حالات کی ضرب کا ستایا ہے ایک پاکستانی 

حالات کی ضرب کا ستایا ہے ایک پاکستانی 
حالات کی ضرب کا ستایا ہے ایک پاکستانی 

  

’’سر میں بہت سے مسائل کا شکار ہوں۔ عرصے سے روزگار نہیں مل رہا۔ گھریلو حالات خراب ہیں۔ بہنوں کی شادی میں بھی مشکلات درپیش ہیں اور اپنی شادی کا تو بے روزگاری کی وجہ سے کوئی امکان ہی نہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کروں؟‘‘

یہ ایک نوجوان تھا جو عارف کی مجلس میں کسی جاننے والے کے ہمراہ پہلی دفعہ آیا تھا۔ اس مجلس میں علم و حکمت کے موتی بکھرتے تھے۔ اس نوجوان کے مسائل سن کر ہی عارف کی مجلس میں باقاعدہ آنے والے ایک صاحب اس نوجوان کو ساتھ لے آئے تھے کہ اس کی کچھ رہنمائی ہوسکے۔

’’کبھی کسی خوبصورت مجسمے کو دیکھا ہے؟‘‘، عارف نے ایک سوال سے اپنے جواب کا آغاز کیا۔ نوجوان نے اثبات میں گردن ہلا دی۔ عارف نے اپنی بات جاری رکھی۔

’’اور کسی انگوٹھی میں جڑے ہیرے یا کسی قیمتی پتھر کو بھی دیکھا ہوگا؟‘‘ نوجوان کا جواب پھر اثبات میں تھا، گرچہ لگتا تھا کہ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ عارف مسکرائے اور بولے۔

’’یاد رکھیے! کوئی خوبصورت مجسمہ، کوئی خوبصورت ہیرا اور کوئی خوبصورت نگینہ وجود میں نہیں آسکتا جب تک کوئی ماہر اسے ضرب نہ لگائے، اسے چوٹ نہ مارے اور اسے کاٹ کر اور گھس کر ہموار نہ کرے۔‘‘

نوجوان کے چہرے پر ابھی بھی نہ سمجھنے والے تاثرات تھے۔ عارف نے سمجھانا شروع کیا’’مشکل حالات اسی لیے آتے ہیں۔ یہ ہمیں کاٹتے ہیں، گھستے ہیں، ہمیں ضرب لگاتے ہیں۔ ان کا مقصد ہماری شخصیت کو تراش کر ایک خوبصورت ہستی بنانا ہوتا ہے۔ ہمیں ایک قیمتی ہیرا بنانا ہوتا ہے۔ مگر ہم خدا کے اس کام کو سمجھنے کے بجائے اس سے ناراض ہوجاتے ہیں۔‘‘

’’مگر میری شخصیت میں تو کوئی خوبصورتی نہیں آرہی۔ میرا تو مزاج ہی ان حالات کی وجہ سے بگڑتا چلا جارہا ہے۔ میں چڑچڑا ہو رہا ہوں۔ ہر وقت غصہ آتا رہتا ہے۔‘‘

نوجوان کی سمجھ میں بات تو آگئی تھی، مگر اس کا مسئلہ بدستور باقی تھا جو اس نے عارف کے سامنے رکھ دیا۔ انھوں نے دلنشین لہجے میں دوبارہ کہا’’اس کا سبب آپ کی مزاحمت ہے۔ آپ حالات کی ہر ضرب پر مزاحمت شروع کر دیتے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی پتھر کسی سنگتراش کی ہتھوڑی لگنے پر مزاحمت شروع کر دے۔ پتھر مزاحمت نہیں کرتے۔ اس لیے وہ پتھر سے شاہکار بن جاتے ہیں۔‘‘

’’مگر میں تو پتھر نہیں۔ مجھے درد ہوتا ہے۔ مجھے تکلیف ہوتی ہے۔‘‘ نوجوان بحث پر آمادہ تھا۔

’’میں یہ نہیں کہہ رہا کہ درد محسوس کرنا بند کر دیں۔ درد تو ہوگا، تکلیف بھی ہوگی۔ مگر آپ اس درد کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیں، صبر کرنے کا فیصلہ کرلیں تو یہ درد دو کام کرے گا۔‘‘

یہ کہہ کر عارف رکے اور نوجوان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولے۔’’پہلا یہ کہ یہ آپ کی شخصیت کو بہت مضبوط بنا دے گا۔ درد انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ مشکل سے ہر انسان گھبراتا ہے۔ مگر جو شخص ان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرلیتا ہے، وہ ناقابل شکست ہوجاتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر امتحان میں سرخرو ہوتا ہے۔ اسے ہر دوڑ میں فتح اور ہر مقابلے میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ درد برداشت کرنے کا بدلہ حوصلہ ہے اور حوصلہ ہر کامیابی کی کنجی ہے۔‘‘

اس آخری جملے پر حاضرین مجلس جھوم اٹھے۔ نوجوان کو ساتھ لانے والے صاحب بے اختیار بولے۔

’’واہ! آج تو درد کا سارا فلسفہ سمجھ میں آگیا۔‘‘، عارف کا رخ نوجوان کی طرف رہا۔’’اس درد کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ یہی درد انسان کو عمل پر آمادہ کرتا ہے۔ یہ درد انسان میں توانائی پیدا کرتا ہے۔ ہم کرتے یہ ہیں کہ اس توانائی کو غصہ اور جھنجھلاہٹ میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے اس توانائی سے عقل کو بیدار کرنا چاہیے۔ عقل بیدار ہوگی تو آپ کے مسائل کا کوئی نہ کوئی حل نکال دے گی۔ آپ حل نہ بھی نکال سکے تو وقت گزرنے پر حالات خود ہی کوئی راستہ کھول دیتے ہیں۔ مگر اس عرصے میں آپ کی شخصیت مضبوط اور توانا ہوجاتی ہے۔ آپ کا حوصلہ بلند اور عقل فعال ہوجاتی ہے۔ یہی دو چیزیں انسانی شخصیت کو سارا جمال اور ساری توانائی دیتی ہیں۔ یہی چیزیں آپ کو دوسروں کی نگاہوں میں بہت دلکش بنا دیتی ہیں۔ درد کو برداشت اور استعمال کرنا آپ کے وجود کو ایک پیکرِ تراشیدہ بنا دیتا ہے۔‘‘

نوجوان کے چہرے پر پہلی دفعہ مثبت تاثرات ابھرے۔ بات اب اس کی سمجھ میں آگئی تھی۔ مگر اس کو ساتھ لانے والے صاحب بولے۔

’’جناب آپ کی بات درست ہے، مگر یہ بہت مشکل راستہ ہے۔ کوئی آسان راستہ بھی ہے پیکرِ تراشیدہ بننے کا۔‘‘

’’ہاں۔۔۔ آسان راستہ بھی ہے۔‘‘، عارف نے شگفتگی کے ساتھ کہا:

’’کسی اچھے استاد، کسی اچھے عالم، کسی اچھے مربی کی صحبت اختیار کیجیے۔ اس کی تنقید کو کھلے دل کے ساتھ سنیے۔ اچھا مربی شخصیت ساز ہوتا ہے۔ وہ اپنی تنقید سے آپ کی ناپختہ شخصیت کو تراشیدہ ہیرے میں بدل دے گا۔ مگر آپ کو اس کی بات سننی ہوگی۔ اس کی بات ماننی ہوگی۔ اور اپنے اوپر کی گئی تنقید کو حوصلے کے ساتھ برداشت کرنا ہوگا۔ یہی آسان راستہ ہے۔‘‘

عارف کی بات پوری ہوئی تو نوجوان نے آہستگی سے کہا:’’میں یہاں آتا رہوں گا۔ یہ آسان راستہ ہے۔‘‘

۔

یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے 

مزید : بلاگ