نصابِ تعلیم کی مبادیات 

نصابِ تعلیم کی مبادیات 
نصابِ تعلیم کی مبادیات 

  

ریاستِ پاکستان میں آئے دن کوئی نہ کوئی سیاسی و عوامی شغل میلہ لگا رہتا ہے چنانچہ پچھلے چند دنوں سے یکساں قومی نصاب کی دھماچوکڑی بھی خوب لگی اب کچھ آرام تو ہے لیکن کیا معلوم ریاست یکساں قومی نصاب سے کہیں سے زیادہ ضروری اْمور میں مبتلا ہو، ریاست یعنی عربی کی یہ اصطلاح استعمال کرتے وقت عجیب سی اجنبیت ذہن میں سرایت کر جاتی ہے لیکن افسوس اس امر کا ہے کہ وہ اجنبیت یہاں بیان نہیں کی جا سکتی، نصاب یا جسے انگریزی میں سلیبس کہہ لیں دراصل نظمِ تعلیم کا وہ اساسی ڈھانچہ ہوتا ہے جو کسی بھی ریاست کی ذہنی نشوونما کیلئے ترتیب دیا جاتا ہے، علمائے حکمت کا قول ہے کہ اگر کسی ریاست کے اذہان کو ایک ہی جست میں پرکھنا ہو تو اْس ریاست کا تعلیمی نصاب کھنگال لو، نصاب تیار کرنے سے بہت پہلے یہ جان لینا انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ علم و تعلیم فی نفسہ ہے کیا، اس کا اساسی اور اضافی دائرہِ کار کیا ہے، اساسی دائرہ سے مراد یہ ہے کہ وہ کونسے علوم و فنون ہیں جن کا جاننا اور سیکھنا لابدی اور کونسے ایسے علوم یا فنون ہیں جن کا جاننا یا سیکھنا طالب علم کی اختیاری صوابدید پر مبنی ہے، مثلاً تاریخ ایک ایسا موضوع ہے کہ اس کو اساسی نوعیت کا مضمون سمجھا جاتا ہے اسی طرح آج کل کمپیوٹر سائنس کا مضمون بھی اساسی نوعیت اختیار کر چکا ہے، یکساں نصابِ تعلیم ایک انتہائی خوبصورت نظمِ تعلیم ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ امر ہے کہ نصاب تیار کرتے وقت ہماری ترجیحات کس نوعیت کی ہیں، برصغیر میں انگریز کے آنے سے قبل یہاں کوئی باقاعدہ تعلیمی نصاب رائج نہیں تھا، عام لوگ مختلف مذہبی علماء کے ہاں انفرادی طور پر زانوئے تلمذ طے کرتے جبکہ خواص کیلئے یہ اہتمام ان کے گھروں میں ہی کر دیا جاتا پس سکول، اکیڈیمی اور یونیورسٹی کا تصور کچھ زیادہ پرانا نہیں ہے، دیکھا جائے تو ہمارے ہاں دنیا کی قدیم ترین تعلیمی درسگاہ تیکشلا یونیورسٹی کی تاریخ بھی موجود ہے جہاں آج سے چھبیس سو سال قبل سائنس، ریاضی اور طب جیسے جدید علوم و فنون پڑھائے جاتے تھے، انگریز نے یہاں آ کر سب سے پہلے وہی کام کیا جس کیلئے اس کی طبیعت رواں تھی چنانچہ اس نے سب سے پہلے یہاں کے تعلیمی ڈھانچے پر نظر جمائی اور لارڈ میکالے جیسے دانشور کو اس کام پر لگا دیا کہ آپ ہندوستانیوں کیلئے یکساں تعلیمی نصاب کا بندوبست کریں پس کلکتہ یونیورسٹی، گورنمنٹ کالج اور فورمین کرسچن کالج جیسے جدید تعلیمی ادارے گوروں ہی کے توسط سے قائم ہوئے، یکساں تعلیمی نصاب بلاشبہ ایک شاندار تعلیمی نظم ہے بشرطیکہ اس کی بنیاد اضافی اور غیر ضروری مضامین کی بہتات پر مبنی نہ ہو بلکہ ایسے تمام تر مضامین کو طلبہ کی ذہنی ساخت اور اختیاری اْپج پر چھوڑ دیا جائے، اگر ہم آج کی جدید دنیا کے تعلیمی نصاب پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آج کی جدید دنیا کا تعلیمی نصاب ایک خالص سیکولر نصاب بن چکا ہے تو کیا ہم اس ناقابلِ مسترد حقیقت کو تسلیم کرنے کیلئے تیار ہیں؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر نصابِ تعلیم مساوی ہو یا غیر مساوی فی الحقیقت افادہِ اصلی سے منہا ہے، اگر آپ بضد ہیں کہ اخبارِ آحاد اور سنن ترمذی و نسائی ہر مسلمان کیلئے پڑھنا ضروری ہیں تو پھر یہ بھی یاد رہے کہ ایک الیکٹریکل انجینئر کیلئے روایت صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع کی وہی حیثیت ہو گی جو ایک فزیشن کیلئے قطب نما اور دوربین کی، پس یہی وجہ ہے کہ آج تہتر سال گزرنے کے بعد بھی ہم کوئی چار پانچ اعلیٰ ترین اور زرخیز دماغ بھی نہ پیدا کر سکے، جھوٹ، منافرت، فرقہ واریت اور منافقت پر مبنی اگر نصاب مختلف ہو یا یکساں قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا، فرق تو تب پڑتا ہے جب آپ کھری اور صاف ستھری تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں، ہمارے ہاں عموماً جو تاریخِ پاکستان پڑھائی جاتی ہے پھر کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ اگر سب کو مساوی طور پر پڑھا دی جائے یا کسی مخصوص سوشل کلاس کو، علمائے عجم نے جس طرح عرب پر یہ ظلم کیا کہ زمانہ قبل از اسلام کو دورِ جاہلیت سے تعبیر کر دیا بعینہ ہمارے ہاں بھی تاریخ قبل از قیامِ پاکستان کو بھی دورِ جاہلیت سمجھ کر ترک کر دیا گیا ہے حالانکہ اس ناروا امساک سے ہم اپنے پورے علمی و تمدنی نظم سے ٹوٹ کر رہ گئے ہیں، پس ایسی اندوہ ناک صورتحال میں سوال یہ نہیں پیدا ہوتا ہے نصاب یکساں ہو یا غیر یکساں بلکہ اصل مسئلہ یہ سامنے آتا ہے کہ نصاب کی ہیئت کس قدر مستند ہے، ذہانتِ اصلیہ اور دانشِ عالمیہ آج جدید وقت کی ایک انتہائی اہم اور لابدی ضروریات بن چکے ہیں مگر ہم آج بھی مفروضات و تصورات کی دنیا میں کھوئے ہوئے ساری دنیا سے الگ کسی لایعنی انانیت کی گھمن پھیری میں پھنسے ہوئے ہیں، قحط الخلق کے ساتھ ساتھ جس عجیب و غریب قحط الفکر کا شکار آج ہماری جدید طبع اور قدیم دماغ ہو چکا ہے اس کی مثال شاید ہی کہیں موجود ہو، تزکیہ، محاسبہ اور مناقشہِ ذات سے محروم ہم لوگ آج بھی اپنے غیر مفید اور لایعنی تصورات دنیا پر تھوپنے کے خواہاں ہیں، ہمیں سب سے پہلے تربیتِ ذات اور اپنے نظمِ تعلیم کی مبادیات پر توجہ دینا ہو گی اور اس میں جوہری تبدیلیاں لانا ہوں گی ورنہ جس طرح گزشتہ تہتر سال شغل میلہ میں گزر گئے آنے والا لامحدود وقت بھی اسی طرح مضرت رساں غفلت میں گزر جائے گا، ہمیں سب سے پہلے جس انتہائی بنیادی تعلیمی مسئلہ کی جانب توجہ دینا ہو گی وہ ہے تاریخ قبل از قیامِ پاکستان، جس کا صحیح معنوں میں ادراک حاصل کرنے کے بعد ہماری موجودہ اور نئی نسل کی ذہنی ساخت میں جوہری انقلاب رونما ہو جائے گا، کیا ہمارا طالب علم بابائے سیاست و معیشت دادا بھائی نوروجی سے واقف ہے؟ کیا ہم نے ابھی تک اپنے طالب علم کو پڑھایا کہ علم و حکمت کسی عقیدہ کے ہاں گروی نہیں پڑی ہوتی؟ کیا ہم نے اپنے طالب علم کو یہ تعلیم دی کہ قیامِ پاکستان سے قبل کا ہر عالم، فاضل، سائنسدان اور ریاضی دان صرف اور صرف ہمارا ہے اور ہم ان سے بہرصورت سیکھیں گے؟ کیا ہم نے اپنے طالب علم کو برصغیر کے عظیم ریاضی دان شری نواس رامانوجن اور ماہرِ طبیعیات، حیاتیات اور نباتات جگدیش چندر بوس اور ماہرِ ادویات و بدنیات اور نوبل پرائز انعام یافتہ ہرگوبند کھرانا جو ہماری ہی دھرتی رائے پور ملتان کا باسی اور ہماری قدیم تعلیمی درسگاہ گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی سے پڑھ کر آگے پہنچا کے بارے میں پڑھایا؟ یقیناً نہیں، تو پھر آپ نصاب یکساں ترتیب دیں لیں یا غیر مساوی فی الحقیقت کوئی فرق نہیں پڑنا.

مزید :

رائے -کالم -