بلا تحقیق سنی سنائی بات آگے پھیلانے کے نقصانات ۔۔۔۔

بلا تحقیق سنی سنائی بات آگے پھیلانے کے نقصانات ۔۔۔۔
بلا تحقیق سنی سنائی بات آگے پھیلانے کے نقصانات ۔۔۔۔

  

جھوٹ‘ جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں‘‘۔ (متفق علیہ)لہذا ہر مسلمان کو بذات خود یا حکومتی و مذہبی ذمہ دار افراد یا قابل اعتماد ذرائع ابلاغ وغیرہ کے ذریعے تحقیق و تصدیق کا ٹھوس موقف اپنانا چاہئے اور کسی بھی خبر یا پیغام کو شیئر کرنے میں جلد بازی سے بچنا چاہئے کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے:

’’اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے‘‘۔

ایک حدیث میں ارشاد نبویﷺ ہے: ”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے پھیلا دے “( صحیح مسلم )​

۔۔۔ویڈیودیکھیں۔۔۔۔

مزید :

ویڈیو گیلری -