لانگ مارچ، کیا طاہر القادری نظر بند ہوں گے؟

لانگ مارچ، کیا طاہر القادری نظر بند ہوں گے؟
لانگ مارچ، کیا طاہر القادری نظر بند ہوں گے؟

  



کیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن شیخ الاسلام کی اسلام آباد پر لشکر کشی کو پنجاب کے اندر روکنے پر اتفاق کرچکی ہیں؟ لانگ مارچ روک بھی لیا جائے، طاہر القادری سمیت ان کی پوری قیادت نظر بند بھی کردی جائے، قافلوں کے راستوں کو بلاک، ٹرانسپورٹ کو معطل کرنے کے لئے فیول کے ذرائع بند کردیئے جائیں، رابطوں کو منقطع کرنے کے لئے موبائل سروس کو لاک کردیا جائے تو کیا طاہر القادری کی وہ قوت جس نے ملک کے اندربھونچال برپا کردی ہے اور سیاسی قوتوں کے پاﺅں تلے سے زمین کھینچ لی ہے، اس کا مستقبل میں سیاسی قوتیں انکار کرسکیں گی۔ اس تماشے سے کئی نئی چیزیں سامنے آئی ہیں، تحریک انصاف تیزی سے اپنی عوامی مقبولیت کے گراف سے نیچے آگئی ہے جس پر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بظاہر گھی کے چراغ تو جلا رہی ہیں، وہ قوتیں جو انتخابات ملتوی کروانے کے حق میں ہیں، وہ صدر مملکت ہوں، ان کی پارٹی ہو، مسلم لیگ ن ہو یا کچھ اور طاقتور حلقے، ان کی منشا پوری ہوتی نظر آتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وہ عدلیہ اور آزاد الیکشن کمیشن کو کس طرح ”رام“ کریں گے جو ہر حال میں الیکشن کے حق میں ہیں۔ لگ ہی رہا ہے کہ اب عدلیہ ایک مرتبہ پھر بولنے والی ہے۔ یہ باتیں اور قیاس آرائیاں اپنی جگہ درست، لیکن شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کی وطن واپسی اور لانگ مارچ کے اعلان نے جہاں قومی سیاست میں گہما گہمی اور ہیجان کی کیفیت پیدا کردی ہے، وہاں اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ قوتوں کے چہروں سے نقاب اٹھانے کی کوشش بھی کی ہے۔ دونوں دھڑے کھل کر ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں اور بعض سیاسی جماعتوں کے لئے اس حد تک مشکلات پیداہوگئی ہیں کہ نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ طاہر القادری کا لانگ مارچ مسلم لیگ ن سمیت کئی جماعتوں کے لئے سانپ کے منہ میں چھپکلی کے مترادف ہے جو نگلنے کی ہے نہ اُگلنے کی۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ بار کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس نے مجوزہ لانگ مارچ کے کئی مخفی پہلوﺅں سے پردہ اٹھایا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی میاں محمد نواز شریف، مرکزی مقرر محمود خان اچکزئی اور حاصل بزنجو کی تقاریر سے بہت کچھ عیاں ہوااور تینوں سیاسی قائدین نے اس لانگ مارچ کو آئندہ عام انتخابات ملتوی کرانے کی ناکام کوشش قرار دیا جبکہ وکلاءکی ملک گیر تنظیموں نے طاہر القادری کو متنبہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ کالا کوٹ اسلام آباد پر لشکر کشی کا راستہ بزور قوت روکے گا۔ وکلاءنے تو طاہر القادری کو اندرونی و بیرونی اسٹیبلشمنٹ ایجنٹ قرار دیا اور کہا کہ یہ 2014ءمیں افغانستان سے واپس جانے والے امریکیوں کے لئے پاکستان میں صرف فرد واحد سے معاملات طے کرانے، جمہوریت اور جمہوری اداروں کا بوریا بستر گول کرانے کے لئے تماشہ کررہے ہیں۔ ان سب معاملات میں پھنس گئی ہے پاکستان مسلم لیگ ن اور اس کی پنجاب حکومت، کیونکہ طاہر القادری کا 13 جنوری کو شروع ہونے والا ممکنہ لانگ مارچ تخت لاہور کے گھر لاہور سے نکلے گا۔ اگر پنجاب حکومت طاہر القادری کی اسلام آباد پر لشکر کشی کو روکتی ہے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی ساتھی کہلائے گی اگر نہیں روکتی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے ہاتھ مسلم لیگ ن اور اس کی پنجاب حکومت کے خلاف ہتھیار آجائے گا کہ تختہ لاہور نے اپنے سے نکلنے والے لشکر کشوں کو نہیں روکا۔ اس لشکر کشی کوروکنے کے دوسرے آسان طریقے پر بھی غور شروع ہوچکا ہے کہ 13 سے 14 جنوری تک تمام پٹرول پمپس، سی این جی سٹیشن بند اور موبائل سروس معطل کردی جائے، مگر یہ امتحان ہے مرکزی اور پنجاب حکومت کا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس عوامی طوفان کوکیسے روکتے ہیں۔امکان یہی ہے کہ طاہر القادری سمیت پوری قیادت کو نظربند کردیا جائے اور اس کے لئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں رابطے باقاعدہ بحال ہوچکے ہیں۔ دوسری طرف لانگ مارچ کو روکنے کے لئے ایک اور تجویز زیر غور ہے کہ صدر آئندہ انتخابات کا اعلان کردیں، اس کے لئے اسمبلیاں تحلیل کرنا پڑیں تو کردی جائیں۔

مزید : تجزیہ