فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر513

Sep 07, 2018 | 15:02:PM

علی سفیان آفاقی

سلویسٹر اسٹالون کاذکر چلا ہے تو پھر اس بارے میں بھی کچھ بیان کر دیا جائے۔ سلویسٹر اسٹالون نے فلم ’’راکی‘‘ سے شہرت حاصل کی۔ اس فلم میں اسنے ایک باکسرکا کردار ادا کیاتھا۔ فلم کی کہانی میں مار پٹائی کے علاوہ جذباتی مناظر بھی تھے جو عموماً مغربی ایکشن فلموں میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔’’راکی‘‘ بے حد کامیاب ہوئی ۔ ’’راکی ۲‘‘ بنائی گئی اور اسکوبھی بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی۔ بس پھر کیا تھا ایک سلسلہ چل نکلا۔ پاکستانی فلم سازوں پر ہمارے ہاں لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ جس قسم کی کہانی مقبول ہو جاتی ہے یہ پھر ہاتھ دھو کر اسی کے پیچھے پڑ جاتے ہیں حالانکہ ہالی وڈ میں بھی یہی رواج رہا ہے۔

سلویسٹر اسٹالون اس حد تک خوبصورت انسان ہے کہ اس کی چمڑی سفید ہے۔ اس نے بہت محنت سے اپنا جسم ایک باڈی بلڈر کے مانند مضبوط اور متناسب بنایا تھا اور آج تک (مقبولیت کھو دینے کے باوجود) اس کو قائم رکھے ہوئے ہے۔ کچھ عرصے بعد معلوم ہوا کہ سلویسٹر سٹالون نہ صرف یہ کہ سخت ورزشیں کرتا ہے بلکہ جسم کے مسلز بنانے کے لیے قیمتی ادویات بھی استعمال کرتا ہے جو کچھ عرصے بعد انسانی صحت پر مضر اثرات ڈالتی ہیں مگر جسم کو متناسب اور مضبوط رکھنے کی دھن میں کون ان باتوں کی پرواکرتا ہے۔ خصوصاً ایسے حالات میں جب یہی جسمانی خوب صورتی شہرت اور دولت حاصل کرنے کا وسیلہ بھی بن جائے۔

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر512پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سلویسٹر اسٹالون کی مذکورہ بالا دو خوبیوں کے سوا اس میں کوئی اور حسن یا خوبی نہیں تھی اور نہ ہے۔ وہ ایکشن فلموں میں انتہائی دشوار گزار کردار ادا کرتا رہا جن میں اداکارانہ صلاحیتوں کا کوئی دخل نہ تھا۔ نفرت، انتقام اور دشمنوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے ہر قسم کے اسلحے اور جسمانی قوت کا استعمال ہی اس کی اداکاری کی معراج تھی۔ کئی فلموں میں بیشتر مناظر میں وہ منہ سے ایک لفط تک نہیں نکالتا تھا۔ اسلحے کا اندھا دھند استعمال، نا قابل یقین انسانی قوت کا مظاہرہ اور مارکٹائی کے سوا اس کی اداکاری میں کوئی خوبی نہ تھی۔ وہ فلموں میں حیرت انگیز کارنامے سر انجام دیاکرتا تھا۔ تن تنہا دشمن کی پوری فوج کو تہس نہس کر دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ درجنوں دشمنوں اور غنڈوں کے ہجوم کو وہ پلک جھپکنے میں تتر بترکر دیا کرتا تھا۔ وہ بے پناہ قوت، جرات اور حیرت انگیز صلاحیتوں کا مالک تھا۔ بعض فلموں میں وہ اکیلا ہی دشمن کے خلاف کسی مشن پر جاتا اور فتح بالآخر اس کے قدم چوم لیتی۔ اس کی ان ناقابل یقین صلاحیتوں کو ساری دنیا کے فلم بین سراہتے تھے۔ ہمارے پاکستانی فلم بین بھی اسکے گن گاتے تھے۔ عام لوگوں کی بات نہیں ہے تعلیم یافتہ طبقہ جو پاکستانی فلموں میں سو سو کیڑے نکالنے کا عادی ہے وہ بھی سلویسٹر اسٹالون کے کارناموں کو دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پنجابی فلموں کے سب سے مشہور اور مقبول ہیرو سلطان راہی کو اداکار ہی تسلیم نہیں کرتے تھے۔

’’وہ بھی کوئی ایکٹر ہے۔ نہ صورت نہ شکل۔ انتہائی بدشکل۔ ادکاری تو اس کے قریب سے نہیں گزری ہے اور حماقت کی انتہا یہ ہے کہ اکیلا درجنوں دشمنوں پر بھاری ہے۔ تن تنہا دشمنوں کی لاشوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیتا ہے۔ یار ہمارے فلم ساز، ہدایت کار اور کہانی نویس خدا کا خوف نہیں کرتے۔ بھلا کوئی ایک انسان ایسے کارنامے سر انجام دے سکتا ہے؟‘‘

سلطان راہی کے بارے میں ان کے یہ خیالات تھے مگر یہی لوگ اکیلے سلویسٹر اسٹالون کو ایک ملک کی پوری فوج کے خلاف نبرد آزما رہنے اور اس پر فتح حاصل کر لینے پر کہتے تھے ’’واہ صاحب کیا بات ہے۔ ہالی وڈ پھر ہالی وڈ ہے اور سلویسٹر اسٹالون کا توجواب ہی نہیں ہے۔‘‘

ہالی وڈ اور دنیا بھر کے فلم بین بھی بھیڑ چال کے شکار ہیں۔ جب تک اسٹالون کے سر پر کامیابی کا ہما بیٹھا رہا وہ مقبول ترین ہیرو رہا مگر پھر شاید لوگوں میں عقل ، آگئی، شعور پیدا ہوگیا یا پھر فلموں میں اس کے کرداروں کی یکسانیت انہیں بیزار کرنے لگی۔ وجہ کچھ بھی ہو مگر اسٹالون کی فلموں کی کامیابی کا سلسلہ ایسا رکا کہ پھر اس کی بڑے سے بڑے بجٹ والی فلم بھی بری طرح ناکام ہونے لگی۔ ایک بار زوال کا آغاز ہوا تو پھر یہ سلسلہ کہیں بھی نہ رک سکا۔ یہ دیکھ کر فلم سازوں نے وہی کیا جو ساری دنیا کے فلم سازوں کا طرز عمل ہے۔ انہوں نے سلویسٹر اسٹالون کے بھاری معاوضے اداکرنے سے انکار کر دیا۔ اس کو فلموں میں مرکزی کردار دینے سے منکر ہوگئے۔ اسٹالون کی جگہ دوسرے اس سے بھی زیادہ بد شکل لیکن طاقت ور، حیران کن کارنامے سر انجام دینے والے ادکاروں نے لے لی۔ اب سلویسٹر اسٹالون قریب قریب ایک بھولی ہوئی کہانی بن چکا ہے۔

اس کے برعکس سلطان راہی کو دیکھیئے تو معلوم ہوگا کہ اس کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی۔ اس کے فلم بین اور مداح آخری دم تک اس کے پرستار ہی رہے۔ جوں جوں سلطان راہی کی عمر اور پیٹ بڑھتا رہا توں توں اس کے مقبولیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ فلم کی کامیابی کے لیے سلطان راہی کا نام ہی کافی سمجھا جاتا تھا۔ کہانی کیا ہے ہیروئن کون ہے۔ ہدایت کاری کے فرائض کس نے سر انجام دیے ہیں؟ فلم بینوں کو اس سے کوئی سروکار نہ تھا۔ انہیں تو بس سلطان راہی کو دیکھنے سے مطلب تھا۔ وہ اس کی ہر ادا پر فدا تھے۔ جب سلطان راہی کا اچانک پراسرار قتل ہوا اس وقت اس کی عمر ۵۵ سال کے لگ بھگ تھی مگر اس کی مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی تھی۔ لاکھوں لوگوں نے اس کے جنازے میں شرکت کی۔ کہتے ہیں کہ گستاخ رسولﷺ کو قتل کرنے والے غازی کے بعد لاہور شہر میں کسی کے جنازے میں اس قدر ہجوم نہیں دیکھا جو واقعی سوگوار اور اشک بار تھا۔

سلطان راہی اور سلویسٹر اسٹالون میں یہی فرق تھا مگر یہ مغرب زدہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ اسٹالون کا رنگ گورا تھا۔ وہ امریکی تھا۔ ہالی وڈ کی فلموں کا ہیرو تھا۔ اس کے بعد اس میں کوئی اور خوبی مطلوب تھی نہ ضروری۔سلطان راہی اس سے بڑا اداکار تھا جس نے ایکشن اور ڈائیلاگ دونوں میں نام کمایا ،البتہ حسن ووجاہت میں ذرا دونوں ایک لیول پر تھے ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں