امریکہ نہیں تو کینیڈا چلئے

امریکہ نہیں تو کینیڈا چلئے
امریکہ نہیں تو کینیڈا چلئے

  

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوری مسلم دنیا خاص طور پر چھ ممالک کے مہاجرین کو امریکہ کی جانب دیکھنے کی خواہش اب ختم کر دی ہے ۔ امریکہ کی خواہش پوری دنیا میں خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں صرف اس لیے تھی کہ امریکی معاشرہ کسی بھی نسل ، رنگ ، زبان اور قد کو مد نظر نہیں رکھتا تھا اور کوئی بھی امریکہ میں جا کر محنت سے اپنا مقام بنا سکتا تھا اور یہی امریکیوں کی کامیابی کی بڑی وجہ تھی۔ امریکی جس ملک کے خلاف برسرپیکار ہوئے اُسی ملک کے لاکھوں لوگ امریکہ میں ہی رہائش کے باوجود امریکہ کے خلاف جلسے تو کرتے تھے لیکن مخالفت نہیں کرتے تھے ۔

لیکن اب امریکہ یہ سہولت مہیا نہیں کرنا چاہتا ۔ دنیا کے زیادہ تر مہاجرین اور تارکین وطن کا پسندیدہ ملک اب کینیڈا بننے جا رہا ہے ۔ کینیڈا کے وزیراعظم پہلے ہی ایسے لوگوں کو ملک میں خوش آمدید کہہ چکے ہیں۔

امریکہ میں تارکین وطن کیلئے قوانین بہت سخت تھے۔ اس حوالے سے قانون پاس کیا گیا تھا کہ تارکین وطن جو امریکہ آئیں گے اُن میں ایشیا سے کوئی بھی باشندہ نہیں آسکے گا۔ جبکہ 1920 ء میں یہ شرط مشرقی یورپ کے ممالک کیلئے بھی لگا دی گئی تھی۔ چینی باشندے بہت عرصہ امریکہ میں رہے لیکن ان پر اس پابندی کا اطلاق کر کے 1880 ء میں مکمل طور پر بے دخل کر دیا گیا ۔ 1965 ء سے پہلے امریکہ میں یورپی باشندے ہی زیادہ تر آئے۔ جو اس کے علاوہ لوگ آئے وہ سب غلاموں کی حیثیت سے ہی لائے گئے۔

1965ء میں تارکین وطن کیلئے نیا قانون بنایا گیا جسے ہارٹ سیلر ایکٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ اس قانون نے امریکہ کی معاشرتی اور تہذیبی حیثیت بدل کر رکھ دی ۔1970 ء تک امریکہ میں 60 فیصد تارکین وطن یورپی ممالک سے تھے جو 2000ء میں صرف 15 فیصد رہ گئے۔ اس میں سے بھی ایشیا ئی اور لاطینی امریکی باشندوں کی تعداد زیادہ تھی۔ صدر بش کے دور میں 1990 ء میں نیا ایکٹ نافذ ہوا جس کے بعد زیادہ تر غیر قانونی رہائشی بھی قانونی ہو گئے۔ ان کو امریکی افواج میں بھی حصہ مل گیا۔ 1991 ء میں ایک ایکٹ پاس ہوا جس کے تحت کوئی بھی غیر ملکی اگر امریکی افواج کا حصہ رہا ہے تو وہ 12 سال کے بعد امریکی شہریت اپنا سکتا ہے ۔

1994 ء میں کیلے فورنیا میں تارکین وطن کے خلاف ووٹ پاس ہوا جس کے تحت طے کیا گیا کہ غیر قانونی تارکین وطن کو حکومت مراعات نہیں دے گی۔ یہ قانون امریکہ کی اعلیٰ عدالتوں نے کالعدم قرار دے دیا کیونکہ یہ فیڈرل قوانین سے متصادم تھا۔ صدر کلنٹن نے تارکین وطن کا مسئلہ حل کرنے کیلئے جو ایکشن بنایا اس کی سفارشات کے بعد ہر سال آٹھ لاکھ افراد کو امریکہ کا رہائش نامہ دینے کی بجائے اس کی تعداد ساڑھے پانچ لاکھ سالانہ کر دی گئی ۔ جارج بش نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے میکسیکو سے معاہدہ بھی کیا۔

2000ء سے 2010 ء کے درمیان ایک کروڑ چالیس لاکھ غیر ملکی تارکین وطن امریکہ آئے جن میں سب سے بڑی تعداد میکسیکو ، چین، انڈیا، اورفلپائن کے باشندوں کی تھی۔ اس وقت امریکہ میں سے سے زیادہ غیر ملکی آبادی کا تعلق میکسیکو سے ہے ، دوسرے نمبر پر چین اور تیسرے نمبر پر انڈین امریکہ میں آباد ہیں ۔ امریکہ میں رہائش کیلئے سب سے کم مسلمان آبادی درخواست گزار رہی ہے ۔ ۔اس وقت امریکہ کی کل آبادی 32 کروڑ سے زیادہ ہے ۔ جس میں 4 سے 5 کروڑ غیر ملکی ہیں۔

حالیہ سٹڈی سے ثابت ہوا ہے کہ دنیا کے بہترین ممالک میں کینیڈا کا نمبر دوسرا جبکہ امریکہ کا نمبر ساتواں ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا کے مطمئن شہریوں میں امریکہ کا نمبر 13 جبکہ کینیڈا کا نمبر چھٹا ہے۔ کسادبازاری سے جس قدر امریکی متاثر ہوئے ہیں کینیڈین نہیں ہوئے۔ کینیڈا کی معیشت اس وقت امریکہ سے بہت بہتر ہے ۔ اس لیے اب یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دس سالوں میں تارکین وطن تیزی سے امریکہ کی طرف شفٹ ہونے کی بجائے کینیڈا کو ترجیح دیں گے ، اور امریکہ کی ترقی اور خوشحالی میں جو تارکین وطن حصہ لے رہے تھے وہ اب دیگر ممالک میں شفٹ ہوں یا نہ ہوں،لیکن کینیڈا اُن کے لیے بہتر چوائس ہوگا ۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -