ایمانداری اور سمجھداری

ایمانداری اور سمجھداری
ایمانداری اور سمجھداری

  

ساہوکار گورکھ ناتھ کا جب مرنے کا وقت قریب آیا تو اْس نے اپنے بیٹے کو بْلا کر کہا کہ دیکھو بیٹا میری دو باتیں ہمیشہ یاد رکھنا کیونکہ میرے بعد یہ دکان تم ہی نے سنبھالنی ہے، ایک ایمانداری دوسری سمجھداری، ایمانداری یہ ہے کہ ہمیشہ دوسروں سے بھلائی کرتے رہنا کیونکہ یہی ہماری دھرم شِکشہ ہے، بیٹے نے کہا کہ پِتاشری سمجھداری کیا ہے گورکھ بولے دیکھو بیٹا بھول کر بھی کسی سے بھلائی نہ کرنا کیونکہ تم جس سے بھی بھلائی کرو گے وہی تمہیں نقصان پہنچائے گا، کہنے کو تو یہ ایک لطیفہ ہے مگر اس لطیفہ میں ہم سب کی زندگیوں کا راز چھپا ہے ہم جس قدر بھی نیک سیرت کیوں نہ بن جائیں لوگ ہمیں ہماری اچھی خصلتوں سے متنفّر ہی کر دیتے ہیں، میں اکثر ایسے نیک سیرت اور انسانیت کے ہمدرد لوگوں کو جانتا ہوں جو مایوس ہو کر گوشہ نشین ہو چکے ہیں صرف اِس بِنا پر کہ لوگ بے ایمانی کی عادت سے باز نہیں آتے، پشتو زبان میں ایک مشہور کہاوت ہے کہ " شہ مہ کوہ بد نشتہ "بھلائی نہ کرو تو آپ کے ساتھ برائی نہیں ہو گی، مگر صرف یہ کہہ دینے سے مسئلہ حل تو نہیں ہو جاتا کہ بھلائی نہ کرو اور بات ختم، ہم چاہ کر بھی خود کو اچھائی سے دور نہیں کر سکتے، شاید یہی وہ بنیادی انسانی دوئی کی کشمکش تھی جسے پاک زرتشت نے یزداں اور اہرمن کے اسماء  سے اپنی تعلیم میں پیش کیا، یزداں جو آپ کو خیر کی جانب کھینچتا رہتا ہے اور اہرمن جو برائی کی قوت ہے جس سے آپ بہرصورت پیچھا نہیں چھڑا سکتے، اسلامی عقیدہ کے مطابق اچھائی اور برائی کی قوت خدا کی جانب سے ہے کہ جیسا کہ ایمانِ مفصل کی عبارات میں درج ہے کہ والقدرِ خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ، یعنی خیر و شر کی اقدار خدا کی جانب سے ہیں، اسلامی عقیدہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ خیر اور شر کا موسسِ اعلیٰ خود خداوند ہے چنانچہ ہمیں اپنے مفاد کے حصول کی خاطر اپنی عقل کا استعمال کرتے ہوئے اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پائمال نہیں کرنا، لیکن انسان آج بھی اپنے انفرادی مفادات پر ہر نوعیت کے اخلاقی اصولوں کو پائمال کر رہا ہے اب اسے ایمان اور عقل کی باہمی کشمکش میں عقل کی ظاہری فتح کہیں یا پھر ایمان کا ضعف کوئی ایک رائے تو بہرصورت قائم کرنی ہی ہے، برائی جو خدا کی جانب سے ہے انسانی عقل کو بلاشبہ اس مخمصے میں جلد یا بدیر بہرطور ڈال ہی دیتی ہے کہ جب نوبت زیادہ برے اور کم برے تک پہنچ جائے تو پھر کونسا آپشن اختیار کرنا چاہئے، دراصل مقابلہ اچھائی یا برائی کا سرے سے ہے ہی نہیں، مقابلہ برائی اور کم برائی کا چل رہا ہے پھر انسانی عقل کی یہ عنایت بھی کچھ کم نہیں کہ وہ کم برائی کو اختیار کر لے، اب اس سے بھی ایک درجہ اوپر کا معاملہ ہے مسئلہِ تحکیم، یعنی جب معاملہ خالصتاً حکم کا آ جائے تو پھر اچھائی یا برائی کو دیکھا جائے یا پھر حکم کی تعمیل کی جائے؟ جگر مراد آبادی صوفی منش انسان تھے ایامِ شباب سے لیکر آخری عمر تک مسلسل شراب نوشی کرتے رہے، آخری عمر میں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ کے معروف صوفی بزرگ حکیم شاہ محمد اختر صاحب کی صحبت اختیار کر لی تھی اور ہمہ وقت یہی فکر لگی رہتی کہ کسی طریقے سے اس بری لت سے جان چھوٹ جائے لیکن چونکہ آپ کے گْردے الکوحل کو جذب کرنے کے عادی ہو چکے تھے اس لئے اطباء نے مشورہ دیا کہ ترکِ شراب نوشی آپ کیلئے مہلک ثابت ہو سکتی ہے چنانچہ کچھ عرصہ بادلِ ناخواستہ یہ عادت جاری رکھی مگر پھر جب شاہ صاحب سے شراب نوشی کی ممانعت کے متعلق حکمِ خداوندی کی علت جان لی تو پھر ایک دم سے شراب نوشی ترک کر دی اور پھر اسی سبب آپ کا انتقال بھی ہو گیا، مجھ سے اکثر آزاد منش نوجوان پوچھتے رہتے ہیں کہ قبلہ ہم تو شراب پی کر کوئی ہلڑ بازی یا غیر اخلاقی حرکات میں مبتلا نہیں ہوتے کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شراب نوشی کی ممانعت کا اصلی فلسفہ کیا ہے؟ اس موقع پر میرا ایک ہی جواب ہوتا ہے کہ شرط جب حکم ہو تو منطق کے اصول کے مطابق شرطِ حکم کا صلہ نہیں پوچھا جاتا ورنہ پھر نفسِ حکم کی انفرادی حیثیت ہی باقی نہیں رہتی، زمانہِ طالبعلمی میں اساتذہ ہمیں عربی زبان میں ایک دعا سکھایا کرتے " اللھم انی اسالک علما نافعا، ورزقا طیبا، وعمل متقبلا، یعنی اے اللہ ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ نفع مند علم، حلال رزق اور مقبول عمل کا، پھر ہمارے ایک ہم جماعت فوری سپاٹ لہجے میں بول پڑتے کہ حضرت علم نافع سے کیا مراد ہے کیا ہمیں کوئی زبردست قسم کی سرکاری نوکری ملے گی پس ہم جماعت کی اس بات پر سب جماعت ہنس پڑتی، اصل میں یہ بات اْس وقت سچ نہیں تھی لیکن آج بالکل سچ ہو چکی ہے کیونکہ آج علم نافع صرف وہی ہے جو آپ کو سولہ سترہ گریڈ کی سرکاری نوکری دلوا دے، حالانکہ علم نافع کا حقیقی مطلب یہ تھا کہ جب احکام کا معاملہ آ جائے تو بجائے عقل کو بروئے کار لا کر انتشار پیدا کرنے کے احکام کی تعمیل کی جائے کیونکہ حکم فی نفسہ بالا از فکرِ نیک و بد اور درکِ موزوں ہے، میری عمر بمشکل اکیس سال ہی ہو گی جب میں نے غیر رسمی طور منطق میں تخصص یعنی جسے پی ایچ ڈی کہا جاتا ہے کر لیا تھا، مطلق منطق تو مدارس میں پڑھائی ہی نہیں جاتی بلکہ اب تو علم  الکلام بھی برائے نام پڑھایا جاتا ہے، ہمارے وقت میں علامہ محمد زمان صاحب علم الکلام کے کہنہ مشق اْستاد تھے اور شرح العقائد جیسی دقیق کتب پڑھایا کرتے، منطق پڑھنے کے بعد میرے اندر ہمیشہ سے سمجھداری اور ایمانداری کی کشمکش جاری رہتی اْس وقت مجھے محسوس ہوتا تھا کہ شاید کلام جیسا دقیق علم پڑھنے کی وجہ ہی سے مجھے یہ مسئلہ پیش ہو رہا ہے مگر بعد میں جب شعور نے بھرکیاں ماریں تو معلوم ہوا کہ یہ تو سب کا مسئلہ ہے لیکن بامراد ہوا وہ شخص جس نے سمجھداری کو پیچھے چھوڑ کر ایمانداری کی اختیار کر لی ورنہ علم پھر وسیلہِ فساد کے علاوہ تو کوئی معانی ہی نہیں رکھتا کیونکہ منطق زیادہ تر بے ایمانی کے حق میں ہی دلائل گھڑتی رہتی ہے پس ایمانداری کو کلام کی کیا حاجت. 

مزید :

رائے -کالم -