حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن 

حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن 
حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن 

  

چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ ترقی کے زیر اثر وسائل اور ماحولیات پر دباؤ کے پیش نظر، چین بین الاقوامی امور میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ چین نے بین الاقوامی ذمہ داریاں سنبھالنے، عام ماحولیاتی مسائل کو حل کرنے اور عالمی اور گھریلو حیاتیاتی تنوع کو محفوظ کرنے کی کوششوں میں حصہ لینے کے لئے زیادہ فعال رویہ اختیار کیا ہے۔عوامی جمہوریہ چین کی ان کاوشوں کی پوری دنیا تحسین کرتی ہے۔ 

چین میں جنگلات کے حیاتیاتی نظام کے تحفظ اور بحالی کو فروغ ملا ہے۔ فارسٹ کاربن اسٹوریج کا اٹھہتر فیصد قدرتی جنگلات سے ہے ۔جنگلات کے رقبے اور ریزروز میں مسلسل تیس سال سے اضافہ جاری ہے۔دو ہزار بیس کے اواخر تک چین میں جنگلات کا کل رقبہ بائیس کروڑ  ہیکٹر  ہو چکا ہے جب کہ فارسٹ ریزروز  سترہ ارب پچاس کروڑ کیوبک میٹرز  رہے ہیں۔علاوہ ازیں  اس وقت چین میں  قومی سطح کے 899 ویٹ لینڈ پارکس موجود ہیں  جہاں حیاتیاتی نظام کا موثر تحفظ موجود ہے۔ 

 حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے ارکان کی کانفرنس کا پندرہواں اجلاس (سی او پی 15) چین کے جنوب مغربی سرحدی صوبہ یوننان کے صدر مقام کھون منگ  میں 11 سے 15 اکتوبر تک منعقد ہوگا۔ اس  موقع پر ، کنونشن سیکریٹریٹ کی ایگزیکٹو سکریٹری محترمہ الزبتھ موریما نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں چین کی کامیابیوں کی تعریف کی ، اور کانفرنس کی تیاری میں چین کی کوششوں پر چین کا شکریہ ادا کیا۔

یوننان کے پاس سیاحت کے بہت زیادہ وسائل کے ساتھ ساتھ منفرد انسانی وسائل بھی موجود ہیں، چین کی 25 نسلی اقلیتیں یہاں ہم آہنگی سے رہتی ہیں۔ یوننان کی رنگارنگ ثقافت اور نسلی رسم و رواج چینی اور غیر ملکی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔ یوننان چین کا حیاتیاتی تنوع سے مالا مال صوبہ ہے اور بہت سی قدرتی انواع کا اصل مسکن بھی ہے۔ملک کے 4.1 فیصد رقبے پر محیط اس پرکشش علاقے میں سمندروں اور ریگستانوں کےعلاوہ  تمام اقسام کے حیاتیاتی نطام موجود ہیں۔ یہ علاقہ  دنیا میں حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ 

الزبتھ موریما نے  کہا کہ چین حیاتیاتی تنوع کے کنونشن میں شامل ہونے والے اولین  ممالک میں سے ایک تھا اور چین کے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور بحالی کے کام نے قابل ذکر نتائج حاصل کیے ہیں۔ الزبتھ موریما نے چینی حکومت کا اجلاس کے پہلے مرحلے کو آن لائن اور آف لائن کی شکل میں منعقد کرنے کے فیصلے پر شکریہ ادا کیا۔ چین کے صوبے یوننان جہاں یہ کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے، اس کے حوالے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبہ یونان کی حیاتیاتی تنوع اور نسلی ثقافت بہت زرخیز اور متنوع ہے ، اور یہ  سیکھنے کے قابل ہے۔ 

چین میں دریائی تحفظ پر بہت زیادہ کام ہوا ہے جس کی ایک مثال دریائے زرد ہے۔ اس دریا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ چینی تہذیب نے اس دریا کی گود میں جنم لیا ہے۔ دریائَے زرد چین  کا دوسرا سب سے طویل دریا ہے ، جس کی لمبائی 5464 کلومیٹر ہے اور یہ نو صوبوں سے گزرتا ہے ، جن میں چھنگ ہائی ، سیچھوان ، گانسو ، ننگ شیا ، اننر منگولیا ، شانشی ، شاآنشی ، ہینان اور شان ڈونگ شامل ہیں۔ دریائے زرد کا طاس  ایک اہم ماحولیاتی آڑ ہے ، اور چین کی قومی ترقی اور جدت سازی کے لیے اس کی ایک سٹریٹیجک اہمیت ہے۔  اس منصوبہ بندی کا دائرہ کار متعلقہ کاؤنٹی سطح کے ان انتظامی علاقوں پر محیط ہے جہاں دریائےزرد کی اہم معاون ندیاں بہتی ہیں۔  اس علاقے  کا زمینی رقبہ تقریبا ایک اعشاریہ تین ملین مربع کلومیٹر ہے اور ۲۰۱۹ کے اواخر تک کے اعدادو شمار کے مطابق اس کی  آبادی تقریبا 160 ملین ہے۔ 2012 میں چین نے ایک نئے تاریخی نقطہ آغاز کی حیثیت سے ”ماحولیاتی تہذیب“ مہم کو فروغ دینا شروع کیا۔ 2012 کے بعد سے، چین نے حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے متعلق 50 سے زیادہ ماحولیاتی قوانین اور قواعد و ضوابط کا نفاذ اور ترامیم کی ہیں۔اجنبی سپیشیز کے حملے کے بارے میں، وائلڈ لائف پروٹیکشن قانون واضح طور پر اجنبی سپیشیز کو متعارف کرانے کے لئے شرطیں طے کرتا ہے۔ سمندری ماحولیات سے متعلق تحفظ قانون، جنگلات کا قانون، فرنٹیئر ہیلتھ اور قرنطینہ کا قانون اور جانوروں اور پودوں کے قرنطینہ کا قانون سب اجنبی نسلوں کو کنٹرول کرنے کے لئے قرنطینہ کے تقاضے طے کرتے ہیں۔ 

گھریلو قانونی نظام میں بہتری لاتے ہوئے حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کے نفاذ کو فروغ دینا نہ صرف ایک اہم ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین کے تصور اور عزم کا مظہر ہے، بلکہ یہ ”بنی نوع انسان کے ہم نصیب مستقبل“ کے فلسفے کے پختہ عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ یہ دوسرے ممالک کو حیاتیاتی تنوع سے متعلق کنونشن کو نافذ کرنے کے لئے ایک اچھا حوالہ فراہم کرتا ہے۔ 

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -