کتابیں اور جوتے بیچنے والے ادارے

  کتابیں اور جوتے بیچنے والے ادارے
  کتابیں اور جوتے بیچنے والے ادارے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

     اسلام آباد کی ایک مشہور بک شاپ کی انتظامیہ کے رویے کے باعث ان دنوں سوشل میڈیا پر خوب ہنگامہ برپا ہے۔ایک صاحب نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ اب اس ادارے کو کتابوں کی بجائے جوتوں کی دکان بنا لینی چاہیے۔ہوا یہ کہ ایک صاحب نے اس بک شاپ سے ایک کتاب خریدی۔اول تو یہ کہ خریدار کو کتاب مہنگے داموں فروخت کی گئی۔دوم یہ کہ اسے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر بھی رعایت نہیں دی گئی۔خریدار اس بک شاپ سے باہر نکلا تو قریب ہی واقع ایک اور بک شاپ میں چلا گیا۔وہاں سے اسے وہی کتاب نہایت سستے داموں مل گئی۔خریدار مہنگی کتاب لے کر پہلے والی بک شاپ میں گیا اور کتاب واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔بک شاپ انتظامیہ نے کتاب واپس کی نہ رقم، بلکہ پاکستانی تجارت کے "سنہرے اصولوں " کے مطابق کہا کہ ہم خریدی ہوئی کتاب واپس لیتے ہیں نہ رقم واپس کرتے ہیں۔خریدار چونکہ مغربی ملکوں میں خریداری کا عادی تھا جہاں خریدی ہوئی چیز مہینے بعد بھی واپس ہو سکتی ہے، اس لیے اس نے فیس بک پر ایک غصیلی پوسٹ جڑ دی۔بک شاپ کا موقف سامنے آیا تو لوگوں کی ملی جلی آرا سامنے آنے لگیں۔کچھ لوگوں نے بک شاپ کی حمایت کی اور بیش تر نے خریدار کی طرف داری کی۔ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ اسی بک شاپ کے بارے میں ایک شادی شدہ خاتون نے پوسٹ لگا دی۔اس نے لکھا کہ وہ کتابوں کی خریداری کے لیے اس بک شاپ میں گئی۔شیرخوار بیٹی گود میں تھی۔اس نے بیٹی کو دودھ پلانے کے لیے کسی کنج تنہائی کی بات کی تو انتظامیہ نے اسے بک شاپ سے باہر جانے کو کہا۔وہ بادل نخواستہ بیرونی دروازے کے باہر بیٹھ کر اپنی بیٹی کو دودھ پلانے لگی۔انتظامیہ نے اس خاتون کو وہاں سے اٹھنے کو کہا تو خاتون نے یہ ساری صورت حال فیس بک پر پوسٹ کر دی۔یہ صورت احوال دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ یہ ادارہ بھی شاید لاہور کے ایک بڑے ادارے کی طرح کتابوں کا کاروبار ترک کر کے جوتوں کی مارکیٹ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔کیونکہ جو ادارے اپنا کام جاری رکھنا چاہتے ہیں، وہ اپنے گاہکوں کی عزت نفس کا ہمیشہ خیال رکھتے ہیں۔

  اسلام آباد کی بک شاپ کی صورت حال دیکھ کر عام آدمی یہ سمجھنے لگا ہے کہ شاید کتابیں چھاپنے اور بیچنے والے سارے ہی ادارے ایسے ہی رویے کے مالک ہیں۔وہ شاید اپنے گاہکوں کی کوئی عزت نہیں کرتے۔اسلام آباد کی  بک شاپ کے بارے میں تو میں کچھ نہیں کہ سکتا کہ اس کا رویہ کیوں اتنا درشت اور سخت تھا لیکن میں پاکستان کے کچھ ایسے اشاعتی اداروں کے بارے میں گواہی دے سکتا ہوں جو اپنے ہاں آنے والے ہر خریدار کی نہ صرف عزت کرتے ہیں بلکہ ان سے مستقل نوعیت کا تعلق استوار کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تاکہ کتاب دوستی کا سفر جاری و ساری رہے۔

    سب سے پہلے میں پاکستان کے سب سے بڑے ادارے "سنگ میل پبلی کیشنز" کی مثال آپ کے سامنے رکھوں گا۔آپ "سنگ میل" سے کتاب خریدیں یا نہ خریدیں، یہاں آپ کو گپ شپ کے لیے اس کے مالک افضال احمد ملیں نہ ملیں، پینے کے لیے ٹھنڈا جوس اور بیٹھنے کیے نرم اور دبیز صوفہ ضرور ملے گا۔مستقل خریداروں کو زیادہ اور کبھی کبھار آنے والوں کو کچھ نہ کچھ رعایت بھی مل جاتی ہے۔نیاز احمد صاحب کے زمانے میں تو یہاں لاہوری کھابے بھی مفت میں مل جایا کرتے تھے۔یہاں تک کہ وہ سال میں ایک بار اپنے ماڈل ٹاون والے مکان میں نام ور اور ممتاز ادیبوں کو لاہوری ناشتے پر بھی مدعو کیا کرتے تھے۔سنگ میل  کے خریدار اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ یہاں انھیں ان کے پسندیدہ مصنفین سے ملنے کا موقع بھی مل جاتا ہے۔اپنے شہر ملتان کے ادارے "کتاب نگر" کی مثال بھی دوں گا جہاں ہر خریدار کو بغیر کہے، پینے کو چائے پانی ملتا ہے اور من چاہی رعایت بھی دی جاتی ہے۔"کتاب نگر" کے مالک شاکر حسین شاکر چونکہ خود ایک ادیب ہیں اور نیچے سے اوپر آئے ہیں اس لیے وہ بجا طور پر سمجھتے ہیں کہ کتاب خریدنے اور پڑھنے والے ہر شخص کی دلی قدر کی جانی چاہیے۔میں جب بھی ان کے ادارے میں گیا وہاں مجھے ادیبوں شاعروں کا اکٹھ دکھائی دیا۔مال روڈ پر واقع "ماورا بکس" پر آپ جائیے تو البیلے شاعر خالدشریف آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجھے تو ایسا کوئی دن یاد نہیں کہ میں وہاں گیا ہوں اور چائے پیے اور ایک آدھ کتاب بطور تحفہ لیے بغیر واپس آ گیا ہوں۔کلاسیک والے آغا امیرحسین بھی ایسی ہی محبت کا اظہار کرتے تھے۔ان کے بیٹوں کا رویہ خالصتا" تاجرانہ ہوتا تھا لیکن آغا صاحب ادبی برادری کی عزت و احترام کا بہت خیال رکھا کرتے تھے۔پرانی انار کلی میں واقع "الحمد پبلی کیشنز" چلے جائیے تو وہاں صفدر حسین کتابوں کے ہر خریدار سے نہایت خندہ پیشانی سے ملتے نظر آئیں گے۔ ان کا لنگر بھی چلتا رہتا ہے۔مجھے تو الحمد پبلی کیشنز کے وہ دن بھی یاد ہیں جب اس کے چھوٹے سیدفتر میں احمد راہی، سیف الدین سیف، شہزاد احمد، قتیل شفائی، اے جی جوش، نصرت علی، احمدعقیل روبی، ناہید شاہد اور دیگر بہت سے ادیب انجمن آراء  ہوا کرتے تھے۔ڈاکٹر خواجہ محمد ذکریا صاحب تو آج بھی شام کے وقت یہاں مل جاتے ہیں۔ اگر میں اردو بازار کی غزنی سٹریٹ میں واقع "مکتبہ تعمیر انسانیت" کا ذکر نہ کروں تو شاید ناانصافی ہو گی۔مظفر وارثی، حفیظ تائب، اسلم کولسری، انیس ناگی، رفیع الدین ہاشمی اور روحی کنجاہی مجھے اکثر یہاں مل جایا کرتے تھے۔اس مکتبے کے مالک سعیداللہ صدیق آج بھی ہر چھوٹے بڑے گاہک کو اللہ کا مہمان سمجھتے ہیں۔ان کے پاس بیٹھنے کی جگہ کم سہی لیکن ان کا دل بہت بڑا ہے۔لاہور میں ٹرپل روڈ اور صفانوالا چوک میں کتابوں کے کئی ادارے ہیں جو اسی طرح کی مہربانی کرتے ہیں۔رانا عبدالرحمن کا "بک ہوم" مجھے ہمیشہ ایک منی ٹی ہاوس لگا ہے۔چائے کی پیالی مکالمے کی محفل گرم رکھتی ہے۔فیصل آباد کا شمع بک اسٹال حاتم بھٹی کی محبت اور محنت سے ایک تاریخ بن چکا ہے۔میں 1988 سے 1990 تک اس شہر میں بسلسلہ تعلیم و روزگار مقیم رہا۔شہر کا کوئی شاعر اور ادیب ایسا نہیں تھا جو شمع بک اسٹال سے چائے پیے بغیر چلا گیا ہو۔ ڈاکٹر ریاض مجید، ڈاکٹر انور محمود خالد، ڈاکٹر احسن زیدی، ڈاکٹر ریاض احمد ریاض،حزیں لدھیانوی، نصرت صدیقی،آس لدھیانوی،نادر جاجوی، طاہر صدیقی، علی اختر، عظمت اللہ خان، عصمت اللہ خان، شبیر احمد قادری، اقبال اختر اور بابا عبیر ابوذری سے میری بیش تر بے تکلفانہ ملاقاتیں اسی ادارے میں ہوئیں۔ حاتم بھٹی صاحب اپنے تمام خریداروں کو بغیر کہے زیادہ سے زیادہ رعایت دیا کرتے تھے۔اب یہ ادارہ "ہیلو بکس" کے نام سے کام کر رہا ہے۔لاہور میں طاہراسلم گورا نے پاکستان بکس اینڈ لٹریری ساونڈز کے نام سے ایک ادارہ 90 کی دہائی میں قائم کیا تھا۔یہ بھی ادیبوں شاعروں کی پناہ گاہ تھا۔لذت کام و دہن کا سامان ہر وقت میسر رہتا تھا اس لیے یہاں ہر وقت عید کا سا سماں رہتا تھا۔

    کہتے ہیں کہ گھوڑے اور گھاس کی دوستی ہو جائے تو گھوڑا کھائے گا کیا؟کتابیں چھاپنے والے یہ ادارے خریداروں سے محبت کر کے دراصل گھوڑے اور گھاس کی دوستی کی عملی صورت بنے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود کوئی گھوڑا بھوکا نہیں رہا۔ ان اداروں کے کام میں اللہ نے ایسی برکت ڈالی ہے کہ (سوائے ایک آدھ کے) تمام ادارے آج بھی وہی کام جاری رکھے ہوئے ہیں جس کے لیے یہ بنے ہیں۔میں ان اداروں کے مالکان کا اس بات کے لیے ممنون ہوں کہ وہ آج بھی گھاٹے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔اگر وہ کتابوں کی جگہ اپنے شورومز میں جوتے رکھ لیتے تو انھیں کون روک سکتا تھا؟ لیکن اتنی بات میں ضرور عرض کروں گا کہ کتابیں بیچنے والے لوگوں کا رویہ جوتے بیچنے والے لوگوں سے کچھ مختلف اور بہتر ضرور ہونا چاہیے۔

مزید :

رائے -کالم -