A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 43

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 43

Apr 08, 2018 | 15:02:PM

قاضی عبدالستار

سامو گڑھ کے قلب میں کھڑے ہوئے برگد کے دیو پیکر درخت پر چڑھ کر اگر کوئی دیکھتا تو اسے سامنے میدان پر چھائی ہوئی ڈوبتے سورج کی گلابی روشنی میں ایک الف لیلوی شہر نظر آتاہے۔رنگا رنگ بارگاہوں، شامیانوں، خرگاہوں، سراپردوں، خیموں، سراچوں،قناتوں اور چھولداریوں کے مخلات و باغات ومکانات آباد نظر آتے۔وسط میں سات درجوں،پانچ کلسوں اور دو منزلوں والی قرمزی مخمل و زربقت و باغات کی وہ فلک بارگاہ کھڑی تھی جس کے ایک اطلس پوش شہیتر کو روئے زمین کی سب سے بڑی سلطنت کے جلیل المرتبت شہنشاہ(شاہ جہاں) کے آنسوؤں کی خلعت میں ملبوس دعائیں تھامے ہوئے تھیں۔بارگاہ کے گرد سرخ باغات کی قناتوں کا حصار تھا۔جس کے چہار جانب پاکھروں میں ڈوبے گھوڑوں پر آہن پوش سواروں کی ناپید کنار سمندر موجیں مار رہا تھا اور آسمان سے باتیں کر تے ہوئے کلس،طوغ وعلم اورماہی مراتب کی سنہری ڈانڈیں پکڑے غلاموں کی طرح کھڑے تھے۔پیش گاہ کا لق و دق میدان سیکڑوں جنگلی آراستہ ہاتھیوں سے لبریز تھا۔دوسری تینوں سمتیں دارائی’’کارخانوں‘‘ سے چھلک رہی تھے۔داہنی طرف ستم خاں فیروز جنگ اور سپہ سالار شاہی کی سبز قیام گاہ تھی،پیگوڈا کی مانند نکیلے کلس پر پنچ ہزاری نشان اڑ رہا تھا اور بلخ سیدکن تک لڑائیوں میں جیتے ہوئے نشانوں کے سامنے مغل اورزبک،ایرانی اور تورانی سپاہیوں کا ہجوم تھا۔

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

فلک بارگاہ کے بائیں بازو پر بوندی کے راجہ راؤ چھتر سال ہاڑا کی زرد منزل گاہ تھی جس کے روکا ر پر اکیاون لڑائیوں کے تمغے جھنڈوں کے لباس پہنے جھوم رہے تھے اور پیشانی پر بوندی راج اور راجاؤں کے مورثی علم لہرا رہے تھے۔راؤ کے بھائیوں،بیٹوں،بھتیجوں اور ہوا خواہوں کے نارنجی زرد اور گیرو ے رنگ کی منزل گاہوں کا سلسلہ دور تک چل گیا تھا۔جنگلی اور کانٹے دار حد بندیوں کی دوسری طرف وزیر الملک امیر الامراء نواب خلیل اللہ خاں سپہ سالار شاہی کی آسمانی بارگا ہ تھی۔تین پشتوں سے وراثت میں آئی ہوئی ساری دولت وحشمت جیسے آج نواب باہر نکال کر ڈال دی تھی۔باپ داد ا کے وہ علم جو جہانگیر اور شاہجہاں کے دست خاص مرحمت فرمائے تھے،بارگاہ کے نشیب و فراز میں اڑ رہے تھے،نواب پندرہ ہزار خوں آشام گر مصلحت کوش تلواروں کے ساتھ جلوس کئے ہوئے تھا۔

عماد پور کو جانے والی سڑک پر سرخ محلات کے سائے میں جہاں شکار پر نکلا ہوا شہنشاہ قیام پذیر تھا،راجہ رام سنگھ راٹھور کی زعفرانی منزل گاہ تھی۔بارگاہ کے سامنے گیارہ پشتوں کے مورثی اور تین پشتوں کی خدمات جلیلہ کے انعام میں بخشے ہوئے شاہی نشان کے چشم و چراخ راجہ کے سایہ اقبال میں تلواریں چلانے نکل پڑے تھے۔حکم شاہ جہانی پہنچتے ہی راجہ سوار خاصہ کے ساتھ کوچ پر کوچ کرتا ہوا اکبر آباد پہنچا تو اطلاع ملی کہ ولی عہد سلطنت یلغار کر چکے ۔لشکر کو چنبل کی طرف روانگی کا حکم دے کر سلام شاہی کوباریاب ہوا۔گراں قدر نذر پیش کی(جو اس نذرکے مقابلے میں کہیں معمولی تھی جس سامو گڑھ کے میدان میں گزرنا مقدر ہو چکا تھا) خلعت ہفت پارچہ معہ سات رقوم جواہر،شمشیر مرصع اورفیل آراستہ کا انعام دے کر یلغار کرتا سا موگڑھ پہنچا۔خیام داری برپا ہو چکے تھے۔دارا نے فلک بارگاہ کی پشت پر اترنے کا حکم دیا۔راجہ کے داہنے بازو پر اردو بازار تھا۔جس کے چارو ں طرف اونٹوں،گھوڑوں،خچروں ،بیلوں اور بھینسوں کا جنگل پھیلا ہوا تھا۔چمڑے،کپڑے،بورے،بھوس اور سرکی کے دورویہ مکانوں اور دکانوں میں ہاتھی گھوڑے سے لے کر نون مرچ تک کا شاہی بھاؤ پر سودا ہو تا تھا۔اس بازار میں وہ دکانیں تھیں جواورنگ زیب کی خدمت میں پہنچائے جاتے تھے۔

سات سو نجومی آج تمام دن اس مبارکہ ساعت اور شبھ لگن کی جستجو کرتے رہے جو دارا کیلئے فتح کی بشارت لے کر طلوع ہونے والی تھی لیکن طلوع نہ ہو سکی ،دارانے جو نئے ہاتھ گھوڑے اور نئے غلام اور جواہر تک نجومیوں کے مشورے کے بغیر استعما ل نہ کرتا تھا،آج تما م دن آخری مئی کی ناقابل بیان گرمی میں کھڑا جلتا رہا۔شعلوں کی چادر کے مانند تنی ہوئی دھوپ کے نیچے زرنگا فولاد کا لباس پہنے تما م لشکر کو رکاب میں سمیٹے کھولتا رہا۔تیسرا پہلو ہوتے ہوئے سینکڑوں لشکری اور ہزاروں جانور پیاس اورلوکی شدت سے بے ہوش ہو کر گرپڑے تھے،مر گئے تھے۔زوال آفتاب کے بعد لشکر کو واپسی کا حکم ملا تھا۔بے پناہ جسمانی تھکن سے چور آدمی اور گھوڑے خٹک سائے میں ڈھیر پڑے تھے،الٹے سیدھے دانے پانی سے پیٹ کا دوزخ بھر کر اس صبح کا انتظار کر رہے تھے جو سیہ بخت گھوڑے پر سوار ان کی طرف اڑتی چلی آرہی تھی۔

اورنگ زیب کے سفری سراپردۂ خاص کے گرد سلاخ پوش محافظ دستہ اس طرح اپنے گھوڑوں کو ابھڑائے کھڑا تھا جیسے کا نٹے دار جھاڑیوں کی باڑھ کھڑی ہو۔نیزوں میں پیوست مشعلوں کی لزرتی روشنی میں آنیوالے اپنے گھوڑوں سے اترپڑے۔سواروں کی دیواروں ایک طرف سے پھٹ گئی۔’’گلال بار‘‘میں کھڑے ہوئے چوبداروں نے اندر جاکر اجازت حاصل کی۔واپس آکر اپنے ساتھ امیروں کی جماعت کو باریاب کیا۔(جاری ہے )

تاریخ مغلیہ کے صوفی منش اور محقق شہزادے کی داستان ... قسط نمبر 44 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزیدخبریں