواور آفاقی صاحب کی دستبرد سے بچ سکی ۔ایک بار ماسٹر فیروز نظامی کی باتیں کرتے ہوئے انہوں نے بتایا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ فیروز نظامی بھی محمد رفیع کے استاد تھے۔لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ وہ استاد بھی تھے اور پیر بھائی بھی۔پیر بھائی اولا تو اہل طریقت میں مستعمل رشتہ ہے لیکن فن موسیقی میں فیروز نظامی نے معروف زمانہ استاد عبدالوحید خان سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی تھی (میں بھول رہا ہوں غالباً فیروز نظامی کے وہ رشتہ دار بھی تھے)محمد رفیع نے بھی استاد عبدالوحیدخان کے سامنے زانوئے تلمذ طے کئے تھے ،گویا اس ناطے سے دونوں میں برابری بھی تھی لیکن فیروز نظامی محمد رفیع سے عمر میں آٹھ دس سال بڑے تھے ۔ 

یہ کریڈٹ بہر حال محمد رفیع کو جاتا ہے جنہوں نے ماسٹر فیروز نظامی سے بھی اسرار موسیقی سیکھے اور اس پر خصوصی توجہ دی ۔ان کا احترام کیا۔ اسکی ایک اہم وجہ تھی ۔اس دور میں عام طور پر گائیکی اور موسیقی میں لوگ زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے تھے ،ماسٹر فیروز نظامی نے اسلامیہ کالج سول لائن لاہور سے گریجویشن کی اور موسیقی میں مہارت اور تڑپ انہیں آل انڈیا ریڈیو پر لے گئی ۔وہ بھی ان دنوں لاہور میں تھے جب محمد رفیع کو پنڈت جیون لال مٹو نے آڈیشن کے لئے بلایا اور پھر جب محمد رفیع کا ریڈیو پر آنا جانا لگا تو وہ خاص طور پر ماسٹر فیروز نظامی کے پاس بھی بیٹھتے اور ان سے رموز سیکھتے ۔

ایک دن ماسٹر فیروز نظامی نے رفیع سے پوچھا” ہاں میاں اور کیا ارادے ہیں ۔فلموں میں بھی گانا شروع کروگے یا ریڈیو اور میلو ں تک ہی رہنا ہے “

محمد رفیع نے عاجزی سے شرماتے ہوئے کہا ” جو رب سوہنا کرے گا وہی ہوگا “

” رب تو سب کی سنتا ہے اور سب کے ساتھ ہوتا ہے ،بندے کو حیلہ وسیلہ تو خود تلاش کرنا ہوتا ہے “

”اچھا جی “ محمد رفیع نے معصومیت سے کہا تو ماسٹر فیروز نظامی بولے”میں نے سنا ہے تو نے سہگل کا میلہ لوٹ لیا تھا ۔ایک بات کہوں ۔اگر آگے بڑھنا چاہتے ہوتو بمبئی چلے جاو۔“

” اچھا جی۔“ محمد رفیع نے حیرت سے آنکھیں پھیلائیں” وہاں کیا کروں گا جی“

ماسٹر فیروز نظامی نے محمد رفیع کے ساتھ کھڑے بھاحمید کو دیکھا اور مسکرائے” اسے تو کچھ پتہ نہیں کہ گلوکار کی منزل کیا ہوتی ہے “ ماسٹر فیروز نظامی نے محمد رفیع کو فلمی دنیا کی اونچ نیچ اور آگے بڑھنے کے لئے کافی معلومات دیں ۔فیروز نظامی بڑے اچھے اخلاق والے تھے ۔یہ معروف کرکٹر نذر محمد کے بھائی تھی۔وہی نذر محمد جو مدثر نذر کے والد تھے اور مشہور زمانہ گلوکارہ میڈم نورجہاں کے عشق دلفریب میں کمرے کی کھڑکی سے کود کر ٹانگ تڑوا بیٹھے ا ورپھر ہمیشہ کے لئے کرکٹ سے محروم ہوگئے ۔

یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم تھی کہ نذر محمد اپنے بھائی سے ملنے اسٹوڈیو وغیرہ جایا کرتے تھے ،جوانی کا زور اور کرکٹ میں نام تھا ۔ میڈم نورجہاں بھی فیروز نظامی کی دھنوں پر گانے کے لئے وہاں موجود ہوا کرتی تھیں ۔اس زمانے میں وہ فلمساز و پروڈیوسر سید شوکت رضوی کی زوجہ محترمہ تھیں لیکن نوجوان اور خوبرو نوجوانوں کے سامنے دل ہار بیٹھتی تھیں ۔خیر یہ قصہ رہنے دیں ،بات کہاں سے کہاں نکلتی جارہی ہے ،واپس محمد رفیع پر آنے سے پہلے فیروز نظامی کے ان مشہور زمانہ گیتوں کے بارے سن لیجئے جو فوری آپ کی سماعت میں رس گھول دیں گے اور آپ کو بھی ماسٹر فیروز نظامی کے موسیقی میں مقام کا اندازہ ہوجائے گا ۔ان کے بنائے گیتوں میں

٭ تیرے مکھڑے دا کالا کالا تل وے

٭چاندنی راتیں تاروں سے کریں باتیں

اور بھی ایسے بے شمار گیت ان کے کریڈٹ پر موجود ہیں ۔انہوں نے یہ گیت قیام پاکستان کے بعد ادھر لاہور میں واپس آکر موزوں کئے تھے ۔دوران نوکری وہ بھی اپنے بہتر مستقبل کے لئے نوکری چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے ۔پیدائشی لاہورئےے تھے لہذا قیام پاکستان کے بعد واپس لاہور آگئے اور اپنے فن سے پاکستان کی نوزائیدہ فلم انڈسٹری کو یاد گار دھنوں سے پروان چڑھایا۔

محمد رفیع نے جب سے ماسٹر فیروز نظامی سے بمبئی کی رنگ و بو کے بارے سناتھا انہیں فلمیں دیکھنے کا بھی شوق ہوگیا اور لاہور میں لگنے والی فلمیں دیکھ کر انہیں پلے بیک سنگر بننے کا شوق لاحق ہوگیا ۔انہیں ایک لائن مل گئی تھی ۔انہوں نے بھائی دین محمد اور بھا حمید سے اسکا ذکر کیا تو دونوں نے محمد رفیع کے بہتر اور روشن مستقبل کے لئے لاہور سے بمبئی کے لئے ہجرت کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔(جاری ہے )

مزید : کتابیں /مقدر کا سکندر