’مجھے خود کش جیکٹ پہنادو، میں دھماکہ کرنا چاہتی ہوں‘ دنیا کے سب سے خطرناک گروپ کے پاس لڑکیوں کی قطاریں لگ گئیں، خوفناک خواہش کی وجہ بھی ایسی کہ جان کر کوئی بھی کانپ اٹھے

’مجھے خود کش جیکٹ پہنادو، میں دھماکہ کرنا چاہتی ہوں‘ دنیا کے سب سے خطرناک ...
’مجھے خود کش جیکٹ پہنادو، میں دھماکہ کرنا چاہتی ہوں‘ دنیا کے سب سے خطرناک گروپ کے پاس لڑکیوں کی قطاریں لگ گئیں، خوفناک خواہش کی وجہ بھی ایسی کہ جان کر کوئی بھی کانپ اٹھے

  



دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) ”ہم شدت پسندوں کے ہاتھوں جنسی تشدد کا شکار بن کر مزید زندگی نہیں گزار سکتیں، ہمیں جنسی غلامی کی یہ زندگی نہیں چاہیے، تم ہمیں خودکش جیکٹ پہنا دو، ہم خودکش دھماکے کرکے اپنی زندگی ختم کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس مسلسل عذاب سے جان چھڑا سکیں،“یہ دہائی داعش کے ہاتھوں جنسی غلام بننے والی خواتین دے رہی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ داعش سے منسلک شدت پسند تنظیم بوکوحرام کی طرف سے خودکش حملے کرنے والوں میں اکثریت خواتین کی ہے اور ان میں وہ خواتین شامل ہیں جنہیں شدت پسند تنظیم نے اغواءکرکے جنسی غلام بنا رکھا ہے۔ان میں بعض کی عمریں محض 8سال تک ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکی جو شدت پسندوں کے چنگل سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئی اس نے ان خواتین کی دلدوز کہانی سنائی ہے۔

وہ تنظیم جس نے 105 لڑکیوں کو خودکش بمبار بنا دیا، یہ داعش نہیں بلکہ ۔۔۔

برطانوی اخبار کے مطابق اس لڑکی کا کہنا تھا کہ ”شدت پسند ہم سے پوچھتے کہ تم میں سے کوئی خودکش حملہ آور بننا چاہتی ہے۔ جواب میں تمام لڑکیاں چلا چلا کر کہتیں کہ میں بننا چاہتی ہوں، میں بننا چاہتی ہوں، میں بننا چاہتی ہوں۔ لڑکیاں خودکش حملہ آور بننے کے لیے ایک دوسرے سے لڑتی تھیں۔ لڑکیوں کو امید ہوتی تھی کہ جب شدت پسند انہیں بم پہنا کر فوجیوں کی طرف بھیجیں گے تو وہ فوجیوں کو اصلیت بتا دیں گی اور فوجی انہیں بچا لیں گے اور اگر ان کا بم پھٹ بھی گیا تو انہیں اس جنسی غلامی کی بدترین زندگی سے نجات مل جائے گی۔“ اس لڑکی نے بتایا کہ ”میں خود اسی طرح بوکوحرام کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ انہوں نے مجھے خودکش جیکٹ پہنائی، جب میں فوجیوں کے قریب گئی تو میں نے انہیں بتا دیا اور انہوں نے میری جیکٹ اتار کر ناکارہ بنا دی اور اس طرح میں آزاد ہو گئی۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...