جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی

  

دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچتا ہوں تو مجھے اپنے گرد ایک چنگیزی ، ظلم و ستم اور نا انصافی کی ظلمتوں کا شکار معاشرہ ہی نظر آتا ہے اور سیاست پہ میرے دین و مذہب کی مطابقت اور مماثلت کا کوئی گماں ہی نہیں ہوتا ۔ انسانیت جس میں معدوم اور اخلاقیات جس سے شر ما جائے وہ ہیں ہماری عملی سیاسیات کے راہنما اصول وضوابط ۔ آپس میں نفاق بھی ایسا کہ بس اتفاق ذاتی مفادات پہ ہی ہوسکتا ہے ۔ اجتماعیت کے تصور کا گلا گھونٹ کے عزت و تکریم کی دھجیاں بکھیرتے ہمارے سیاستدان کاش ان کی اسوہ حسنہ سے بھی سبق سیکھتے کہ دل پیار اور دھیمے لہجوں سے بدلے جاتے ہیں۔ نفرتوں کے درس دینے کی بجائے الفتوں کے ایسے اوصاف پیدا کیے جاتے ہیں کہ سننے والا کھنچتا چلا آتا ہے اور ان اقوال کی جب عملی تصویر بھی دکھائی جاتی ہے تو ربِّ کعبہ کی عظمتوں پہ واری جاتا بھٹکا انسان سلامتی میں ہی رنگتا چلا جاتا ہے 150

جی بالکل ہم ان کے پیرو کار ہی تو ہیں کہ کردار ایسا کہ آپ کے صادق و امیں ہونے کی گواہیاں جان کے دشمن بھی دیں 150 اخلاق کے ایسے نمونے پیش ہوں کہ قرآنِ مجید بھی ادب و توصیف میں بھر جائے۔ کاش کہ ریاستِ مدینہ کے نعرے لگانے والے سیاست بھی ان سے ہی سیکھتے تو کیا بہتر تھا۔ آج کل جو بیانیہ چل رہا ہے آپ بھی دل پہ ہاتھ رکھ کر ہی بتایئے کہ کیا وہ اخلاقیات کی اتھاہ گہرائیوں میں دبے ایک ایسے وجود سے اٹھتی بدبو نہیں ہے جو ملکی فضاؤں کو مکدر کئے جاتی ہے۔ یہ روز بروز بڑھتا ہوا سلسلہ ، یہ دشنام طرازی کہ جس میں ہر کوئی بازی لے جانے کے لئے سر دھڑ تج دینے کو تیار ہے۔ سرِ عام لعن طعن اور ان کے لئے الفاظ کا چناؤ شاید اس شائستگی کا مذاق اڑاتا نظر آتا ہے کہ جن کی بنیادوں پہ ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد استوار ہوتی ہے۔ خاموش ہو کرکسی کی بات سننا بہت دل گردے کی بات ہے اور ایک فن ہے جس کا فقدان ہمیں عدم براشت کی ان حدوں تک دھکیل چکا ہے کہ ہم لوگ ہر حال میں مخالف کو غلط ثابت کرنے پہ تل جاتے ہیں۔ 

مد مقابل کی کوئی اچھائی بھی ہو تو اس میں کیڑے نکالنے کے لئے ہم دور کی وہ کوڑی لاتے ہیں کہ اچھائی بھی شرم سے پانی پانی ہوئی جاتی ہے۔ انہی اخلاقی اقدار کا انحطاط ہماری گراوٹ کا منہ بولتا وہ ثبوت ہے کہ ہم بلا جواز طعنے کستے آج دنیا کی طاقتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ ہمیں دہشت گردوں کا معاون ثابت کرکے جب ہم پہ پابندیاں لگائی جائیں تو پھر ہمارے ہاتھ ایک دوسرے کے گلوں تک آئیں اور باہمی احترام کے جذبات بھی ملیا میٹ ہوتے جائیں۔ کہتے ہیں خطرہ فل الحال ٹل گیا 150 وقت گزرتے کیا دیر لگتی ہے جب تک پہلے پاکستان کا مفود نہ ہوگا تو اس وات تک انگلیاں اٹھتی رہیں گی 150 ہمیں بھی مربوط خارجہ پالیسی چاہیئے۔کیا یہ کیا دھرا ہمارے اپنے ان بیانات کا نہیں جو ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دیتے رہے ہیں اور دشمن کو اپنی تباہی کا ایندھن فراہم کرتے رہے ہیں ۔ ہم سے تو بہت مطالبے کئے گئے ہیں لیکن کیا کبھی ہم نے بھی ہندوستان سے عدالت میں اقرار کرنے والے فوجی افسر لیفٹیننٹ کرنل سری کانت پروہت کی پاکستان کو حوالگی کا نعرہ لگایا جس نے سمجھوتہ ایکسپریس میں زندہ جانوں کو جلایا تھا 150 کیا یہ ہماری کوتاہ فہمی نہیں ہے کہ جیسے ہم ایک حاضر سروس نیوی افسر کلبھوشن کا مقدمہ عالمی عدالت میں لڑے اور دشمن پہ آنچ نہ آنے دی ۔آج جب ہم ایک دوسرے سے دست و گریباں ہیں تو کوئی ایک بھی غداروں کی فہرست سے دوسرے کو خارج کرنے کو تیار نہیں ہے۔ 

یاد رکھیں ،کبھی اجتماعی رواداری ، مساوات ، اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ جس معاشرے میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اس معاشرے کا صفحہء ہستی سے مٹ جانا کوئی انہونی بات نہیں ہوتی۔ اخلاقی اقدار ہی معاشرے کو مضبوط و توانا بناتی ہیں جس سے اس کے افراد کی جڑیں نمو پکڑتی ہیں اور افراد کا ہجوم ایک قوم بنتا ہے۔ جب ایک قوم وجود میں آتی ہے تو نفع نقصان اور سود و زیاں سانجھا ہوتا جاتا ہے 150 ہر مذہب نے اپنے اپنے طرز پر اخلاقیات کے اصول پیش کئے ہیں۔ اخلاقِ حسنہ کو مذہب کا معیار اور اخلاقِ ذمیمہ سے ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیاہے۔ دنیا کا ہر مذہب اور خاص کر دینِ اسلام اختلافِ رائے کا حق دیتا ہے کیونکہ اختلافِ رائے انسانی ذہن کے دریچوں کو کھولتا ہے اور اندازِ تفکر میں وسعتیں پیدا کرتے ہوئے سوچ کے وہ معجزات دکھاتا ہے کہ فیصلے آسان سے آسان تر ہوتے جاتے ہیں اور اللہ کی راہ سے بھٹکنے کا احتمال کم سے کم ہوتا جاتا ہے لیکن جس معاشرے میں اختلافِ رائے رکھنے والا دشمن ہو اور اس کی ذات زندگی پہ بھی یوں لعن طعن کی جائے کہ اس کے کردار کو مسخ کرنے کے لئے ہر حربہ بروئے کار لایا جائے تو جب اس کا بس چلے گا تو انسانی فطرت کے تئیں وہ انتقامی جذبات سے مغلوب وہ کچھ کہہ جائے گا کہ عزتوں کا جنازہ ہی نکل جائے گا اور باہمی وقار کا شیرازہ یوں بکھر جائے گا کہ لوگوں کا اعتبار اپنے لیڈروں اور سیاست دانوں سے اٹھتا جائے گا 150 یہ رویہ پھر یوں انارکی پھیلائے گا کہ منزلوں کی نشاندہی کرنے والے نیست و نابود ہوئے خود مدد کو پکارتے نظر آئیں گے لیکن بڑھتا ہوا انتشار کونسا رستہ لے یہ کسی کے بس کی بات نہ ہوگی کیونکہ جب سیاست مذہبی رواداری سے دور اور اخلاقی پستیوں میں گرتی ہے تو فقظ چنگیزیت ہی رہ جاتی ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے اصولوں پر ادارے دم توڑ دیتے ہیں اور ہر سیٹ پہ ایک ظالم ہی براجمان نظر آتا ہے خدارا رویوں پہ غور کیجئے اور باہمی عزت و احترام کو دل میں راہ دیجیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس چنگیزی روایات میں بہتے جب ہماری کھوپڑیوں سے مینا ربنائے جائیں تو تاریخ ہمیں ایسی تباہ کن قوم لکھے کہ جو اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا گلا گھونٹتی دنیا کے لئے قابلِ رحم اور ایک بھیانک مثال ہو۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ