عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 104

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 104
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 104

  



سامنے شاگال کھڑا تھا۔۔۔گنجا بطریق۔۔۔اس کا ہٹا کٹا وجود ایک دیوار کی طرح قاسم اور مارسی کے راستے میں حائل تھا۔ قاسم نے ماروسی کو فوراً اپنی پشت پر کر لیا اور خود تلوار لہراتا ہوا شاگال پر حملہ آور ہونے کے لئے آگے بڑھا۔ لیکن شاگال بے فکر کھڑا مسکراتا رہا۔اس کے چہرے پر مسکراہٹ بہت مکروہ دکھائی دیتی تھی۔ قاسم ابھی ایک قدم ہی آگے بڑھا پایا تھا کہ شاگال کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔

’’وہیں رک جاؤ! تم یہاں سے اس حسینہ کو لے کر فرار نہیں ہوسکتے۔ یہاں کا ایک ایک ذرہ تمہارے راستے میں دیوار کی طرح حائل ہو جائے گا۔ لیکن تم اگر چاہو تو اپنی زندگی بچا سکتے ہو۔ اس کے لیے تمہیں صرف مقدس نقشے کا پتہ بتانا ہوگا۔‘‘

اب قاسم کو مقدس کا نقشہ یاد آیا۔ شاگال دوسری مرتبہ مقدس نقشے کی بابت پوچھ رہا تھا۔ وہ ایسی کون سی چیز تھی جس کے لئے شاگال قاسم کو زندگی بخش رہا تھا؟ قاسم کے دل میں مقدس نقشے کے لئے بہت زیادہ تجسس پیدا ہوگیا اور اس نے حملہ کرنے سے پہلے مقدس نقشے کے بارے میں کچھ اور جاننا چاہا۔ اس نے شاگال سے سوال کیا۔

’’مقدس نقشے میں کیا ہے؟۔۔۔کیا تم مجھے بتا سکتے ہو؟ کیونکہ میرے پاس اگر کوئی نقشہ ہے بھی تو اس کے بارے میں نہیں جانتا۔‘‘

’’تم سب کچھ جانتے ہو۔ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ مقدس نقشہ تمہارے پاس ہے اور تم ہی نے نوٹاراس کو مقدس نقشہ چوری کرنے پر اکسایا تھا۔ مقدس نقشہ اس وقت اپنی جگہ نہیں۔ لہٰذا صاف ظاہر ہے کہ وہ تمہارے پاس ہے۔ تم اگر مقدس نقشہ میرے حوالے کر دو تو میں تمہارے سارے گناہ معاف کر سکتا ہوں۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا... قسط نمبر 103ُپڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

قاسم کا تجسس اب بہت زیادہ بڑھ گیا۔ کیونکہ جو کچھ شاگال کہہ رہا تھا قاسم کے لئے نیا تھا۔ قاسم نے سپہ سالار نوٹاراس کو ورغلانے کی کوشش ضرور کی تھی لیکن قاسم کسی مقدس نقشے کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ قاسم نے شاگال کو مخاطب کرکے سنجیدگی سے کہا۔

’’شاگال! میرے راستے سے ہٹ جاؤ۔ تمہارا نقشہ میرے پاس نہیں۔ اگر تم نے میرا راستہ روکنے کی کوشش کی تو میں بخوشی تمہارا قصہ پاک کر دوں گا۔‘‘

قاسمنے یہ کہتے ہوئے تلوار لہرائی اور آگے بڑھنا چاہا۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھتا اس کے دائیں بائیں اور پیچھے سے تین چھوٹی جسامت کے درخت اپنی جگہ سے حرکتے آگے بڑھ آئے۔ قاسم اور مارسی دہل گئے۔ گھنی جھاڑیاں خود بخود کیوں چلنے لگی تھیں؟۔۔۔ہاں، یہ جھاڑیاں ارنڈ کے چھوٹے چھوٹے درخت تھے۔ لیکن درحقیقت ان کے پیچھے شاگال کے پراسرار سپاہی چھپے ہوئے تھے۔ شاگال کے سپاہیوں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑے انجیر کے تنے ایک طرف پھینکے اور تلوار میں سونت کر قاسم پرحملہ آور ہوگئے۔ یہ تین سپاہی تھے۔ تینوں کا لباس راہبوں جیسا تھا اور ان کے سر گنجے تھے۔ ان کے جسم شاگال کی طرح ہٹے کٹے اور مضبوط تھے۔ اور قاسم کو پہلے ہی حملے میں اندازہ ہوگیا کہ تینوں سپاہی تلوار چلانے کے فن میں مشاق تھے۔ قاسم نے تین تلواروں کو اپنی شمشیر پر روکا اور ان کیساتھ مبارزت میں مصروف ہوگیا۔ آیا صوفیاء کا عقبی ماحول تلواروں کی سنسناہٹ سے گونج اتھا۔ قاسم کئی ماہ کی قید سے نکلا تھا اور شمشیر زنی کی مشق سے دور رہا تھا۔ جبکہ یہ تینوں بہت ماہر اور طاقتور تلوار باز تھے۔ چنانچہ قاسم کو تین مضبوط تلواروں کا سامنا کرکے دانتوں پسینہ آگیا۔ دشمن کا ہر وار کاری اور قوت سے بھرپور تھا۔ قاسم اچھل اچھل کر خود کو بچا رہا تھا اور بری طرح مشکلات کا سامنا کر رہا تھا۔ آج زندگی میں پہلی بار قاسم کو احساس ہوا کہ وہ شمشیر زنی کا یہ مقابلہ ہار جائے گا۔ لیکن پھر قاسم نے اپنے دل کو تسلی دی اور یہ سوچ کر کہ شہادت عظیم ہے ۔۔۔بے پرواہ ہو کرلڑنے لگا۔ قاسم کی تلوار وار پہ وار روک رہی تھی اور قاسم خود ایک قدم سے دوسرے اور دوسرے قدم سے تیسرے قدم تک دشمن کے وار سے خود کو بچاتا پھر رہا تھا۔ طویل کشمکش کے بعد قاسم کاایک حجازی داؤ چل گیا۔ وہ ایک دم پیروں کے بل زمین پر آبیٹھا اور آن واحد میں ایک سپاہی کی ٹانگیں کاٹ دیں۔ اگلے لمحے وہ اچھل کر باقی دو سپاہیوں کی تلواروں سے خود کو بچا چکا تھا۔ اب اس کے سامنے دو دشمن تھے۔ اس قدر سرد رات میں قاسم کا پورا جسم پسینے سے شرابور ہو چکا تھا۔ایک دم قاسم کو یوں محسوس ہوا جیسے مارسی اور شاگال اپنی جگہ پر موجود نہیں ہیں۔۔۔مارسی کی عدم موجودگی محسوس کرکے قاسم کادماغ غیض و غضب سے بھر گیا۔ وہ کسی وحشی کی طرح غرایا اور دیوانہ وار دونوں تلوار بازوں پر ٹوٹ پڑا۔ قاسم کا یہ انداز ان کے لیے غیر متوقع تھا۔ چنانچہ وہ گھبرا گئے اور قاسم ان پر چھاتا چلا گیا۔ قاسم نے ایک ایک کرکے دونوں سپاہیوں کی گردن کاٹ دی۔لیکن مارسی کو وہ پھر کھو چکا تھا۔

قاسم لڑائی سے فارغ ہوا تو بطریق شاگال اور مارسی دونوں غائب تھے۔ یقیناًشاگال، مارسی کو لے گیا تھا۔ قاسم کو خیال آیا کہ مارسی کے پاس قرآن حکیم بھی ہے۔ گویا مارسی کی سات سالہ تپسیا کا پول کھل جائے گا اور سب کو معلوم ہو جائے گا کہ مارسی راہبہ نہیں بلکہ مسلمان جاسوسہ ہے۔ قاسم پریشان ہوگیا۔ اسے خیال آیا کہ شاگال، مارسی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گا۔ رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔ تمام چرند پرند اپنے ٹھکانوں میں سردی سے ٹھٹھرے سو رہے تھے لیکن آیا صوفیاء کے عقب میں قاسم اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھ رہا تھا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے اورکیا نہ کرے۔۔۔کہ اسے آیا صوفیاء کی عمارت کی جانب سے کئی سپاہیوں کے آنے کی آوازیں سنائی دیں۔ اب قاسم کے لیے یہاں رکنا حماقت ہی تھی۔ قاسم نے ایک لمحے میں فیصلہ کیا اور کسی چھلاوے کی طرح درختوں کے بیچوں و بیچ دوڑتا ہوا آیا صوفیاء کی بیرونی فصیل تک پہنچ گیا۔ قاسم نے ایک لمحے کی دیر بھی نہ کی اور فصیل کے ساتھ ساتھ آگے انجیر کے درختوں میں سے ایک اونچے درخت کا انتخاب کرکے اس پر چڑھنے لگا۔ اب وہ مارسی کے بغیر ہی آیا صوفیاء سے فرار ہورہا تھا۔ مارسی اس سے مل کر پھر بچھڑ گئی تھی۔ لیکن اس وقت قاسم کایہاں سے فرار ہونا بہت ضروری تھا۔ چنانچہ کچھ دیر بعد آیا صوفیاء کے محافظوں اور نگرانوں نے چرچ کا کونا کونا چھان مارا لیکن اب قاسم بن ہشام ان کے ہاتھ آنے والا نہیں تھا۔

اور پھر اگلے روز قاسم ایک یونانی سپاہی کے لباس میں ’’رومیل‘‘ کے گھر کے سامنے نمودار ہوا۔ یہاں وہ بریٹا سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ اس کے جسم پر شاہی محافظ دستے کا سا لباس تھا جسکی وجہ سے وہ آسانی سے پہچانا نہ جا سکتا تھا۔کیونکہ قاسم کے سر پر ایک بڑا آہنی خود تھا جس کے کناروں پر آہنی زنجیریں لٹک رہی تھیں۔ اورجھالر نما چیزوں نے قاسم کاچہرہ چھپا رکھاتھا۔ قاسم کی کمرکے ساتھ صلیب نما شمشیر لٹک رہی تھی۔ اسنے آگے بڑھ کر’’بریٹا‘‘ کے گھر کے دروازے پر دستک دی۔ بریٹا گھرمیں ہی موجود تھی۔ قاسم کی دستک پر دروازہ کھولنے کے لیے آئی اور دروازہ کھولتے ہی اپنی جگہ پر ہکا بکا کھڑی ہوگئی۔ اسکا منہ بولا بھائی کئی ماہ کی قیدت کے بعد اسکے سامنے تھا۔ بریٹا نے قاسم کو دیکھا اور جذبات سے لبریز لہجے میں کہا۔

’’تم؟۔۔۔تم یہاں کیسے؟۔۔۔تم تو جیل میں تھے۔‘‘

بریٹا کے چہرے پر خوشی ، حیرت اور خوف کے ملے جلے جذبات تھے۔ وہ قاسم کو سپاہیانہ لباس میں دیکھ کر سمجھ گئی کہ قاسم نے بھیس بدل رکھا ہے۔ قاسم نے کسی قدر مسکراتے ہوئے کہا۔

’’بریٹا بہن!۔۔۔کیا تم اپنے بھائی کو اندر آنے کے لیے نہیں کہوگی؟‘‘

قاسم کے لہجے میں نہ جانے کیا بات تھی کہ بریٹا فوراً پسیج گئی اور تیزی سے قاسم کو دروازہ کھول کر اندربلا لیا۔ رومیل گھرپرنہیں تھا اور یہی بات معلوم کرکے قاسم بریٹا سے ملنے کے لیے آیا تھا۔ قاسم اندر آیا تو اس کے بولنے سے پہلے بریٹا خود بول اٹھی۔

’’بھیا! تمہیں یہاں نہیں آنا چاہئے تھا۔ رومیل تم سے بہت ناراض ہے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تم یہاں آئے ہو تو وہ تمہیں بے دھڑک گرفتار کروا دیں گے۔‘‘

قاسم بریٹا کی بات سن کر مسکرایا اور بولا’’مجھے معلوم ہے اسی لئے تومیں تم سے ملنے کے لیے اس وقت آیا ہوں جب رومیل گھر پر نہیں ہے۔‘‘

بریٹا قاسم کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے قاسم کو بھائی بنایا تھا اور جس روز قاسم اس کے گھر سے رخصت ہوا تھا وہ بہت روئی تھی۔ آج قاسم کو اپنے سامنے دیکھ کر اس کے آنسو پھر امڈ آئے۔ لیکن اس نے تیزی سے آنکھیں پونچھتے اور مسکراتے ہوئے کہا۔

’’بھیا! میں کل تمہاری مارسی سے مل آئی ہوں۔ وہ تم سے بہت پیار کرتی ہے۔ میں جتنی دیر اسکے پاس رہی وہ تمہیں یاد کرکے آنسو بہاتی رہی۔ میں نے اس کو اسی انگوٹھی سے پہچانا تھا جو ایک دن کے لیے تم نے مجھے پہنچائی تھی۔ بھیا! مارسی تمہیں بہت چاہتی ہے۔‘‘

قاسم، بریٹا کی بات سن کر ششدر رہ گیا۔ یہ کیاماجرا تھا؟ کیا بریٹا کسی اور کو مارسی سمجھ رہی تھی؟ کیونکہ مارسی کی انگوٹھی تو چرچ کی خادمہ سونیا کے ہاتھ میں تھی۔ ہاں، یقیناًبریٹا سونیا کو ہی سسٹر میری سمجھ بیٹھی تھی۔ قاسم بات کی تہہ تک پہنچ گیا۔ لیکن سونیا کے بارے میں جان کر اس کے دل کو صدمہ پہنچا۔ وہ نادانستگی میں سونیا کا دل دکھا بیٹھا تھا۔ آج وہ بریٹا کو ملنے بھی ا سی غرض سے آیا تھا کہ وہ مارسی کا کھوج لگانے میں اسکی مدد کر سکے۔ لیکن یہاں تو معاملہ ہی کچھ اور تھا ۔ بریٹا تو چرچ کی خادمہ سونیا کو سسٹر میری سمجھ بیٹھی تھی۔ معاً قاسم کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اس نے بریٹا سے کہا۔

’’بریٹا بہن! تم جس لڑکی سے ملی ہو کسی طرح مجھے بھی اس سے ملوا دو۔ میں آیا صوفیاء نہیں جا سکتا، لیکن تم جا سکتی ہو۔ میں تمہارے پاس اسی غرض کے تحت آیاہوں۔ میں اپنی مارسی کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔ تم نے جہاں مجھ پر اتنی مہربانیاں کی ہیں ایک مہربانی اور کر دو اور مجھے اس انگوٹھی والی لڑکی سے ملوا دو۔‘‘

بریٹا تو پہلے ہی اپنے محسن اور منہ بولے بھائی پر قربان ہوئی جا رہی تھی۔ اس نے فوراً ہامی بھر لی۔ لیکن قاسم سے یہ سوال کر دیا۔’’بھیا! تم اس سے ملو گے کہاں؟ اس شہرمیں تو تمہارے لئے ہر جگہ خطرہ ہے ۔۔۔‘‘

قاسم نے تیزی سے بریٹا کی بات کاٹ دی اور کہا۔’’ملنے کی جگہ میں نے پہلے سے سوچ رکھی ہے ۔۔۔تم اسے قدیم بازنطینی کھنڈرات کا پتہ بتا کر کہو کہ میں سورج غروب ہونے سے ایک گھنٹہ پہلے انہی کھنڈرات میں اس کا انتظار کروں گا۔‘‘

یہ کھنڈرات اگرچہ شہر کے وسط میں تھے لیکن کوئی ان کی طرف نہ جاتا تھا۔ قاسم نے اسی لئے قدیم بازنطینی کھنڈرات کا ذکر کیا تاکہ وہ سب کی نظروں سے بچ کر سونیا سے مل سکے۔ اس نے دل میں سوچ رکھا تھا کہ وہ سونیا کو سب کچھ بتا دے گا اور سونیا کی غلط فہمی پر اس سے معافی مانگے گا۔ اس نے یہ بھی سوچ رکھا تھا کہ وہ مارسی کے بارے میں بات بھی سونیا کے ساتھ ہی کرے گا۔ بریٹا اپنے منہ بولے بھائی قاسم سے بہت محبت کرتی تھی۔ وہ اس سے پہلے بھی قاسم کے لیے بات کر چکی تھی۔ اس مرتبہ بھی بریٹا نے قاسم کے لئے ہامی بھر لی اور فی الفور آیا صوفیاء جانے کے لیے تیار ہوگئی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح