عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 105

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 105
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 105

  

غروب آفتاب سے پہلے قدیم بازنطینی کھنڈرات کی ٹوٹی پھوٹی دیواروں اور تاریک چھتوں کے نیچے ساری دنیا سے دور اور چھپ کر قاسم آیا صوفیاء کی خادمہ سونیا کے ساتھ ملاقات کر رہا تھا۔ سونیا کی انگلی میں مارسی کی انگوٹھی تھی اور آنکھوں سے زمرد کے موتیوں کی لڑی جا رہی تھی۔ وہ نہ سسکیاں لے رہی تھی نہ ہچکیاں۔ صرف آنسو بہا رہی تھی۔ اسے گلہ تھا، شکوہ تھا اپنے محبوب سے جس نے اس کا دل توڑا تھا۔ اور آج وہ اپنے محبوب کے سامنے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ قاسم نے سونیا سے باربار معافی مانگی۔ اسنے سونیا کو شروع سے آخر تک اپنی زندگی کی تمام داستان سنائی اور سونیاکے دونوں ہاتھ پکڑکر اسے پوری تاکید کے ساتھ کہا۔

’’سونیا! تمہیں یاد ہے میں نے تم سے کہاتھا کہ میں تم سے روحانی محبت کر سکتا ہوں، جسمانی محبت نہیں۔ تم مجھے بہت عزیز ہو۔ میرے دل میں تمہارے لئے بہت جگہ ہے۔ میں تمہیں اپنے ساتھ لئے بغیر قسطنطنیہ سے نہیں جاؤں گا۔۔۔لیکن میں تم سے شادی نہیں کر سکتا۔۔۔ہوسکے تو مجھے معاف کر دینا۔‘‘

سونیا کو توسب باتیں پہلے سے معلوم ہو چکی تھیں۔ وہ بریٹا کی زبانی حقیقت جان چکی تھی۔ اس نے جس قدر رونا تھا اب تک رو لیا تھا۔ آج تو وہ خوش تھی کہ اس کا محبوب جسے وہ دیوانہ وار چاہتی تھی اس کے سامنے بیٹھا تھا۔ سونیا نے مسکراتے ہوئے قاسم کی بات کا جواب دیا۔

’’میرے جسم و جان کے مالک!۔۔۔مجھے آپ سے کوئی گلہ نہیں۔ تقدیر نے ہی میرے حصے میں یہ درد اور غم لکھ دیئے ہیں۔ آپ تو میرے محسن ہیں۔ میری زندگی بدل چکی ہے۔ اب میں کسی کی داشتہ نہیں۔ آپ کی محبت اور یہ انگوٹھی ہی اب میری زندگی کے سہارے ہیں۔ میں آپ کا انتظار کروں گی۔آپ جب بھی مجھے لینے کے لیے آئیں گے اپنا منتظر پائیں گے۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 104پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سونیا کی باتوں سے قاسم کے دل کو دھکا لگا ۔ لیکن وہ کیا کر سکتا تھا؟ آنسو پی کر رہ گیا۔ سونیا کے ساتھ قاسم کی ملاقات خاصی طویل رہی۔ قاسم سے سونیا کو سسٹر میری کے اغواء کا علم ہوا تو وہ حیران رہ گئی اور اسنے فوراً کہا کہ مارسی کا کھوج چرچ کے خادم ڈیوڈ سے مل سکتا ے۔ ڈیوڈ جو شاگال کے ساتھ اکثر لگا رہتا تھا یقیناًمارسی کے بارے میں کچھ نہ کچھ بتا سکے گا۔ قاسم نے ڈیوڈ کے بارے میں سوچ کر کچھ فیصلہ کیا اور پھر سونیا سے کہا۔

’’میں آج رات ایک بار پھر آیا صوفیاء میں داخل ہونا چاہتا ہوں۔ آج میں ڈیوڈ سے ملنے کے لیے وہاں آؤں گا۔ مجھے بوڑھے بطریق اعظم کے کمرے کی تلاشی بھی لیتی ہے سونیا! کیا تم اس سلسلے میں میری مدد کر سکتی ہو؟‘‘

’’بوڑھے بطریق اعظم کے کمرے کی تلاشی؟۔۔۔لیکن کیوں؟‘‘

’’مجھے ایک نقشے کی تلاش ہے ۔۔۔مقدس نقشے کی۔‘‘

’’مقدس نقشہ؟۔۔۔لیکن وہ تو بطریق کے پاس نہیں۔ وہ تو کسی اور کے پاس ہے مقدس نقشے کے بارے میں آپ کو صرف میں بتا سکتی ہوں، بطریق اعظم کچھ نہیں بتا سکتا۔‘‘

قاسم کی توقع کے بالکل برعکس سونیا جیسی معمولی خادمہ کے منہ سے مقدس نقشے کا ذکر سن کر قاسم کے دیدے پھٹنے لگے۔

’’کیا؟۔۔۔کیا تم جانتی ہو مقدس نقشے کے بارے میں؟ لیکن کیسے؟ اتنی اہم چیز کے بارے میں تم کیسے جانتی ہو؟‘‘

سونیا مسکرا رہی تھی۔ اس کے چہرے پر دکھ اور حسرت کو صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ سونیا نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا’’مالک!۔۔۔میں سب اہم باتیں جانتی ہوں۔ مجھ سے زیادہ اہم باتیں کوئی نہیں بتا سکتا۔ کوینکہ میں سب اہم لوگوں کے بستروں پر راتیں گزار چکی ہوں۔۔۔آپ کی ملاقات سے پہلے میری ہر رات کسی بطریق یا حکومتی افسر کے بستر پر ہوتی تھی۔۔۔اسی طرح کی ایک رات جب میں نے اپنے باپ جیسے سپہ سالار نوٹاراس کے پاس گزاری تو اس نے مجھے مقدس نقشے کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ وہ بہت شراب پیتا ہے۔ اس نے نشے کی حالت میں مجھے بتا دیا کہ سلطنت بازنطینی کا مقدس نقشہ اسی نے شاہی محل سے کس طرح اڑایا۔ سپہ سالار نوٹاراس قسطنطنین کا مخالف ہے۔ اس نے مقدس نقشہ چوری کروا کے آرتھوڈکس کلیسا کے قدیم روحانی پیشوا’’مقدس بطلیموس‘‘ کے سپرد کر دیا ہے۔ مقدس بطلیموس تارک الدنیا ہو چکے ہیں۔ اور گزشتہ بیس سال سے ’’برج غلاطہ‘‘ کی آٹھویں منزل پر تجرد کی زندگی گزار رہے ہیں۔ سپہ سالار نوٹاراس، مقدس بطلیموس کو آرتھوڈکس کلیسا کا محافظ سمجھتا ہے اور قسطنطنین کواپنے فرقے کا دشمن۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے مقدس نقشہ شاہی محل سے اڑا کر برج غلاطہ پر مقدس بطلیموس کے علاوہ صرف آپ کی اس خادمہ کو معلوم ہے۔ لیکن میں نے یہ پوچھنے میں کوئی دلچسپی نہ لی تھی کہ مقدس نقشہ درحقیقت ہے کیا چیز؟‘‘

سونیا نے تفصیل کے ساتھ مقدس نقشے کے بارے میں بتایا تو قاسم حیرت سے ساکت و جامد رہ گیا۔ اسکے دل میں خوشی کے لڈو پھوٹ رہے تھے اور وہ سوچ رہاتھا کہ چرچ کی معمولی خادمہ سونیا اس کے لیے کتنی غیر معمولی اور اہم ثابت ہوئی۔ اب اسے شاگال کی بات یاد آئی۔ شاگال نے کہا تھا کہ مقدس نقشہ سپہ سالار نوٹاراس نے چوری کیا ہے۔ شاگال کو شک تھا کہ سپہ سالار سے وہ نقشہ قاسم نے حاصل کرلیا ہوگا۔ قاسم کاجی چاہا کہ وہ اٹھ کر سونیا کے ان خوبصورت ہونٹوں پر بوسہ دے جنہوں نے قاسم کی بہت بڑی مشکل آسان کر دی تھی۔ وہ کتنا خوش نصیب تھا کہ شاگال سے بھی پہلے اس نے مقدس نقشے کے بارے میں معلومات حاصل کرلی تھیں۔ اور اب وہ سوچ رہا تھا کہ آج آنے والی ایک ہی رات میں وہ ڈیوڈ اور مقدس بطلیموس دونوں سے ملاقات کرلے۔

قاسم نے سورج غروب ہونے کے بعد سونیا کو رخصت کیا اور خود قدیمی بازنطینی کھنڈرات سے نکل کر قسطنطنیہ شہر کے بازارمیں پیدل چلنے لگا۔ اس کے بدن پر ابھی تک یونانی سپاہی کا لباس تھا اور وہ بے پرواہانہ انداز میں چل رہا تھا۔ اوراب اسے اپنے آئندہ مشن کے لیے تیاری کرناتھا۔ چنانچہ وہ سیدھا قسطنطنیہ کے ایک قدیم محلے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ قسطنطنیہ کے اس محلے میں شیخ صلاح الدین کا گھر تھا اور شیخ صلاح الدین جو عرب تاجر کی حیثیت سے ’’محمد اول‘‘ کے زمانیس ے قسطنطنیہ میں مقیم تھا اندرون خانہ عثمانی سلطنت کا خیر خواہ اور مخبر تھا۔ اس سے پہلے بھی قاسم وقتا فوقتا شیخ صلاح الدین سے چھوٹے چھوٹے کام لیتا رہا تھا۔

قاسم شیخ صلاح الدین کے مہمان خانے میں بیٹھا اس کا انتظار کررہا تھا کہ شیخ صلاح الدین داخل ہوا اس نے قاسم کو دیکھا اور پرتپاک انداز میں قاسم سے ملاقات کی۔ اس نے قاسم کو نئے مشن کے لیے ضروری سامان فراہم کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس کے نام سلطان محمد خان کا ایک پیغام ہے۔

’’پیغام؟‘‘ قاسم نے انتہائی حیرت سے سوال کیا۔

’’ہاں!۔۔۔وہ پیغام کئی روز پہلے مجھ تک پہنچا تھا۔ لیکن میں آپ کا سراغ کہیں نہ پا سکتا تھا ۔۔۔سلطان کا پیغام یہ ہے کہ آپ کو جونہی موقع ملے سلطان محمد خان کی خدمت میں حاضر ہوں۔‘‘

’’بس! کیا اتنا سا پیغام ہے؟‘‘

’’ہاں!۔۔۔صرف اتنا ساپیغام ہے ۔۔۔اور اب آپ زیادہ دیر یہاں مت رکئے۔ کیونکہ شہر بھر کی پولیس آپ کو ڈھونڈنے پر لگی ہوئی ہے۔‘‘

قاسم شیخ صلاح الدین کے گھر سے جلد ہی نکل آیا اور اپنے آئندہ منصوبہ پر عمل کرنے کے لیے ان دیکھی راہوں پر چل دیا۔

**

آیا صوفیاء کے خادم ڈیوڈ کے خراٹے اس کے کمرے میں گونج رہے تھے۔ قاسم نے اپنی تلوار کی نوک اس کے سینے میں چبھوئی تو وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ ابھی رات کا پہلا پہر ہی جاری تھا کہ قاسم، ڈیوڈ کے سر پر سوار ہو چکا تھا۔ ڈیوڈ نے قاسم کو دیکھا تو چلانے کی کوشش کی۔ لیکن اس کی آواز گلے میں پھنس گئی۔ قاسم کی تیز دھار تلوار اس کے سینے پر تھی۔ وہ گھگھیانے لگا۔ قاسم نے اپنی خونخوار نگاہیں ڈیوڈ کی آنکھوں میں گاڑھ کر غراتے ہوئے کہا۔

’’معافی چاہتے ہو تو سسٹر میری کے بارے میں بتاؤ! سچ سچ بتاؤ، شاگال سسٹر میری کو کہاں لے گیا ہے؟‘‘

ڈیوڈ کی آنکھیں ضرورت سے زیادہ پھٹی ہوئی تھیں۔ موت کا خوف اس کے سر پر سوار تھا۔ لیکن وہ مارسی کے بارے میں پھر بھی نہ بتانا چاہتا تھا۔۔۔ڈیوڈ، شاگال کا خاص آدمی تھا اور اتنی آسانی سے قاسم کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔ قاسم نے ڈیوڈ کے سینے پر تلوار کی نوک کا دباؤ بڑھاتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔

’’بتاؤ! ورنہ ایسی موت ماروں گا کہ نہ جی سکو گے اور نہ مرسکو گے۔‘‘

ڈیوڈ خوف سے کانپ رہا تھا لیکن چپ تھا۔ اس کا رنگ فق اور آنکھوں کے دیدے اوپر چڑھتے جا رہے تھے۔ قاسم نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا اور پھر اگلے لمحے اس کی شمشیر بجلی کی طرح ہوا میں چمکی اور ڈیوڈ کا بایاں کان اسکے سر سے الگ ہوگیا ڈیوڈ کاکان کٹ کر دور جا گرا تھا اور تلوار پھر اپنی جگہ یعنی ڈیوڈ کے سینے پر آچکی تھی۔ اس سے پہلے کہ ڈیوڈ چیختا، قاسم کا بایاں ہاتھ اس کے جبڑوں کو جکڑ چکا تھا۔ قاسم کے سر پر خون سوار تھا اور اس کی آنکھوں میں ڈیوڈ کی موت صاف پڑھی جا سکتی تھی۔ اب قاسم نے کسی خونخوار بھیڑئیے کی طرح غراتے ہوئے کہا۔

’’جلدی بتاؤ! شاگال، سسٹر میری کو کہاں لے گیا ہے؟ ورنہ ایک ایک کرکے تمہارے تمام اعضائے بدن کاٹ ڈالوں گا۔‘‘

قاسم نے ڈیوڈ کے منہ سے ہاتھ ہٹا لیا۔ اب ڈیوڈ کی تمام ہمت جواب دے چکی تھی۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے قاسم سے زندگی کی بھیک مانگی۔

’’خدا کے لیے مجھے کچھ مت کہو! میں بتاتا ہوں۔۔۔میں تمہیں بتاتاہوں کہ بطریق شاگال ، سسٹر میری کو کہاں لے گیا ہے۔۔۔بطریق شاگال، سسٹر میری کو کالے جہاز پر لے گیا ہے۔ ہاں وہ جہاز کالا ہے۔ اس کی ساری لکڑی کالی ہے۔ یہ بطریق شاگال کا اپنا بحری جہاز ہے۔ بطریق شاگال کا جہاز زیادہ دور نہیں ہوگا۔ درہ دانیال کے پانی میں یا’’بحر مارمورا‘‘ کے اسی ساحل پر لنگر انداز ہوگا۔ بطریق شاگال کے سپاہی بہت خطرناک ہیں۔ وہ مجھے جان سے مار دیں گے۔۔۔اوہو! میں نے تمہیں راز بتا کر اپنی موت خرید لی ہے۔‘‘

ڈیوڈ موت کے ڈر سے عجیب عجیب باتیں کرنے لگا تھا۔ قاسم کو ڈیوڈ کی بات پر یقین نہ آیا تو اس نے سانپ کی طرح پھنکارتے ہوئے کہا۔

’’تم جھوٹ بکتے ہو۔۔۔یہ جہاز والی بات جھوٹ ہے۔‘‘

’’نہیں نہیں ، خداوند یسوع مسیح کی قسم! میں سچ کہہ رہا ہوں۔۔۔ہائے میرا کیا ہوگا؟ میرے لئے تو ہر طرف موت ہے۔‘‘

ڈیوڈ بری طرح ڈر رہا تھا۔ قاسم نے سوچا کہ کیوں نہ ڈیوڈ کو اس تکلیف دہ زندگی سے آزادی دے دے۔ چنانچہ قاسم کی تلوار ایک بار پھر صاعقہ کی طرح کوندی اور ڈیوڈ کا سر اس کے تن سے الگ ہوگیا۔اب قاسم کے لئے مزید یہاں رکنا غیر ضروری تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی تلوار نیام میں ڈالی اور ڈیود کے کمرے کا دروازہ کھول کر دھیرے سے باہر نکل کر وہ دیوار کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے عقبی زینے تک پہنچا لیکن یہاں پہنچ کر وہ رک گیا۔

سونیا اس کے سامنے کھڑی تھی۔ سونیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹھک گیا اور تیزی سے بولا۔

’’سونیا!۔۔۔میں نے ڈیوڈ کو اس دنیا کی تکلیف دہ زندگی سے نجات دے دی ہے۔۔۔لیکن تم اس وقت یہاں کیوں آئی ہو؟ میرے ساتھ اگر کسی نے تمہیں دیکھ لیا تو تمہارے لئے بہت بڑی مشکل کھڑی ہو سکتی ہے۔‘‘

لیکن سونیا پر قاسم کی بات کا کچھ اثر نہ ہوا۔ وہ اپنی جگہ پرکھڑی رہ۔ قاسم آگے بڑھا اور سونیاکے بالکل نزدیک پہنچ کر قاسم نے سونیا کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے انتہائی نرم لہجے میں کہا۔

’’سونیا ! میں نے تم سے وعدہ کیا ہے نا کہ میں آؤں گا۔ تم اپنے خداوند سے میرے لئے دعا کرنا کہ مجھے اپنے مقصد میں کامیابی ملے تم میرا یقین کرو۔ میں ضرور آؤں گا۔‘‘

لیکن آج سونیا کی آنکھوں میں کچھ اور ہی بات تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے ارض و سماوات کی تمام تر حسرت و یاس اس کی نگاہوں میں سمٹ آئی ہو۔ سونیا کے چہرے پر کسی پہاڑ کی اداس شام اتر آئی تھی۔ اس کی آنکھیں خشک تھیں اور لب خاموش۔ وہ دیر تک قاسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہ جانے کیا دیکھتی رہی۔ اور پھر ایک دم راستے سے ہٹتے ہوئے انتہائی سنجیدہ لہجے میں قاسم سے کہا۔

’’آپ جائیے! آپ کو دیر ہو رہی ہے۔ میں آپ کا انتظار کروں گی۔ آپ جب بھی آئیں گے میری ان حسرت ناک نگاہوں کو اپنا منتظر پائیں گے۔ میں بھی چلتی ہوں۔۔۔شاید۔۔۔مجھے بھی دیر ہو رہی ہے۔‘‘

سونیا کے لہجے میں نہ جانے کیا بات تھی کہ قاسم کو اپنا دل بیٹھتا ہوا محسوس ہوا۔ لیکن قاسم کے پاس حقیقی معنوں میں وقت کم تھا۔ وہ سونیا کی اندوہ ناک حالت پر غور کرنے کے لیے مزید یہاں نہ رک سکتا تھا۔ چنانچہ قاسم نے سونیا کے کندھے پر ہلکی سی تھپکی دی اور کسی چھلاوے کی طرح زینے اترتا چلا گیا۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح