خیر باد جمہوریت

خیر باد جمہوریت
خیر باد جمہوریت

  



اختر الایمان متحدہ ہند کے ایک انتہائی زیرک اور صوفی مزاج شاعر تھے۔ ہند کے مسلمانوں کو جھنجھوڑنے کے لئے آپ نے شعر کے وسیلے سے، جو ادبی خدمت سرانجام دی ہے،لاریب وہ کبھی نہیں بھلائی جائے گی، فرماتے ہیں:

غلام روحوں کے کارواں میں

جرس کی آواز بھی نہیں ہے

اختر الایمان کی اس نظم پر مَیں ایک باقاعدہ کالم اسی روزنامہ میں تین سال قبل 8 جولائی 2017ء کو لکھ چکا ہوں۔یہاں نظم کے متن کی چنداں ضرورت نہیں، کیونکہ آج کے کالم کی بنیاد نظم کے پہلے بند پر ہی ہے۔ یہ جو اصطلاح ہے ”غلام روح“ اس کے لغوی معانی چاہے کچھ بھی ہوں، اصطلاحی معانی نہایت عام فہم ہیں، یقین نہیں، تو آس پاس نظر دوڑا کر دیکھ لیں،جہالت و افلاس کے مارے عوام، جنہیں یہ سمجھانا کہ حکومت کرنا تمہارا بنیادی حق ہے، جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ذہنی غلامی میں جکڑے ہوئے عوام، جنہیں جہالت، غربت، فراغت اور مہنگائی کے عفریت نے پوری طرح دبوچ رکھا ہے،اُنہیں اِس وقت جمہوری اقدار اور سول سپرمیسی کا بھاشن دینا خود ایک مستقل حماقت ہے۔ بے شک دُنیا سر پیٹتی رہے کہ جمہوریت سے مراد ”عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر ہے“…… مگر ہماری سمجھ میں یہ نکتہ نہ کل آیا تھا، نہ ہی آج…… نہ تو کل جب یہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا ہو رہا تھا اور نہ ہی آج جب جدید دُنیا جمہوری اقدار کی امین کہلانے لگی ہے۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی خالص عوامی سیاستدان پیدا نہیں ہوا،جس کا سینہ عوام کے درد سے معمور ہو۔جمعیت اور جماعت کے علاوہ کوئی بھی سیاسی پارٹی ایسی نہیں ہے، جس کی تاسیس مقتدرہ کے عمل دخل سے وقوع پذیر نہ ہوئی ہو، پھر چاہے وہ روٹی کپڑے اور مکان کا نعرہ لگانے والوں کی پارٹی ہی کیوں نہ ہو۔آج یہ بات ہم سب بخوبی جانتے ہیں اور اس میں کوئی دو رائے نہیں اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی ابہام کہ ملکی سیاست کو لیڈ کرنے والی سیاسی جماعتیں کب، کیسے اور کن لوگوں کی وساطت سے وجود میں آئیں؟ ہمیں تو تب بھی ان تلوں میں تیل نظر نہیں آ رہا تھا، جب انہوں نے اپنے مفاد کی خاطر ”ووٹ کو عزت دو“ کے سحر انگیز عوامی نعرے سے عوام کو بیوقوف بنایا کوئی حیرت کا مقام نہیں، کیونکہ بقولِ شاعر:

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

میرے آبائی علاقے میں آج بھی لوگ صاف پانی اور بنیادی طبی سہولتوں سے محروم ہیں، علاقائی سیاست دان، چونکہ جاگیردار ہیں، سو جو ان کی وساطت سے تھوڑا بہت عوام کو میسر آ گیا تو آیا ورنہ ”جس کی لاٹھی اُس کی بھینس“…… دُنیا میں ہمیشہ سیاسی پارٹیاں ہی جمہوریت کی بقا کی ضامن ہوتی ہیں۔ جمہوری اقدار کی حفاظت کی کلی ذمہ داری سیاسی پارٹیوں پر ہی عائد ہوتی ہے، لیکن ہمارے ہاں سیاسی پارٹیاں صرف شخصی مفادات ہی کے تحفظ کا نام ہیں۔ جب انہیں ضرورت پڑتی ہے تو اپنے مفاد کے لئے ”ووٹ کو عزت دو“ جیسے دلکش نعرے ایجاد کرکے عوام کو اپنے پیچھے لگا لیتے ہیں اور جب ذاتی مفاد پورا ہو جائے تو خیر باد جمہوریت کہہ کر خود میں مست ہو جاتے ہیں ……کیا کوئی دانشور بتا سکتا ہے کہ عوام کب سکھ کا سانس لیں گے؟ بجلی کب سستی ہو گی؟ پٹرول اور گیس کب سستا ملے گا؟آلو،پیاز اور ترکاری کب اونے پونے داموں ملے گی؟ غریب کا لڑکا کب ایچی سن اور مفلس کی بچی کب کنیئرڈ کالج پڑھ سکے گی؟ مقتدر طبقہ اگر صرف دس منٹ کے لئے سوشل میڈیا کا بغور جائزہ لے لے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ مارے شرم کے اپنا منہ موبائل یا کمپیوٹر سکرین سے نہ چھپا لے…… شکر ہے کہ یہ ففتھ جنریشن وار کا دور ہے، ورنہ ٹبر چور مافیا اور کھوکھلی تبدیلیوں کا لارا دینے والا مفاد پرست ٹولہ ”سب اچھا ہے“ کی رپورٹ کے ساتھ دُنیا کو بھی بیوقوف بنا لیتا۔بخدا ملک میں ایک عام آدمی کی زندگی ہر آنے والے دن بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور اس کا کماحقہ احساس صرف ایک دردمند کو ہی ہو سکتا ہے……لیکن جن کے پگ کے لئے میکڈونلڈ سے پچیس سو کا پیزا آتا ہو اور جن کے بچے چھ چھ اسلحہ بردار کمانڈوز کے ہمراہ سکول اور کالج جاتے ہوں اُن کے لئے تو یہ ملک بلا شک و شبہ جنت نظیر ہے۔

جمہوریت کا اس سے بڑھ کر اور کوئی مطلب نہیں کہ ایک عام آدمی سکھ کا سانس لے،ورنہ پھر ملوکیت و اشراکیت میں کیا قباحت ہے؟ اس میں بھی تو آخر عوام کو کولہو کے بیل کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھ کر گھمایا جاتا ہے تاکہ بیل کو یہ محسوس ہو کہ وہ سفر کر رہا ہے اور عنقریب اس کی منزل آنے والی ہے،جب مالک اس کی آنکھوں سے پٹی اُتار کر اسے کھلا چھوڑ دے گا…… جو ملک کو لوٹ کر فرار ہو گئے، جنہوں نے تبدیلی کا لارا دے کر عوام کو گمراہ کیا، جنہوں نے روٹی، کپڑے اور مکان کے نام پر سیاست کو وراثت میں تبدیل کر دیا، اُن کو اس سب سے کیا فرق پڑتا ہے کہ ٹماٹر آج بھی 180 روپے کلو ہے۔ جی ہاں ٹماٹر جس کے بغیر آپ شوربہ بھی نہیں بنا سکتے۔ گویا اب عوام کو صرف اُبلے ہوئے آلو کھا کر ہی گزارا کرنا پڑے گا، مگر اس سب کے باوجود حکومت کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ہاں ……”ووٹ کو عزت دو“ کی طرح ”گھبرانا نہیں“کا بیانیہ بھی خوب چل پڑا،چنانچہ اب حکومت کی جانب سے جب اس طرح کی کوئی آفت آئے تو جواب میں کہہ دیا جاتا ہے کہ گھبرانا نہیں ……72سال میں بارہا عوام پر مہنگائی و غربت کی آفات نازل ہوئیں، مگر جو حال موجودہ حکومت نے عوام کا اس بار کیا ہے، اس کی نظیر چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ب

ے شک عوام اب اپنے اس حق سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں کہ جمہوریت کا مطلب ”عوام کی حکومت ہے“…… حقیقت تو یہ ہے کہ نہ تو عمران خان عام آدمی تھا، نہ نواز شریف اور نہ ہی بھٹو مرحوم……یہ لوگ اْس زمانے میں بھی اِن ڈائریکٹ مقتدر حلقوں سے منسلک تھے،جب ان کی کوئی سیاسی پہچان ہی نہیں تھی اور آج بھی انہی لوگوں کی پانچوں گھی میں ہیں اور یہی اشرافیہ آج بھی مقتدرہ سے مل کر عام آدمی کو ہر قسم کی ذلالت میں دھکیلے ہوئے ہے، کیونکہ دو مفاد پرست مقتدر اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ایک دوسرے کی اعانت ہر زمانے اور ہر قسم کے حالات میں کرتے آئے ہیں، مگر اب ایک روشن اُمید ضرور نظر آ رہی ہے کہ سوشل میڈیا کی برکت سے بہت جلد ایک ایسا عوامی انقلاب آئے گا کہ اشرافیہ اور مقتدرہ دونوں کی ہوائیں اُڑ جائیں گی…… ایسا ہو گا اور بہت جلد ہو گا، کیونکہ یہ ففتھ جنریشن وار کا دور ہے اور اس دور میں سب سے بڑی طاقت انٹرنیٹ ہے اور انٹرنیٹ ایک عام آدمی کو بخوبی میسر ہے۔

مزید : رائے /کالم