رشتے اوربے جوڑ رشتے

 رشتے اوربے جوڑ رشتے
 رشتے اوربے جوڑ رشتے

  

 کسی کو خود سے چھوٹاسمجھنابہت آسان ہے مگر کسی چھوٹے کو سمجھانا بہت مشکل ہے ہم بنیادی طور پر کسی شخص کی اصلاح کرنے کی بجائے اس کا مورال تباہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ہم کسی کی غلطی بتاتے کم اورجتاتے زیادہ ہیں۔اگر کوئی آدمی غلطی کر بیٹھے اور ہمارے ہتھے چڑھ جائے تو ہم اُس کے ساتھ تقریباویساہی سلوک کرتے ہیں جو غلطی سے بارڈرکراس کرنے والوں کے ساتھ انڈین یااسرائیلی فورسز کرتی ہیں۔طنزکرنے کے معاملے میں بعض اوقات شایدہم سب سے فراغ دل قوم ثابت ہوتے ہیں، ایک سینئرڈاکٹر تھے جو خواتین کی نظر میں اپنا مقام بلند کرنے کیلئے اپنے جونیئرزکا مقام پست کرنے کے چکر میں رہتے تھے اوربغیر کسی وجہ کے ایک جونیئر کوایک دن بار بار کہہ رہے تھے کہ ڈاکٹر صاحب! آپ بالکل انٹرسٹ نہیں لیتے۔جونیئرنے دو تین بار اُن کی بات سنی ان سنی کی مگر وہ ڈھٹائی سے یہی کہتے رہے آخر تنگ آکر جونیئرنے کہا! سرکوئی بھی اچھا مسلمان انٹرسٹ نہیں لیتا اور آپ کو بھی انٹرسٹ نہیں لینا چاہیئے اوراس وقت آپ جس طرح کاانٹرسٹ لے رہے ہیں وہ توآپ کی عمر میں بالکل بھی نہیں لینا چاہیئے جونیئر کے لہجے میں کوئی ایسی بات تھی کہ سینئراپنا سامنہ لے کر رہ گئے۔مشاہدہ میں آیا ہے کہ بے جا اعتراض کرنے والے کواگرمناسب جواب مناسب وقت پردے دیاجائے تو اُس کی حالت عموماً اس آدمی جیسے ہوجاتی ہے جوبس کے بارے میں نازیباگفتگو کرتا تھا مگر بس قریب آنے پر ”آپ ہوسیں“ دیکھ کر اپنا سامنہ لے کر رہ جاتاتھا۔

جھنگ میں ہمارے آبائی گھر کے قریب دیہات جانے والی بسوں کا اڈہ تھا جس کے قریب سڑک شدید ٹوٹی پھوٹی تھی جب کوئی بس آتی تھی تو دھول بہت اُڑتی تھی وہاں کھڑے لوگ بس کے بارے میں بڑے نازیبا کلمات بولتے تھے مگر’’آپ ہوسیں“لکھادیکھ کر اُن کی حالت دیکھنے والی ہوتی تھی یہی انجام ہربے جا اعتراض کرنے والا کا ہوتا ہے۔ایسے ہی ایک صاحب ہروقت نصیحتوں کا پلندہ لے کر بیٹھے رہتے تھے اورجونیئرزکو بات بے بات اپنی سنہری مثال دے کر شرمندہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے اوریہ ثابت کردیتے تھے کہ اس وقت دنیا میں موجود واحد قابل انسان وہ خود ہیں۔ایک جونیئر ایک دن اُن سے کہنے لگا سر آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ کسی کی غیبت نہیں کرتے اور اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ آپ بندے کو منہ پر ہی اتنا شرمندہ کردیتے ہیں کہ غیبت کرنے کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔ہم میں سے اکثر لوگ اپنی ذات کو ایک ایسی کسوٹی سمجھتے ہیں جودوسروں کیلئے معیارہے اورجواس سے مختلف ہو وہ ہماری نظر میں بے کار ہے اور اُس کے بارے میں ہماری رائے اتنی صائب نہیں رہتی اورہم ساری زندگی اس کوشش میں رہتے ہیں کہ وہ ہمارے جیسا ہوجائے ہم اپنی ذات کو دوسروں کیلئے نمونہ سمجھتے ہیں چاہے دوسرے ہمیں فقط ”نمونہ“ہی کیوں نہ سمجھتے ہوں۔

جوشخص کبھی کسی کیڈٹ کالج کے بھی قریب سے بھی نہیں گذرا ہوتا وہ بھی جنگی اُمور پر پوری دلجمعی اورپوری مہارت سے بات کرتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ ہمارے ہاں ہرشخص موقعہ ملنے پر مکمل نقادہے اور دوسرے پر ہر طرح کی تنقید کرنے میں مکمل آزاد ہے اور تنقید کرکے شادباد ہے اورُسے کوئی پرواہ نہیں کہ چاہے دوسرے کا مورال ساری زندگی کیلئے برباد ہے۔میرا تو یہ خیال ہے کہ ہم لوگوں کو لے کراپنی نیت کاآڈٹ کریں تو شاید باقی عمر خود سے نظریں نہ ملاپائیں۔ہم لوگوں میں خوبصورتی دیکھ کر بدمزا ہوجاتے ہیں اورلوگوں میں کوئی عیب پاکرہمیں تسلی ہونے لگتی ہے۔ہمیں لوگوں سے یہ شکایت ہوتی ہے کہ وہ انٹرسٹ نہیں لیتے حالانکہ جن معاملات میں ہم خود انٹرسٹ لے رہے ہوتے ہیں اُن کی وجہ سے انسان کاانسان پرسے ٹرسٹ ختم ہوتا جارہا ہے۔یہ ایک المیہ ہے کہ دنیا میں غیرضروری معاملات میں انٹرسٹ ریٹ دن بددن بڑھ رہا ہے اورانسان کاایک دوسرے پر ٹرسٹ ریٹ نیچے آرہا ہے حالانکہ کائنات کی ساری خوبصو رتی ایک دوسرے پر ٹرسٹ کرنے کی وجہ سے ہے۔ دعا ہے کہ انٹرسٹ ریٹ زیروہوجائے اور ٹرسٹ کے معاملے میں ہر انسان ایک دوسرے کا ہیروہوجائے۔

مزید :

رائے -کالم -